71

عقیدہ ختم نبوت پرایمان/تحریر/علامہ ڈاکٹرمولانامحمد جہان یعقوب

ڈائریکٹر شعبہ ابلاغ عامہ وانچارج شعبہ تصنیف وتحقیق،جامعہ بنوریہ عالمیہ،سائٹ کراچی

عقیدہ ختم نبوت پرایمان لانا مسلمان بننے کے لیے بھی ضروری ہے اور مسلمان رہنے کے لیے بھی ضروری ہے۔یہ اس قدر حساس مسئلہ ہے کہ امام ابوحنیفہؒ فرماتے ہیں:اگر کسی نے کسی شخص کے سامنے نبوت کا دعویٰ کیااور اس شخص نے اُس سے اِس دعوے پر دلیل طلب کی،تو ایسا شخص بھی دائرہ اسلام سے خارج ہے۔قاضی عیاضؒ نے اپنی کتاب شفاء میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ۖکے بعد دعویٰ نبوت کرنے والے کو کافر اور کذاب اور رسول اللہ ۖکی تکذیب کرنےقرار دیاہے۔حجة الاسلام امام غزالیؒ فرماتے ہیں:بے شک آپ صلی اللہ علیہ وسلم ۖکے بعد نہ کوئی نبی ہوگا او رنہ رسول؛ اور اس پر اجماع ہے کہ اس لفظ میں کوئی تاویل و تخصیص نہیں اور اس کا منکر اجماع کا منکر ہوگا۔(الاقتصاد فی الاعتقاد صفحہ123)
امام العصر حضرت مولانا سید محمد انورشاہ کشمیری ؒتحریر فرماتے ہیں: سب سے پہلا اجماع جو اس امت میں منعقد ہوا وہ مسیلمہ کذاب کے قتل پر اجماع تھا۔جس کا سبب صرف اس کا دعوائے نبوت تھا۔ اس کی دیگر گھناؤنی حرکات کا علم صحابہ کرام کو اس کے قتل کے بعد ہوا تھا ،جیسا کہ ابنِ خلدون نے نقل کیا ہے ۔ اس کے بعد مدعیِ نبوت کے کفر و ارتداد اور قتل پر ہمیشہ اجماع بلافصل رہا ہے۔(خاتم النبیین صفحہ76)
حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلوی ؒنے تحریر فرمایا ہے: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ ٔحیات میں اسلام کے تحفظ و دفاع کے لیے جتنی جنگیں لڑی گئیں اُن میں شہید ہونے والے صحابہ کرام کی کل تعداد295ہے او رعقیدہ ختمِ نبوت کے تحفظ و دفاع کے لیے اسلام کی تاریخ میں پہلی جنگ جو سیدنا صدیق اکبررضی اللہ عنہ کے عہدِخلافت میں مسیلمہ کذاب کے خلاف یمامہ کے میدان میں لڑی گئی، اس ایک جنگ میں شہید ہونے والے صحابہ کرام اور تابعین کی تعداد بارہ سو(1200)ہے، جن میں سے سات سو(700) قرآن مجید کے حافظ اور عالم تھے۔( مسک الختام فی ختم نبوة سیدالانام)
ایک طرف تو مسلمانوں کی صفوں میں موجود ناسور اس عقیدے پر نقب لگانے کی کوشش ہر دور میں کرتے رہے،دوسرے: عالم کفر نے بھی ایسے عناصر کی ہمیشہ ہی پیٹھ ٹھونگی،حوصلہ افزائی ہی نہیںپشت پناہی بھی کی،جس کی وجہ سے ان فتنوں کا سلسلہ بھی روز افزوں رہا۔امت مسلمہ نے اس ختم نبوت کے مسئلے میں کسی قسم کے تساہل وتکاسل اور سستی وغفلت کا مظاہرہ نہیں کیا،یہی وجہ ہے کہ کسی بھی دور میں ختم نبوت کے عقیدے سے مسلمانوں کے ایمان کو متزلزل کرنے کی کوئی کوشش کام یاب نہ ہوسکی۔قیام پاکستان کے بعدوطن عزیزکوہائی جیک کرنے کی بھی کوشش کی گئی،بلکہ اعلیٰ حکومتی عہدوں پر براجمان قادیانیوں نے اس ملک کواس کے اصل مقصدقیام یعنی احیائے اسلام کی منزل سے دورکرنے کی بھی سعی نامشکوربرابرجاری رکھی۔پاکستان میں قادیانیوں کے مقابلے میں مسلمانوں نے مجلس تحفظ ختم نبوت کے نام سے جماعت قائم کی، جس کے پہلے امیر،امیرشریعت علامہ سید عطا اللہ شاہ بخاری بنے۔ پرامن طریقے سے جدوجہد چلتی رہی جس کا محور قانونی طور پر قادیانیوں اور لاہوریوں کو غیرمسلم اقلیت قرار دلوانا رہا۔ قومی اسمبلی میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے لیے یکے بعددیگرے دو قرار دادیں بھی پیش کی گئیں۔علماکی ان مساعی جمیلہ کانتیجہ تھاکہ بھٹو مرحوم نے،تمام تراندرونی وبیرونی خطرات اورہرقسم کے دباؤکونظراندازکرتے ہوئے 7ستمبر 1974ء کو اس نازک مسئلے کے حتمی فیصلہ کی تاریخ مقرر کردی۔ چھ اور سات ستمبرکی درمیانی رات بارہ بجے کے بعد مسلمانوں کا مطالبہ تسلیم کرلیا گیااور اگلے دن 7ستمبر کو ڈھائی بجے رہبر کمیٹی کا اورساڑھے چار بجے قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا،انجام کاربحث وتمحیص کے بعد تمام حاضر اراکین کے اتفاق سے مسلمانوں کا مطالبہ منظور کرکے جھوٹے مدعی نبوت مرزاغلام احمدقادیانی کے پیروکارمرزائیوں کے احمدی اورلاہوری دونوں گروپوں کودائرہ اسلام سے خارج قراردے دیاگیا۔
ہوناتو یہ چاہیے تھا کہ قادیانی آئینی فیصلے کو تسلیم کرکے بطورِاقلیت اپنے حقوق پر مطمئن ہوجاتے،مگر انھوں نے اوچھے ہتھکنڈے شروع کیے اورامت مسلمہ کے ایمان پرڈاکے ڈالنے کی مذموم کوششیں شروع کردیں،مغرب ویورپ کی پشت پناہی میں اپنے دجل وفریب کی تحریراًوتقریراًتشہیر کرنے لگے،اعلیٰ عہدوں تک رسائی حاصل کرکے ملک کی جغرافیائی ونظریاتی سرحدوں کو غیر محفوظ بنانے کی نامبارک ومنحوس کوششوں میں مصروف رہے،یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔اس پر فتن دور میں بھی اس اہم ترین عقیدے پر ضرب لگانے یا کم ازکم اس عقیدے کو بے اثر کرنے کی کوششیں ہوتی رہتی ہیں۔مسلمانوں کو یہ بات جان اور سمجھ لینی چاہیے کہ جو کوئی بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ۖ کی ختم نبوت کا انکار کرتا ہے یا اس کی کوئی ایسی تعبیر وتشریح کرتاہے،جو امت مسلمہ کے متفقہ عقیدے سے ٹکراتی ہے،یا کسی بھی ولی، پیر،غوث،قطب ،ابدال یعنی بڑی سے بڑی ہستی کو منصبِ نبوت پرکلی یاجزوی، ظلی یابروزی ،غرض کسی بھی انداز میں بٹھانے کی کوشش کرتاہے،تووہ مسلمان نہیں،مرتد وزندیق ہے اور مسلمانوں کے ایمان کا ڈاکوہے۔اس سلسلے میں ایک مسلمان مرد،عورت،بچے بڑے کے لیے اپنے عقائد اور ختم نبوت کے معنی ومفہوم اور تقاضوں سے آگہی ضروری ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں