
لیلۃ الجائزہ کی اہمیت
لیلۃ الجائزہ یعنی انعام ملنے والی رات ۔ رمضان المبارک کے اختتام پر عید کے دن سے پہلی رات کو عرف عام میں چاند رات کہا جاتا ہے ۔اس رات کے بہت فضائل ہیں ،ان فضائل کو حاصل کرنے کے لیے اس رات میں فضولیات اور گناہوں سے بچنا چاہیے اور عبادت کرنی چاہیے ۔یہ رات ان مسلمانوں کے لیے انعام حاصل کرنے کے لیے خاص ہے جنہوں نے رمضان المبارک میں رات دن اللّٰہ پاک کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے محنت کی۔ اب سمجھداری کی بات تو یہ ہے کہ مزدور کو جب مزدوری ملنے کا وقت آئے تو وہ کوئی ایسا کام نا کرے جو مالک کو ناراض کرنے والا ہو تاکہ وہ مزدوری حاصل کرنے کی بجائے مالک کی ناراضگی کا مستحق نا بن جائے۔
حضرت ابو امامہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں:جس نے عیدین کی راتوں میں اللّٰہ رب العزت کی رضا چاہتے ہوئے قیام کیا ،اس دن اس کا قلب مردہ نہیں ہوگا جس دن قلوب مردہ ہو جائے گے۔
(سنن ابن ماجہ:1782)
حضور اقدس صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اللّٰہ تعالیٰ رمضان المبارک میں روزانہ افطار کے وقت ایسے دس لاکھ آدمیوں کو جہنم سے آزاد کرتے ہیں جو جہنم کے مستحق ہو چکے ہوتے ہیں اور جب رمضان کا آخری دن ہوتا ہے تو اس دن یکم رمضان سے آج تک جتنے لوگ جہنم سے آزاد کیے جاتے ہیں ان کے برابر اِس دن میں آزاد کیے جاتے ہیں ۔(فضائل رمضان)
بعض لوگ یہ مبارک رات کھیلوں میں،خرید و فروخت اور ٹی وی پروگرامز دیکھنے میں گزار دیتے ہیں،ٹی وی بہت سے گناہوں کا مجموعہ ہے جس کی بناء پر اس کا دیکھنا ناجائز ہے۔ پھر اس مقدس رات میں ٹی وی پروگرامز دیکھنا بہت بڑی قباحت ہے۔اس نامراد چیز سے بالعموم اور اس شب میں بالخصوص بچنا چاہیے۔
بہت سے لوگ اس رات میں بازاروں کی سجاوٹ اور چمک دھمک میں وقت ضائع کردیتے ہیں،حالانکہ بازار ایسی جگہ ہے جس کو روایات میں مبغوض قرار دیا گیا ہے اللّٰہ پاک کے نزدیک۔
بعض لوگ اس رات ہوٹلوں میں ٹھنڈے اور گرم مشروب پینے میں مشغول رہتے ہیں اور فضول ادھر اُدھر کی باتوں میں بلکہ گناہ کی باتوں میں مقدس رات کو ضائع کردیتے ہیں۔
بہت سے لوگوں کو اس رات کی فضیلت کا علم نہیں ہے جس کی وجہ سے انہوں نے اس رات میں کبھی بھی دعا،استغفاراور عبادت کی طرف توجہ نہیں کی جس کی وجہ سے انہوں نے اپنی زندگی کی قیمتی راتوں کو ضائع کردیا۔
اور بعض لوگ ایسے ہیں جنہیں اس کی فضیلت کا علم ہے اور علم دین سے نسبت ہے لیکن دیکھا جاتا ہے کہ وہ بھی اس رات کو اہمیت نہیں دیتے اور اگر کوئی ان کو اس کی طرف توجہ دلائے تو جواب دیتے ہیں کہ اس رات عبادت کرنا فرض یا واجب نہیں ہے۔
پھر اللّٰہ اور اس کے رسول صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی تمام ترغیبات کیا فضول ہیں؟
دیکھیے کس قدر افسوس کی بات ہے اگر اہل علم اس کی فضیلت کی طرف دھیان نہیں دیتے یہ سوچ کر کہ فرض یا واجب نہیں ہے پھر ان پڑھ لوگ اپنی جہالت کی وجہ سے اہتمام نا کریں تو امت میں سے کون اس پر عمل کرے گا؟
بعض تاجر اس رات میں اپنی دنیا وی مشغولیات کو بڑھا لیتے ہیں یہاں تک کہ فرض نمازیں بھی رہ جاتی ہیں جو کسی بھی طرح جائز نہیں ہے۔ لہذا ایسے کاروباری لوگوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ عشاء اور فجر کی نمازیں باجماعت ادا کریں اور کام کے دوران ذکر اور دعا کو جاری رکھیں تاکہ وہ بھی اس رات کی فضیلت کو حاصل کر سکیں۔ بات اصل میں فکر اور طلب کی ہے جس چیز کی جتنی اہمیت انسان کے دل میں ہوتی ہے اس کے لیے اتنی ہی کوشش کی جاتی ہے۔اگر کسی کے دل میں ایک ذرہ برابر بھی اہمیت ہو وہ سخت سے سخت کام میں اس کی فضیلت کو حاصل کرنے کے لیے کوئی راستہ نکال لیتا ہے۔
اور جس کے دل میں صرف دنیا ہی کی طلب ہو اس کا نفس مختلف حیلے بہانے تلاش کر کے اسے اس شب کی برکات سے محروم کردے گا ۔
لہذا یہ رات بڑی مبارک اور انتہائی اہم ہے۔ اس کو ضائع نا کیا جائے بلکہ اس رات میں جتنا ہوسکے نفلی عبادت کی جائے ،استغفار اور دعائیں کی جائیں ۔اگر کوئی شخص پوری رات نہیں جاگ سکتا تو وہ صرف اتنی دیر عبادت کرے جتنی وہ آسانی کے ساتھ کرسکتا ہو۔
اللّٰہ پاک کی رحمت واسعہ سے امید ہے کہ وہ اپنے کمزور بندوں سے اتنا ہی قبول فرما لیں اور اپنی رحمتوں سے محروم نا رکھے گے۔