مسجد اقصی میرے قبلہ اول ہم تجھ سے شرمندہ ہیں ہم تیرے لیے کچھ نہیں کر سکے ہم تیری حرمت پر قربان نہیں ہو سکے ہم نے سواۓ دعاؤں کے کچھ نہیں کیا ہم نے سواۓ لکھنے کے عملی طور پر تیرے لیے کچھ نہیں کیا
اے مسجد اقصی ہم کر بھی کیا سکتے ہیں ہم تو مجبور ہیں ہم تو غیر مسلم کے احسانات کے نیچے دھبے ہوۓ ان کے غلام ہیں بلا غلام بھی کچھ کر سکتے ہیں کرتے وہ ہیں جو غیرت مند ہوتے ہیں جو غیور ہوتے ہیں جو اپنے دین کے لیے اپنے مسلمانوں پے ظلم کے خلاف بولنے کی جرات رکھتے ہوں ہم تو غیر کے تابعدار ہیں ان سے اس قدر ڈرے ہوۓ ہیں کہ کھل کر کہیں بات نہیں کرتے کہیں اجتجاج نہیں کرتے کہ کہیں ہمیں دینے والے ہم سے ناراض نہ ہو جائیں ہم نے اس قدر غیروں پر سارا Depend کر لیا ہے کہ ہم ان کی مدد کے بغیر کہیں کہ نہیں رہتے ہم بری طرح محتاج ہو چکے ہیں اور محتاج تو اپنی پہچان اپنی خودی مار لیتا ہے وہ مانگتے ہوۓ شرم محسوس نہیں کرتا جب اندر سے ہی غیرت مر چکی ہو تو غلامی نصیب بن جاتی ہےسب بڑی مجبوری ہے کہ کہ ہم نے ایجادات میں ترقی نہیں کی جب آپ کے پاس وقت کے مطابق وسائل نہیں ہونگے آپ دوسروں کے محتاج ہی رہیں گے. مسلمانوں کو چاہیے کہ سائینس پر توجہ دیں اپنے بچوں کو زیادہ سے زیادہ ملکی سالمیت اور اس کی ترقی کی طرف راغب کریں نئ نئ ایجادات کریں وقت اور دورے حاضر کے تقاضے پورے کرنے کے لیے سائینس کی ترقی بہت ضروری ہے اپنی ملکی ضروریات پوری کرنے کے لیے خود کفیل ہونا پڑے گا. جب آپ ضروریات کو خود پورا کرنے کی طاقت رکھتے ہیں تو کوئ آپ کو مجبوری میں غلامی کرنے پر مجبور نہیں کر سکتا یاد رکھیں یہ دور سائینسی دور ہے ٹیکنالوجی کا دور ہے جو ترقی کرے گا یہ دنیا اس کے ساتھ کھڑی ہو گی. اب خود ہی دیکھ لیں دنیا میں سب سے زیادہ آبادی مسلمانوں کی ہے ایٹمی طاقت بھی ان کے پاس ہے لیکن پھر بھی پر طرف مسلمان پست خالی کا اور ظلم کا شکار ہیں آخر اس کے پیچھے کیا وجہ ہے وہ وجہ تلاش کریں غور فکر کریں. مسلمانوں کو اکھٹے ہو کر ایک دوسرے کی طاقت بننا پڑے گا اپنے وسائل میں خود کفیل ہونا پڑے گا. کوئ بھی جنگ ہو اس میں جزبہ ایمانی کے ساتھ مکمل حکمت عملی کی ضرورت ہوتی ہے سب مسلمان ممالک چاہیں خود کیسے گزارہ کریں ان کو اپنے اپنے ملک کو تعلیمی علمی طور پر اور ایجادات کے طور پر مضبوطی کی ضرورت ہے کیا وجہ ہے اب مسلمانوں نے ایجادات کرنی چھوڑ دی پہلے گزرے وقت میں مسلمانوں نے بہت سی ایجادات کیں اپنے بچوں کو ان کی ایجادات اور ان کی زندگیوں کے بارے میں معلومات فراہم کریں اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کی زندگیوں کے بارے میں مکمل آگاہی دیں
ہمارے پیارے پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا فرمان ہے علم لحد تک حاصل کرتے رہو اپنے بچوں کو نئ تعلیمات کے ساتھ ساتھ اپنے اسلامی ماحول اور صحابہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کی زندگیوں کے بارے میں پڑھائیں مسلمانوں میں جزبہ ایمانی پیدا کریں ان کو مضبوط قوم بنائیں بہادر نڈر ہر طرح کے ہتھیار سے لیس.
جب تک مسلمان علم کے اور سائینس کے میدان میں پیچھے رہیں گے یہ دوسروں کے محتاج رہیں گے
اب دیکھیں سب سے زیادہ اسلحہ امریکہ کی کمپنیاں بناتی ہیں اور ہم سب انہی سے اسلحہ خریدنے کے لیے ان کے محتاج سوچا ہے کیوں ایسا ہے؟
جاپان نے آئٹم بم کی تباہی کے بعد اپنے ملک کو ترقی کے عروج تک پہنچایا یہ سب کیسے ممکن ہوا سوچیں
ہمارے ملک کی آزادی کے بعد بہت سے ملک آزاد ہوۓ وہ ہم سے آگے نکل گے کیسے؛؟
جب تک ہم اپنے آپ سے سوال نہیں کرتے اپنی خامیوں سے آگاہ نہیں ہوتے ہم ترقی کی طرف گامزن نہیں ہو سکتے. اپنے ذہنوں کو آزاد کیجیۓ سر اٹھا کر جینا سیکھیں سر جھکا کر تو غلام چلتے ہیں اور غلام کی اپنی کوئ سوچ نہیں ہوتی کوئ راۓ نہیں ہوتی بلکہ کوئ اہمیت نہیں ہوتی اسے مالک جدھر جیسا حکم دیتا ہے وہ سرجھکاۓ ویسا ہی کرتا ہے چاہے اس کی پسند شامل ہو یا نہ ہو
یاد رکھیں
غلاموں کو کوئ یاد نہیں کرتا یاد رہتے ہیں تو دلیر جری بہادر جو سر اٹھا کر چلتے ہیں دنیا کا مقابلہ کرتے ہیں. جو جھک جاتا ہے ڈر جاتا ہے اسے پیروں کے نیچے روند دیا جاتا ہے
اب آپ نے سوچنا ہے آپ نے کیسی زندگی بسر کرنی ہے.
دور حاضر سے سبق سیکھیں ہمارا قبلہ اول بیت المقدس کو اس وقت بہادر مسلمانوں کی ضرورت ہے تو کیا ہم مدد کر پا رہے ہیں ہمارا کیا کردار ہے. یہی مخلص سچے دل سے سوچیں تو ہم مجرم ہیں ہم ڈرپوک ہیں اپنے قبلہ اول کو بچا نہیں پا رہے
افسوس مسلمانوں افسوس ہے ہماری اس خاموشی پے
ہمارے کانوں میں بےگناہ فلسطینی شہیدوں کی چیخیں سنائی نہیں دیے رہی لہو لہو نہاتے بچے. بوڑھے جوان دیکھائ نہیں دیے رہے پیاس سے بےحال مسلمان کسے مسیحا کی تلاش میں ہیں لیکن وہ کیا جانیں اب کوئ اصلاح دین ایوبی نہیں شاید سب مسلمان اپنے مفاد میں اندھے گونگے بہرے ہو چکے ہیں
کاش کوئ ہوتا جو بےیارومددگار فلسطینیوں کی مدد کر سکتا جس کی جرات اور ہبت سے کفر اور ظلم کا نظام لرز جاتا
ہے کوئ جو فلسطینیوں کی فریاد سُنے
85