77

ماہ اگست!خوش آمدید/تحریر /شاہد جمیل منہاس/ماہر تعلیم/ساگری


معروف ادیب اورتخلیق کار ممتازمفتی اپنے ا مضمون”رام دین“میں بیان کرتے ہیں کہ۴۳۹۱ء کے عشرے میں ان کاتبادلہ گورنمنٹ سکول دھرم شالہ میں ہو گیا۔ ممتازمفتی اس سکول میں واحدمسلمان استادتھے۔ہوایوں کہ ایک دن انہوں نے اپنے ایک شاگردسے کہاکہ بیٹا!جلدی سے مجھے ایک گلاس پانی پلادو،پیاس لگی ہے۔وہ لڑکاانتہائی ادب سے ان کے پاس آکرکھڑاہوگیااوراس نے اپناسرنیچاکرلیا۔ممتازمفتی نے اس لڑکے سے کہاکہ بیٹامجھے ایک گلاس پانی لادو۔اس کے بعدوہ بولاکہ ماسٹرجی!میں آپ کوپانی نہیں پلاسکتا۔ماسٹرجی نے پوچھاکہ کیوں؟تولڑکاکہنے لگاکہ”مہاراج!میرادھرم بھرشٹ جائے گا۔“ اس واقعہ سے ہم اندازہ لگاسکتے ہیں کہ ہندوؤں کااس طرح کاحقارت انگیزرویہ صرف ایک شاگردیاانفرادی معاملات تک محدودنہیں بلکہ پورے ہندوستان کے مسلمانوں تک پھیلاہواتھا۔یعنی وہ مسلمانوں سے نفرت کرتے تھے۔ماضی کے یہ واقعات دہرانے کا مقصد یہ ہے کہ ہمیں اندازہ ہوسکے کہ جس نریندرمودی کے ساتھ ایک میزپربیٹھ کرہم یاہماراکوئی بڑاکھاناکھاتاہے تویہ وہی نریندرمودی ہے کہ جس کی نسل کے پیروکاروں نے ماضی میں مسلمانوں کے ساتھ وہ ناروا رویہ اپنایا کہ جس کی مثال نہیں ملتی۔آسٹریلین نژادمحمداسداپنی خودنوشت”بندہئ صحرائی“میں لکھتے ہیں کہ ۳۳۹۱؁ء میں ایم۔ اسدہمراہ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ کوہ ہمالیہ کے دامن میں واقع جوگندرسنگھ ریلوے اسٹیشن پرپہنچے تومعلوم ہوا کہ پٹھان کوٹ جانے کے لئے دوگھنٹے بعدوالی ایک ریل گاڑی پرجاناپڑے گا۔چنانچہ اس نے سوچاکہ اتنی دیرہم قریبی بازاروں کاسروے کرلیتے ہیں۔وہ کہنے لگے کہ ہم گھوم رہے تھے کہ ہماری نظرایک دودھ والی دکان پرپڑی۔یہ منظردیکھتے ہی ہمارادل چاہاکہ دودھ پیا جائے۔ جب ہم قریب گئے تودکاندارپیالے میں ایک آوارہ کتے کودودھ پلارہاتھا۔یہ منظر ہمیں بہت منفرداوراوراچھالگاکہ اللہ کی مخلوق پررحم عیاں ہورہاتھا۔ہم نے اس سے پنجابی میں کہا کہ ہم نے بھی دودھ پیناہے۔اسے فوراً ً ً معلوم ہوگیاکہ ہم مسلمان ہیں۔لہٰذااس نے وہ کتے والا گلاس کھنگالااوردیوارمیں بنے ہوئے طاقچے کی طرف اشارہ کرتے کہاکہ گلاس اٹھاکرمیرے آگے لائیں،میں ان میں دودھ ڈال دوں۔یہ سن کرمیں نے اپنے دوست سے حیرت انگیزاندازمیں وضاحت مانگی تواس نے بتایاکہ ہم مسلمان ہیں اوریہ لوگ نہیں چاہتے کہ اس برتن کوہاتھ تک لگائیں جس میں مسلمان کھائیں یاپئیں۔وہ کہنے لگاکہ یہ سنتے ہی میراچہرہ غصے سے سرخ ہوگیاکہ وہ کتے کوتواپنے ہاتھ سے دودھ پلارہاتھامگرایک مسلمان کواپنے ہاتھ سے ناپاک برتن تک دیناگوارہ نہیں کررہا۔میرے اس تندوتیزلہجے کودیکھ کردکاندارنے وہ گلاس اٹھالیا۔میں نے گلاس اس سے چھین لیااوراس ناپاک گلاس کولبالب دودھ سے بھرکراسے دوبارہ سارے دودھ میں ڈال دیااوراس طرح سارادودھ ناپاک ہوگیا۔گلاس کودورپھینکتے ہوئے میں نے جیب سے سوروپے نکالے اوراس دکاندار کے منہ پردے مارے جوکہ اس سارے دودھ کی قیمت تھی۔اس طرح ذات پات اورپاک و ناپاک کے ہندوتصورکایہ اولین مجادلہ تھاجومیں نے کیا۔“حالات وواقعات کے پیرائے میں نچوڑیہ نکلتاہے کہ ہندوؤں ہی کی تنگ نظری کی وجہ سے ہندوستان کے مسلمان اورہندوایک ہزار برس تک اکٹھے رہے مگرایک قوم نہ بن سکے۔مسلمانوں نے کبھی ہندوؤں سے اس حد تک نفرت نہ کی کہ جتنی نفرت ہندوؤں نے مسلمانوں کے ساتھ روارکھی۔مسلمانوں نے اپنے مذہبی امورمیں دخل اندازی بھی برداشت نہ کی مگرایک انسان کادوسرے انسان سے جورویہ اسلام بتاتاہے اس رویہ کوہمیشہ ملحوظ خاطررکھا۔اسلام چونکہ انسانیت کے تحفظ کادرس دیتاہے نہ کہ صرف مسلمانوں کے تحفظ کا۔اس لئے ایک مسلمان ہردورمیں ہندوؤں کے باقی معاملات میں دخل اندازی سے گریزکرتارہا۔مگریہ بات طے ہے کہ ہندوؤں اورمسلمانوں کے درمیان کھانے کی میزپرموجودلکیرنے آخرکار سرحدوں کے درمیان لکیرکھینچ کریہ ثابت کردیاکہ یہ دوقومیں آپس میں مل کرکبھی اپنے معاملات نہیں چلا سکتیں۔مسلمانوں کے افکاراورنظریات خداترسی پرمنحصرتھے اورہیں۔مگرہندوؤں کے نزدیک ایک مذہب کی آڑمیں کچھ بھی کرگزرناجائزہے۔لہٰذاتاریخ گواہ ہے کہ ہندوؤں نے سکھوں کے ساتھ مل کرمسلمانوں کے شیرخواربچوں کے دوٹکڑے کرتے ہوئے اقوام عالم کوباورکرادیاکہ ہندوبظاہرانسان نظرآتاہے مگردرحقیقت یہ دوٹانگوں والاایک درندہ ہے۔ آج کشمیرکے مسلمانوں کے حالات پوری دنیاکے سامنے ہیں۔یہ وہی ہندوہے جو حاملہ مسلمان خواتین کواس بے دردی سے سزادیتاہے کہ ان کے ہونے والے بچے ان کے پیٹ میں ہی دم توڑجاتے ہیں۔یہ وہی ہندوہے کہ جس نے اسلامی عمارتوں کوتہس نہس کرکے یہ ثابت کیاکہ یہ وہ درندہ ہے کہ جب تک یہ انسانی گوشت نہ کھالے تب تک اس کی حاجت روائی نہیں ہوتی۔قیام پاکستان کی راہ ہموارکرنے کے لئے ہندوؤں کے مظالم نے اہم کرداراداکیا۔قائداعظم محمدعلی جناحؒ کی جوانی کے دنوں میں بھی ہندوؤں کی جارحیت ناقابل برداشت تھی۔قائداعظمؒنے اپنالڑکپن اورنوجوانی اورپھرجوانی محنت کی نذر کیوں کردی؟اس لئے کہ قائداعظمؒ کومعلوم تھاکہ اگرمحنت اورلگن سے کام کیاجائے تو کامیابی ضرورقدم چوماکرتی ہے۔قائداعظمؒنے محنت کرتے ہوئے اپنی راتوں کی نیندکی پرواہ کئے بغیراپنادن رات ایک کردیا۔قائداعظمؒنے جاگتے ہوئے قیام پاکستان کاخواب دیکھناشروع کیاعلامہ اقبالؒنے فورًایقین دہانی کروائی کہ یہ قوم الگ رہ کرہی خوش رہ سکتی ہے۔ لہٰذا علامہ اقبالؒنے اپنے خواب کوشاعری کی شکل میں عیاں کرناشروع کیا تو قائداعظمؒ نے ڈاکٹراقبالؒکی سوچ اورفکرکوعملی جامہ پہنانے کے لئے پوری قوم کی ارواح کو بیدارکرناشروع کردیا۔پھرایک وقت آیاکہ ہندوستان کے ہرمردوزن،بچے اور بوڑھے، حتّٰی کہ نوجوان نسل نے فضول کاموں کی بجائے محنت پراپنی توجہ مرکوزکرتے ہوئے قیام پاکستان اورتحریک پاکستان کے لئے قدم اٹھائے۔یہ قدم روشنی کی رفتارسے زیادہ تیزنکلے اوراللہ کی ذات نے اس قوم کے ایک قدم کے بدلے اسے کوسوں میل کافاصلہ طے کروا کر اپنے دین کی سربلندی کے لئے راہ ہموارکرناشروع کی۔اس دورکے ناموروں کی لسٹ بہت طویل ہے،بس اتناکہوں گاکہ قائداعظمؒجیسے سپہ سالارکی زیرنگرانی ہرسپاہی سب کچھ کر گزرنے کے لئے تیارتھا۔اورجب کوئی کلمہ گواپنی جان ہتھیلی پررکھ لے تو ناکامیاں کوسوں میل دوربھاگ جایاکرتی ہیں اورکامیابیاں اس قوم کامقدربن جایاکرتی ہیں۔آج تاریخ کے اوراق نے ساری دنیاکوبتادیاکہ ایک ہندوجوکسی زمانے میں اپنے مسلمان استادکوپانی تک پلاناگوارانہ کرتاتھاکہ وہ ناپاک ہوجائے گا۔اورایک ہندودکاندارجومسلمان کوکوئی چیزفروخت کرنابرداشت نہ کرتاتھا،یہ تمام رسومات اپنی موت آپ مرگئی ہیں۔آج پوری دنیا ہندو بننے پرلعنت بھیج رہی ہے کہ یہ بے گناہ مسلمانوں کی قاتل قوم ہے۔۴۱اگست،۷۴۹۱؁ء کامعرض وجودمیں آنے والاپاکستان کل بھی زندہ بادتھااورآج بھی زندہ بادہے۔اوروہ وقت دورنہیں کہ جب کشمیربنے گاپاکستان!انشاء اللہ!!۔ لہٰذا خوش آمدید ماہِ آزادی خوش آمدید ۴۱ اگست۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں