136

قوم مسلم کی ذلت ورسوائی کا سبب/تحریر/نجیب اللّٰہ مہترزئی

آبرو باقی تری ملت کی جمیعت سے تھی
جب یہ جمعیت گئی دنیا میں رسوا تو ہوا
آج پوری دنیا میں امت مسلمہ ذلیل وخوار ہو رہی ہے ہرطرف سے اسے طعن و تشنیع کی جارہی ہے ہر ملک میں سینکڑوں نہیں کروڑوں کی تعداد میں مسلمان موجود ہیں پھر بھی کوئی رعب ودبدبہ نہیں ،کوئی عزت و وقار نہیں ، مسلمانوں کی ہوا اکھڑ چکی ہے دنیا کا کوئی ملک بھی ان سے نہیں ڈرتا اور وہ ہر کسی سے ڈرتے ہیں عالمی سطح پر ان کا مذاق اڑایا جارہاہے ان کو ایک کمزور امت تصور کیا جارہاہے ۔
آج مسلمانوں کے ساتھ کیا نہیں کیا جارہا ہے کون سے ایسے مظالم ہیں جن کو مسلمان برداشت نہیں کر رہےہیں ایک ہی دن میں ہزاروں کی تعداد میں مسلمان شہید ہوتےجارہے ہیں حتیٰ کہ معصوم بچے بچیاں بھی محفوظ نہیں انہیں بھی شہید کررہے ہیں یہودی غاصبوں نے سات دن کی نبیلہ نوفل کو بھی نہ بخشا انہیں بھی شہید کیا پوری دنیا ہماری لئے وحشت وبربریت کی آماجگاہ بنی ہوئی ہے۔عالم کفر تماشائی بن کر دیکھ رہا ہیں ۔آج کیوں ہماری حالت ایسی ہوگئی ہے کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے
سوئی ہوئی قومیں جاگ اٹھیں بیدار مسلمان سوتا ہے
گہوارہ قلب مومن میں اب جزبہ ایماں سوتا ہے ۔
حالانکہ یہ وہ امت ہے جسے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلسل محنت اور تربیت کے بعد باہم شیر و شکر بنا دیا تھا جو اشداء علی الکفار اور آپس میں رحماء بینھم تھےان کے پاس جدید اسلحہ اور ساز و سامان کی طاقت نہیں تھی لیکن آپس کی اتحاد و اتفاق کی قوت ان کے پاس تھی تب ہی تو ان سے قیصر و کسریٰ جیسے سپر طاقتیں لرزہ براندام تھی۔
وہ نہتے تین سو تیرہ تھے مگر انہوں نے ایک ہزار کے مسلح اور تربیت یافتہ لشکر کو شکست دے دی اور ایسا بھی ہوا کہ مسلمان تین ہزار تھے اور انہوں نے حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کی قیادت میں شام کے میدانوں میں دولاکھ رومیوں کو ان کے اپنے گھر میں جاکر شکست فاش دی ۔
پہلے تو مسلمان جس طرف قدم بڑھاتے تھے بڑھتے اور پھیلتے چلے جاتے تھے باطل کی کوئی قوت و طاقت ان کی راہ میں حائل نہیں ہوسکتی تھی علامہ اقبال نے کیا ہی خوب کہا ہے
مغرب کی وادیوں میں گونجی اذاں ہماری
تھمتا نہ تھا کسی سے سیل رواں ہمارا
آج ہماری کمزوری کی وجہ سازوسامان کی کمی نہیں ،ہماری کمزروی کی وجہ بی باون طیاروں ،ٹینکوں،اور ایٹم بموں وگولہ بارود کا فقدان نہیں ،ہماری کمزروی کی وجہ تربیت یافتہ فوجوں کی قلت نہیں، ہماری کمزروی کی وجہ سائنس اور جدید ٹیکنالوجی کا عدم حصول نہیں ،ہماری کمزوری کی وجہ پٹرول ،ڈیزل اور مال و دولت و سیم و زر کی قلت نہیں ،
بلکہ ہماری کمزوری کا اصل وجہ اتحاد و اتفاق کا فقدان ہے ہمارے ہاں اتفاق و اتحاد کا شیرازہ بکھر گیا ہے پوری امت ذات پات ،رنگ ونسل ،قبیلہ وخاندان کی لڑائی میں مصروف نظر آتی ہے ،ہر قبیلہ ہر برادری خود کو بلند نسب اور بلند منصب ثابت کرنے میں اپنا وقت صرف کررہی ہے۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے رنگ ونسل اور ذات برادری کے فرق کو مٹا کر صرف ایک ہی اصول بناکر بھیجا ہے اور لوگوں کو ہدایت کی ہے کہ جو شخص بھی مومن ہے وہ تمہارا بھائی ہے حدیث میں آتا ہے کہ پوری ملت اسلامیہ جسم واحد کی طرح ہے جس طرح ہاتھ کی ایک انگلی میں کانٹا چبھ جائے تو ہر گز ممکن نہیں کہ جسم کے دوسرے اعضاء اس کی تکلیف محسوس نہ کریں ،کیونکہ پوری ملت ایک جسم کی طرح ہے اور تمام مسلمان اس جسم کے اعضاء و جوارح ہیں ،اس لئے اگر ایک مسلمان کو کوئی تکلیف ہو تو دوسرے مسلمان کے دل میں اس کا درد ہونا چاہئیے ۔لیکن آج مسلمان اس کے برعکس عمل پیرا ہیں ۔
آج سارا کفر ایک ملت بنا ہوا ہے امریکی صدر جو بائیڈن اسرائیل پہنچ کر اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سے گلے لگاکر اظہار یک جہتی اور تسلی دیتا ہے دوسری طرف مسلم حکمرانوں میں سے کوئی بھی حکمران نہ ابھی تک فلسطین گیا ہے اور نہ ہی عملی طور پراہل فلسطین کے ساتھ اظہار یک جہتی کیا ہے آج ایک طرف فلسطین کے مسلمان ناقابل بیان مظالم کی چکیوں میں پیسے جارہے ہیں اور دوسری طرف باقی مسلمان روٹین کی زندگیاں گزاررہے ہیں خوش وخرم، ہنس، کھیل، کھا پی رہے ہیں۔ایک طرف فلسطینی مسلمانوں پر ہونے والے اسرائیلی مظالم نے ہر اس دل کو لہو کردیا ہے جس میں انسانیت کی ہلکی سی بھی رمق موجود ہے ۔دوسری طرف
پنجاب حکومت نے بے حسی کی تمام حدیں پار کردی اور لاہور میں سولہ دن کا میوزک فیسٹیول منانے کا اعلان کیااور غزہ کی صورتحال نظر انداز کیا ۔ایک طرف انسانی
تاریخ شاید پہلی بار یہ تکلیف دہ ترین منظر دیکھ رہی ہے کہ فلسطین کے بچے اور نوجوان اپنی ہتھیلیوں پر اپنا نام لکھ رہے ہیں تاکہ اگر اسرائیل کی بمباری سے شہید ہو جائیں تو ان کے والدین کو ان کی لاش پہچاننے میں مشکل نہ ہو، فلسطینی مسلمان المدد المدد سے تمام مسلم حکمرانوں کو پکار رہے ہیں ۔دوسری طرف امت مسلمہ کے 57ملک فقط زبانی مذمت پر اکتفا کئے ہوئے ہیں کسی میں ان کی مدد کرنے کی ہمت نہیں ہے ۔
یہ وقت مذمت کرنے کا نہیں بلکہ یہ وقت ہے عملی طور پر میدان میں آنے کا یہ وقت ہے علی الاعلان جہاد کرنے کا یہ وقت ہے اتفاق و اتحاد کا ، کیونکہ اتحادواتفاق قرآن کی پکار ہے اتحاد قوت وشوکت کا اہم ترین عنصر ہے اتحاد کامیابی کی کلید ہے اتحاد کی تلقین حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بار بار فرمائی ہے اتفاق و اتحاد ہی کے ذریعہ قوم کو عروج حاصل ہوتا ہے اتفاق و اتحاد ہی کے ذریعہ جہاد کیا جاسکتا ہے اتفاق و اتحاد ہی کے ذریعہ غیر قوموں پر رعب و دبدبہ حاصل ہوتا ہے اتفاق و اتحاد ہی سکون وراحت کی زندگی بخشتا ہے اتفاق و اتحاد ہی ایک دوسرے کی ہمدردی اور خیر خواہی کا جذبہ بیدار کرتا ہے اتفاق و اتحاد ہی انسانی سماج ومعاشرہ اور ملک کی تعمیر میں کلیدی کردار ادا کرتاہے۔ شاعر نے خوب کہا ہے ۔
فرد قائم ربط ملت سے ہے تنہا کچھ نہیں
موج ہے دریا میں اور بیرون دریا کچھ نہیں
منفعت ایک ہے اس قوم کی نقصان بھی ایک
ایک ہے سب کا نبی دین بھی ایمان بھی ایک
حرم پاک بھی اللّٰہ بھی قرآن بھی ایک
کچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں