مسجدِ اقصی کی طرف حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سترہ مہینے منہ کرکے نماز پڑھی ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ بیت المقدس (مسجد اقصی) کو دیکھنا دنیا و وما فیھا سے بہتر ہے ۔ بطور مسلمان بیت المقدس سے محبت ہمارے ایمان کا حصہ ہے ۔ فلسطین سر زمین انبیاء مسلسل اسرائیل کی زد میں ہے ۔ دنیا کی سب سے بڑی جیل عزہ کی پٹی میں مظلوم فلسطینی حضرت عمر راضی اللہ تعالیٰ عنہ جیسی کی شخصیت کے انتظار میں ہیں جو جو بیت المقدس کو بھی آزاد کروائے اور مظلوم فلسطینی عوام کے جان و مال کو بھی محفوظ بنائے ۔
لیکن افسوس صد افسوس اس وقت امت مسلمہ کے پاس نہ تو حضرت عمر فاروق راضی اللہ تعالیٰ عنہ جیسی کو شخصیت ہے اور نہ ہی نظام مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہ کے تحت قائم کردہ خلافت جیسا کوئی ادارہ ہے ۔
اس وقت فقط حماس نامی تنظیم نہ صرف سر زمین فلسطین کے دفاع میں مصروف عمل ہے بلکہ تمام امت مسلمہ کے قبلہ اول کی بھی حفاظت کرنے کی کوشش کر رہی ہے ۔ آج کے روز 11 اکتوبر 2023ء کو امریکہ کا بحری بیڑہ جدید ترین اسلحہ لے کر اسرائیل روانہ ہوچکا ہے اور دوسری طرف امت مسلمہ صرف او آئی سی کے اجلاس کی تیاری فرما رہی ہے ۔ تمام امت مسلمہ کے لیے یہ وقت ہے کہ امت بنیں اور اسرائیل پر وہ قیامت بن کر برسیں کہ صہیونی سامراج کی روح تک کانپ اٹھے ۔ ایٹمی بم قبروں میں لے کر نہیں جانے بلکہ یہ دفاع کے لیے ہیں اور اگر آج یہ ایٹم بم امت مسلمہ میں موجود مظلوم بھائیوں کی مدد نہیں کر سکتے تو پھر ان کو اپنے قبروں میں ساتھ دفن کیجئے گا ۔
ہم مسلمان آج دنیا میں مظلوم بن کر زندگی بسر کر رہے ہیں اور پھر دہشت گردی کے الزامات بھی مسلمانوں پر ہی لگتے ہیں اور پابندیاں بھی یہ مسلمان برداشت کرتے ہیں ۔ ہم کب تک عالمی طاقتوں کے سامنے سر جھکاتے رہیں گے ؟ کب تک اقوام متحدہ کے نام نہاد قراردادوں پر عمل کرنے کی بھیک مانگتے رہیں گے ؟ کب تک ہم امن کے مطالبات کرتے رہیں گے ؟ یہ وقت ہے جنرل ضیاء الحق کی طرح دشمن کو پیغام دینے کا کہ اگر تم پر ایک ایٹم بم گر گیا تو تمام عالم انسانیت سے یہودی صہیونی اور صہیونیت کا نام و نشان مٹ جائے گا ۔
102