96

محرم الحرام حرمت والا مہینہ/تحریر/مولانا آصف حنیف/کشمیر

ج محرم الحرام کا پہلا عشرہ اختتام پذیر ہونے والا ہے اور اس کی دسویں تاریخ ہے جس کو یوم عاشور کہا جاتا ہے ۔ یہ مسلمانوں کے لیے ایک مقدس دن ہے، یوں تو سال کے 12 مہینے ہی اہم ہیں لیکن بعض ایام کو خصوصی فضیلت حاصل ہے اور ان ایام میں کچھ مخصوص احکام مقرر فرمائے ہیں محرم کا مہینہ بھی ایک ایسا مہینہ ہے جس کو اللہ تعالی نے حرمت والا قرار دیا ہے

 اللہ تعالی قران کریم میں ارشاد فرماتے ہیں سورہ توبہ پارہ نمبر 10 ایت نمبر 36 إِنَّ عِدَّةَ الشُّهُورِ عِندَ اللَّهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِي كِتَابِ اللَّهِ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ مِنْهَا أَرْبَعَةٌ حُرُمٌ ۚ ذَٰلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ ۚ فَلَا تَظْلِمُوا فِيهِنَّ أَنفُسَكُمْ ۚ وَقَاتِلُوا الْمُشْرِكِينَ كَافَّةً كَمَا يُقَاتِلُونَكُمْ كَافَّةً ۚ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ مَعَ الْمُتَّقِينَ 

بے شک اللہ کے ہاں مہینوں کی گنتی بارہ مہینے ہیں ۔ اللہ کی کتاب میں جس دن سے اللہ نے زمین اور آسمان پیدا کیے، ان میں سے چار عزت والے ہیں، یہی سیدھا دین ہے، سو ان میں اپنے اوپر ظلم نہ کرو، اور تم سب مشرکوں سے لڑو جیسے وہ سب تم سے لڑتے ہیں، اور جان لو کہ اللہ پرہیزگاروں کے ساتھ ہے۔

  اللہ تعالی کے نزدیک مہینوں کی تعداد 12 ہے جو اللہ کی کتاب یعنی لوح محفوظ کے مطابق  اس دن سے نافذ چلی ارہی ہے جس دن اللہ تعالی نے اسمانوں اور زمینوں کو پیدا کیا تھا ۔ ان 12 مہینوں میں سے چار حرمت والے ہیں اس ایت مبارکہ میں چار مہینے ایسے جو حرمت والے ہیں ان میں سے ایک  محرم کا مہینہ ہے ۔ عاشورہ کا روزہ خاص طور پر محرم کی دسویں تاریخ جس کو عام طور پر عاشورہ کے نام سے جانا جاتا ہے یہ دن اللہ تعالی کی رحمت اور برکت کا خصوصی طور پر حامل ہے جب تک رمضان کے روزے فرض نہیں تھے تب تک مسلمانوں پر عاشورہ کا روزہ فرض تھا لیکن جب رمضان کے روزے فرض ہوئے تو عاشورہ کی فرضیت منسوخ ہو گئی لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے عاشورہ کے دن روزہ رکھنا مستحب اور سنت قرار دیا ۔ ایک حدیث میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مجھے اللہ سے یہ امید ہے جو شخص عاشورہ کے دن کا روزہ رکھے گا اور اس کے پچھلے ایک سال کے گناہ کا کفارہ ہو جائے گا ۔ حضور نے عاشورہ کے روزے کی اتنی اہمیت بیان فرمائی عاشورہ ایک مقدس دن ہے بعض لوگوں کا یہ خیال ہے کہ عاشورہ کا دن اس وجہ سے افضل ہے کہ اس میں نواسہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی شہادت کا واقعہ پیش ایا حالانکہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت اور حضور کی رحلت کی تقریبا 60 سال بعد ہوئی یہ دن حضور کے عہد مبارک میں بھی معتبر اور افضل سمجھا جاتا تھا اس دن حسین کی شہادت ہونا  یہ حسین کی فضیلت کو چار چاند لگاتی ہے ۔ اللہ تعالی نے ان کو شہادت اس عظیم دن پر عطا فرمائی جو اس سے پہلے ہی مقدس اور مبارک تھا ۔ اس دن کو فضیلت کیوں ملی  یہ اللہ تعالی ہی بہتر جانتا ہے بہرحال بعض لوگ بہت سی باتیں کرتے ہیں اس دن حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اگ میں ڈالا گیا،  قیامت بھی  اسی دن واقع ہوگی ۔ یہ محض لوگوں کی باتیں ہیں صحیح حدیث میں یہ باتیں نہیں ملتی لیکن روایت میں یہ بات ہیں کہ  حضرت موسی علیہ السلام کو فرعون سے نجات اسی دن ملی تھی اور یہ واقعہ عاشورہ کے دن پیش ایا اب اس کی فضیلت میں بحث کی پڑھنے کی ضرورت نہیں کیونکہ اللہ تعالی نے اس دن کو اپنی رحمت اور برکت کے لیے منتخب فرمایا ۔  اس روز سنت والے کام کریں

 اس سنت میں یہ بھی ہے کہ عاشورہ کے روز روزہ رکھا جائے 9، 10 محرم یا 10 11، رکھا جائے اصل روزہ عاشورہ کا ہے لیکن یہود کی مشابت سے بچنے کے لیے عاشورہ کے روزے کے ساتھ ایک روزہ ملایا جائے ۔ غیر اللہ کے نام پہ کوئی چیز نہ دی جائے نہ لی جائے ۔ عبادات میں مشابہت نہ کرے۔ کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو غیر مسلموں کے ساتھ مشاہبت بھی پسند نہیں لہذا مسلمانوں کا ظاہر و باطن بھی غیر مسلم سے ممتاز ہو ، مسلمان کی وضع قطع،  اس کے اعمال سے اس کی عبادات وغیرہ سے سب غیر مسلم سے ممتاز ہو۔ کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو کسی قوم سے مشابت رکھے گا وہ کل قیامت والے دن انہی کے ساتھ اٹھایا جائے گا ۔ لہذا عاشورہ کے کوئی خاص اعمال نہیں بہرحال روزہ رکھ لینا بڑی بات ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حسن و حسین میرے بیٹے اور میری بیٹی فاطمہ کے بیٹے ہیں  اللہ میں ان دونوں سے محبت کرتا ہوں تو بھی ان دونوں سے محبت فرما اور ان دونوں سے محبت کرنے والوں سے بھی محبت فرما۔ 

 حسن اور حسین  کی رسول اللہ سے مشابہت حضرت علی فرماتے ہیں کہ حضرت حسن سر سے سینے تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مشابہت رکھتے تھے اور حضرت حسین سینے سے نچلی جانے تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت زیادہ مشابہت رکھتے تھے ۔  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حسن و حسین دنیا میں میرے دو پھول ہیں ۔ حسن و حسین سے محبت ایمان کی علامت ہے ارشاد فرمایا جس نے حسنین کریمین سے محبت کی، اس نے مجھ سے بھی محبت کی اور جس نے ان دونوں سے بغض رکھا اس نے مجھ سے بغض رکھا ۔  حضرت ابو ایوب  سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا  حسن و حسین جنتی نوجوانوں کے سردار ہیں ۔ ہمیں چاہیے کہ ان کے نقش قدم پر چلیں اور جس طرح حضرت حسین نے کربلا کے میدان میں نماز نہیں چھوڑی کسی بھی صورت میں نماز ترک نہ کریں  ہماری   زندگی میں کتنی ہی کیوں بڑی مشکلات ا جائیں صبر کا دامن نہ چھوڑیں ۔ جب بھی مشکل ائے تو نماز اور صبر کے ذریعے اللہ تعالی سے مدد مانگے یہ ہی  کرب و بلا کا واقعہ کا مرکزی مضمون ہے ۔ چو نکہ  محرم اسلام کا پہلا مہینہ ہے نیا سال بھی ہےتو اس میں نیتوں کو درست کریں دینی علم بڑھائیں وقت منظم کریں ، نفل نمازوں کااہتمام کریں، خلقت خدا کی خدمت کو اپنا شعار بنائیں، امید کے چراغ روشن رکھیں ، اتفاق و اتحاد اور اجتماعیت کی زندگی گزاریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں