54

ماہ رمضان کی روایات اور سب سے لمبا و مختصر مختصر کن ممالک میں ہوتا ہے/تحریر/عبدالجبار سلہری/جویا شریف

رمضان المبارک اسلامی سال کا ناواں مہینہ ہے۔ یہ بڑی برکتوں رحمتوں اور عظمتوں والا ہے۔ پوری دنیا کے مسلمان اس ماہ میں جوش وجذبے سے روزہ رکھنے کا اہتمام کرتے ہیں۔ رمضان شروع ہوتے ہی انتظام و انصرام کا سلسلہ جاری ہو جاتا ہے۔ مرد اپنے کام کاج کے ساتھ ساتھ روزے کا پورا اہتمام اور عورتیں گھریلو ذمہ داریاں زیادہ ہونے کے باوجود خوش و خرم باعثِ اجر و ثواب سمجھتے ہوئے افطاری و سحری کے نہایت عمدہ، اعلی انتظامات کرتی ہیں۔اس ماہِ مبارک میں دنیا میں جہاں کہیں بھی مسلمان موجود ہیں وہاں ان علاقوں کی رسم و رواج کے ساتھ ساتھ مذہبی تہوار بھی منایا جاتا ہے۔ مختلف اسلامی ممالک میں کس طریقے سے رمضان المبارک کو خوش آمدید کہا جاتا ہے اور اس کی برکتوں سے کس طرح لطف اندوز ہوا جاتا ہے اس کو قلم بند کرنے کو کوشش کرتا ہوں ۔مساحراتی اس شخص کو کہا جاتا ہے جو رمضان کی راتوں میں سحری کے کھانے کے لیے مسلمانوں کو جگانے کا کام کرتا ہے۔ مشہور ہے کہ وہ ڈھول بانسری،دف،ٹین بجا کر لوگوں کو سحری کھانے کے لیے جگاتا ہے۔ اسلام میں سب سے پہلے صحابی رسول “بلال بن رباح” تھے۔ جو کہ رات کو لوگوں کو نماز تہجد کے لیے جگایا کرتے تھے تاکہ وہ اٹھ کر سحری کھائیں۔ ان سے پہلے صحابی رسول “عبداللہ ابن ام مکتوم” اذان دیتے تاکہ طلوع فجر اور روزے کے وقت کے فرق معلوم کر سکیں۔ جہاں تک ان کے بعد پہلی مساحراتی کا تعلق ہے جو آج بھی مستعمل ہے۔ تاریخ میں “عتبہ ابن اسحاق” نام ملتا ہے۔ جو ساتویں صدی عیسوی میں مصر کا گورنر تھا۔ جب وہ رات کو قاہرہ کی گلیوں میں گھومتا تھا اور لوگوں کو پکارتا تھا۔ اللہ کے بندو سحری کھاؤ کیونکہ سحری میں برکت ہے۔ اے سونے والےجاگ جا، اللہ کو راضی کر لے۔پاکستانافطار کے دسترخوان کی زمہ داری گھریلو خواتین سنبھالتی ہیں۔ جتنا خوبصورت سفرہ اتنی ہی عورتوں کی سلیقہ مندی، ظرافت کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ کھجور، پکوڑے، سموسے، مشروب، پھل، دہی بھلے، فروٹ چاٹ، وغیرہ ہر گھر کے دسترخوان کی زینت ہی نہیں بلکہ باعثِ اجر و ثواب سمجھتے ہوئے ہمسائیوں اور محلے کی مساجد میں بھی بھیجا جاتا ہے۔اس وقت پاکستان کے بعض علاقوں میں افطار کے وقت سائرن بجنے اور اذان کی روایت موجود ہے جبکہ سحری کے وقت اکثر علاقوں میں سحری کے لئے اٹھانے والے ڈھول اور ٹین بجا کرکے سحری کے لئے اٹھاتے ہیں۔ تقریباً اس سے ملتی جلتی رسمیں انڈیا اور بنگلہ دیش میں بھی پائی جاتی ہیں۔ بحرین،کویتبحرین،کویت میں قرقاعون / گرگاعون کے نام سے ایک تہوار نصف رمضان کو منایا جاتا ہے۔ جس میں بچے روایتی لباس پہنتے ہیں اور گھر گھر جاتے ہیں۔ لوگ انہیں ٹافیاں، چاکلیٹ خشک میوہ جات دیتے ہیں۔ اس کے علاؤہ ایک جلوس بھی نکالتے ہیں جس میں اس دن کے حوالے سے نغمے گائے جاتے ہیں۔ اس دن بچوں کو روزہ رکھنے کا بھی طریقہ سکھایا جاتا ہے۔سعودی عرب میرے بہت اچھے دوست مفتی ابو زید صاحب فاضل دارالعلوم دیوبند جو اس وقت سعودی عرب کے مشرقی ضلع الاحساء میں مقیم ہیں انہوں نے بتلایا الاحساء میں جو قدیم ترین شہروں میں سے ایک ہے اور یہاں رمضان کا ایک رواج قدیم زمانے سے چلا آ رہا ہے۔ جس پر آج بھی عمل ہو رہا ہے۔ اسے مقامی زبان میں ”النقصۃ” کہا جاتا ہے. النقصۃ رسم کا مطلب یہ ہے کہ ایک شخص اپنے کھانے یا دسترخوان سے افطار کے لیے کچھ حصہ اپنے رشتے داروں یا پڑوسیوں کو بطورِ تحفہ بھیجتا ہے۔ چنانچہ اس طرح اس کے دسترخوان کے کھانوں کا کچھ حصہ کم ہو جاتا ہے۔ اسی وجہ سے اسے النقصۃ کہا جاتا ہے۔اس رواج کا مرکز بچے ہوتے ہیں۔ افطارسے کچھ پہلے بچے مزیدار کھانے تھالی میں لے کرکے اپنے ہمسایوں اور آس پاس رہائش پذیر رشتہ داروں کو پہنچاتے ہیں۔ترکیڈھول بجا کر جگانے کی رسم تقریباً 378 سال پرانی ہے جو خلافت عثمانیہ میں شروع ہوئی۔ رمضان المبارک کے شروع ہونے کا اعلان توپ کا گولہ فائر کرنے سے کیا جاتا ہے۔ ترکی کو مساجد کا شہر بھی کہا جاتا ہے۔ جہاں ساری رات مساجد میں روشنیاں کی جاتیں ہیں اور صبح ہوتے ہی روشنیاں بجھا دی جاتیں ہیں۔ وہاں پر ایک بہت عمدہ اور دل موہ لینے والی قدیم روایت چلی آرہی ہے جس کو نیکی کی ٹوکری کہا جاتا ہے۔ جس میں لوگ اپنے کھانے سے زائد خرید کر رکھ جاتے ہیں تاکہ حاجت مند کو کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے کی ضرورت محسوس نا ہو اور وہ اپنی طلب پوری کرکے چلا جائے۔انڈونیشیا میرے دوست سے پوچھنے پر اس نے بتایا کہ انڈونیشیا میں بھی مسلمان اپنے رسم و رواج کے مطابق رمضان المبارک کا استقبال کرتے ہیں۔ انڈونیشیا میں افطار کرنے کو ”بربوکا پواسا” کہتے ہیں۔ افطار کے دسترخوان پر سموسہ، بالا بالا (ہلکی تلی ہوئی موسمی سبزیاں)، می گورینگ (مصالحہ دار نوڈلز)، کولک (شکر قندی اور کیلے کے ٹکڑے ناریل کے دودھ اور کچھوڑ کے پیڑے کے ساتھ)مشروبات اور موسمی پھل وغیرہ ہوتے ہیں۔ اس ملک میں ماہ مبارک میں مان لو زندگی رات کو ہی شروع ہوتی ہے بلکہ یوں کہا جائے تو زیادہ بہتر ہو گا ۔ رات کو ہر چیز میں زندگی کی لہر سی دوڑ جاتی ہے اور یہ چیز نہ صرف بڑے بڑے شہروں بلکہ چھوٹے چھوٹے گاوں قصبوں میں بھی نظر آتی ہے۔ راتوں کو مرد و خواتین گھروں کو چھوڑ کر مساجد کو آباد کرتے ہیں اور سحری تک اللہ کی عبادت میں مشغول رہتے ہیں۔مصرمصر میں بھی رمضان المبارک کو اپنی قدیمی روایت کے مطابق پورے جوش و خروش سے منایا جاتا ہے۔ مصر میں رمضان کے ساتھ فانوس، قندیل اور چراغ کی دلچسپ روایت منقول ہے۔ اس ماہ کے آنے سے پہلے ہی ان کی خرید و فروخت شروع ہو جاتی ہے۔ مصری خوبصورت فانوس اپنے گھروں میں اور گھر کے باہر لگاتے ہیں۔مصر میں افطار کے وقت مائدة الرحمٰن کے نام سے ہر چھوٹے بڑے شہر میں دسترخوان لگائے جاتے ہیں جو کہ چھ سو میٹر لمبائی پر پھیلا ہوتا ہے۔ تاکہ ہر شخص ہر طرح کے لذیذ کھانے کا لطف اٹھا سکے۔ کجھور کے ساتھ رمضان کا مخصوص شربت امرالدین، کنافا وہاں افطار کی خاص کھانے ہیں۔ کنافا کے بارے میں مشہور ہے کہ اسے سحری میں کھانے سے دن بھر بھوک محسوس نہیں ہوتی۔ اس لئے کنافا افطار و سحر دونوں دسترخوان پر موجود ہوتا ہے۔ مصر میں سحری کے وقت ایک شخص ہاتھ میں لالٹین لے کرکے نکلتا ہے اور ہر شخص کے گھر کے باہر کھڑا ہوکر اُس کا نام زور سے پکارتا ہے۔ اس کے بعد گلی کے کونے پر کھڑے ہوکر ڈھول بجا کر اشعار حمدیہ و نعتیہ پڑھتا ہے جو لوگوں کے جذبے کو ابھارتے ہیں۔رمضان المبارک اور موسمِ گرما کی آمد آمد ہے دنیا کے بعض ملکوں میں موسم سخت گرم اور لمبا ترین روزہ ہو گا جبکہ کئی خطے ایسے ہیں جہاں روزے کا دورانیہ نہایت مختصر ہو گا۔عالمی اداروں کے مطابق شمالی نصف کرہ میں روزے کے اوقات طویل ہوں گے جبکہ جنوبی نصف کرے میں قدرے مختصر ہوں گے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ جن علاقوں میں یومِ صیام کا دورانیہ چھوٹا ہے وہاں موسم قدرے ٹھنڈا بھی ہے۔سب سے لمبا روزہ گرین لینڈ،آئس لینڈ جہاں کے مسلمان 21 گھنٹے 2 منٹ کا طویل روزہ رکھیں گے جس کے بعد فن لینڈ،ناروے،سوئیڈن،ڈنمارک تقریباً 19 گھنٹے 56 منٹ کے ساتھ سرفہرست ہیں جبکہ بیلاروس، جرمنی، آئرلینڈ، برطانیہ، نیدرلینڈ، بیلجیئم سمیت بیشتر یورپی ممالک میں سحر سے افطار کے درمیان 18 گھنٹوں سے زائد کا دورانیہ ہوگا۔ایسے ممالک میں ہندوستان،پاکستان،ایران،افغانستان،نائیجریا،انڈونیشیا،سعودی عرب، امریکا،کینیڈا،مصر،جاپان،بھی شامل ہے جہاں میں برابر برابر 15 سے 17گھنٹے طویل روزہ ہوسکتا ہے۔اسی طرح دنیا میں روزے کا سب سے کم دورانیہ ارجنٹائن،نیوزی لینڈ،آسٹریلیا،زمبابوے،چلی،کاکوس، میں ہوگا جو کہ تخمیناً 11 گھنٹے 45 منٹ کا طویل ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں