کیا میں مومن ہوں یا میں صرف مسلمان ہوں.
الحمد للہ ہم مسلمان ہیں اللہ نے ہمیں مسلمان گھرانے میں پیدا کیا ہمیں اپنے سچے دین کے لیے پسند کیا ہم پیدائشی مسلمان ہیں.
لیکن سوچنا یہ ہے.
اس میں ہمارا کمال کیا ہے.
جو عیسائ گھرانے میں پیدا ہوا وہ عیسائی کہلاتا ہے جو سکھ گھرانے میں پیدا ہوا وہ سکھ اسی طرح جو جس مزہب کے گھرانے میں پیدا ہوتا ہے وہ وہی کہلانے لگتا ہے اس میں ہمارا کمال تو کوئ نہ ہوا نا..
کمال تو تب ہوتاہے.
جب آپ اپنے دین کا مطالعہ کریں اسے سمجھیں کہ میرے رب تعالی نے مجھے اتنی بڑی جو سعادت بخشی ہمیں مسلمان گھرانے میں پیدا کیا ہم مسلمان کہلاتے ہیں.
تو اس دین پر عمل کیسے کرنا ہے تاکہ میرے کردار سے عمل سے ظاہر ہو میں مسلمان ہوں.
اب کیا جو کلمہ والدین نے پڑھایا پڑھ لیا تو کیا یہ کافی ہو گیا ہے.
نہیں یہ کافی نہیـــــں.
ہمیں دین کو سمجھ کر اسے دل سے قبول کرنا ہے اور جب ہم دل سے قبول کر لیتے ہیں. تو ہم سب سے پہلے اپنا محاسبہ کرنے لگتے ہیں.
ہمیں اپنی ذات کے اندر کی اچھائیاں اور برائیاں دیکھائ دینے لگتی ہیں.
ہمیں اپنی خامیوں پر گرفت کرنی آنے لگتی ہے
جھوٹ بولتے شرم محسوس ہوتی ہے.
جیسے ہی مسجد سے اللہ اکبر کی صدا بلند ہوتی ہے خود بخود دل مسجد کی طرف کھینچا ہے قدم مسجد کی طرف اٹھتے ہیں.
سوال یہ ہے کہ
مسلمان تو ہم پیدائشی ہو گے تو کیا ہم نے مومن بننے کی کوشش کی… …..
مومن بننے کے لیے عملی طور پر اسلام کو اپنانا پڑے گا.
مومن اپنے کردار اور روزمرہ کے معمولات سے ظاہر کرتا ہے کہ وہ دین اسلام کو ماننے والا ہے.
مزہب وہی جو ہمارے کردار سے ظاہر ہو.
دین اسلام کستوری کی طرح اپنائیں جیسے کستوری کو کہنا نہیں پڑتا میں کستوری ہوں اسکی خوشبو اسکی پہچان ہے.اسی طرح ہمارا عمل خوشبودار ہونا چاہیے جہاں بھی رہیں کہیں بھی جائیں ہمارے عمل ہمارے کردار سے ظاہر ہو ہم مومن مسلمان ہیں.
پر افسوس ہم نے صرف مسلمان ہونے پے ہی استفادہ کر لیا ہے ہم مسلمان ہو کر بھی
جھوٹ
فریب
دھوکا
بےایمانی
کو اپناۓ ہوۓ ہیں.
جب بات کرتے ہیں تو جھوٹ کا سہارا لے کر کرتے ہیں
کسی کو امانت سونپ دو تو وہ امانتدار نہیں رہتا
ناپ تول میں کمی کرتے ہیں اچھا مال دیکھا کر ملاوٹ شدہ مال دیتے ہیں.
ہمارے روز مرہ کے کام کاج میں بھی ملاوٹ جھوٹ اسقدر سرائیت کر چکا ہے کہ غیر مسلم کے کردار کی تو عالمی دنیا میں تعریف ہوتی ہے
لیکن افسوس مسلمان کی بات چیت پر کوئ یقین نہیں کرتا.
کتنا بڑا المیہ ہیں. کہ ہمارا دین جو ہماری پہچان ہے ہمارے اندر نہیں ہمارے کردار میں نہیـــــں.
ہمیں اپنے آپ کو سنوارنا ہو گا ہمیں اپنی اصلاح کرنی ہو گی اپنے اندر چمک پیدا کرنی ہے ہم پہاڑ کی گود سے نکلے سونے کی طرح ہیں پس تھوڑی محنت کی ضرورت ہے چمک جائیں گے
پس دین کو اپنے اندر اتارنے کی دیر ہے ہم انمول جو بے مول ہو رہے ہیں نایاب ہیرے بن جائیں گے لوگ ہمارے ساتھ تعلق بنانے میں فخر محسوس کریں گے.
مسلمان ہونا کوئ معمولی سی بات نہیں یہ بھی خوش نصیبوں کو اعزاز ملتا ہے کہ وہ مسلمان کہلائیں دین اسلام بہترین دین ہے جسے اللہ تعالی نے پسند کیا ہے.
ہمارے لیے جہاں یہ قابل فخر سعادت موجود ہے وہی پے پناہ افسوس بھی ہے کہ ہم اس نگین کی قدر نہیں کر رہے. بات صرف یہ سمجھنے کی ہے کہ ہم کون ہیں. جس دن مسلمان لفظ پر غور کر لیا اُسی دن سے ہم
مومن بن جائیں گے
ان شاء اللہ.
یاد رکھیں
مومن موم کی طرح ہوتا ہے نرم اور خود جل کر دوسروں کو روشنی دیتا ہے.
84