انسانی فطرت مختلف و متنوع مزاجوں سے وجود میں آئی ہے۔نوع انسانی کا ہر فرد الگ الگ رویہ رکھتا ہے۔ایک شخص کسی مخصوص ماحول میں بہتر اور عمدہ محسوس کرتا ہے تو دوسرے کو اسی رویہ سے گھٹن اور الجھن ہوتی یے۔دراصل یہ انسانی طبائع کا اختلاف ہے ، جو انسانی رویوں پر گہرا اثر رکھتا ہے، انسان کے رویے سے ہی اس کی پسند اور ناپسند، رجحان اور عدم رجحان کا تعین ہوتا ہے۔
باہمی مزاج کی رعایت کرنا ایک دوسرے سے محبت اور الفت پیدا کرتا ہے، اخلاق حسنہ کے پیدا کرنے کا سبب بھی یہی ہے۔خُلُقِ عظیم کے مالک،رحمتِ دو عالم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ حسنہ ہمارے لیے بہترین نمونہ اور مثال ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر شخص سے اس کی اُفتاد طبع کے مطابق سلوک کرتے۔تمام صحابہ کرام سے ان کے مزاج کے موافق برتاؤ کیا کرتےتھے۔ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے جو رویہ اپناتے وہ طلحہ و زبیر رضی اللہ عنھما جیسا نہ ہوتا، معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے ساتھ جیسا طرز گفتگو اختیار کرتے وہ عرب کے بدوؤں سے مختلف ہوتا، عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے کرنے والی باتیں ابوذر غفاری رضی اللہ کے طرز تخاطب سے مختلف ہوتیں۔یہی وجہ تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک مجلس میں بیٹھنے والے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کبھی وحشت و تنہائی محسوس نہ ہوتی تھی، بلکہ اپنائیت کا ایک خوبصورت احساس ہوتا جو ان کو آپ کے گرد ستاروں کی مانند اکٹھا رکھتا۔ اسی چیز کو قرآن کریم نے بلیغ اور خوبصورت انداز میں بیان کیا؛
فَبِمَا رَحۡمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ لِنۡتَ لَهُمۡۚ وَلَوۡ كُنۡتَ فَظًّا غَلِيۡظَ الۡقَلۡبِ لَانْفَضُّوۡا مِنۡ حَوۡلِكَ ۖ. ( آل عمران آیت نمبر 159)
ترجمہ:
ان واقعات کے بعد اللہ کی رحمت ہی تھی جس کی بنا پر (اے پیغمبر) تم نے ان لوگوں سے نرمی کا برتاؤ کیا۔ اگر تم سخت مزاج اور سخت دل والے ہوتے تو یہ تمہارے آس پاس سے ہٹ کر تتر بتر ہوجاتے۔
ازواج مطہرات سے بھی ان کے مزاج و مذاق کے اعتبار سے ازدواجی زندگی کے امور سرانجام پاتے۔
ایک دن سرور دوعالم صلی اللہ علیہ امی عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا کے حجرہ میں تشریف لائے، آپ نے ان سے مسلمانوں کی غربت اور کسمپرسی کی زندگی کا ذکر نہیں کیا، کیونکہ سامنے عثمان غنی رضی اللہ عنہ موجود نہیں تھے، نہ ہی جہاد و قتال کی بات کی کیونکہ مخاطب صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نہیں تھے،بلکہ آپ کی زوجہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا تھیں۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دلدار شوہر کے محبت بھرے لہجے میں فرمایا: “جب تم مجھ سے راضی ہوتی ہوتی ہو اور جب تم ناراضگی کی حالت میں ہوتی ہو مجھے پتا چل جاتا ہے ۔”
امی عائشہ نے دلچسپی بھری حیرت سے پوچھا : یا رسول اللہ! وہ کیسے؟” آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب تم مجھ سے راضی ہوتی ہو تو کہتی ہو : محمد کے رب کی قسم ! اور جب ناراض ہوتی ہو تو کہتی ہو: ابراہیم کے رب کی قسم!”
امی عائشہ رضی اللہ عنہا نے شرماتے ہوئے کہا : ” یارسول اللہ! واللہ! میں آپ کا نام صرف زبان سے ترک کرتی ہو، دل آپ ہی کی محبت میں ڈوبا ہوا ہوتا ہے ۔”
(صحیح البخاری، حدیث 5228)
امی عائشہ رضی اللہ عنھا چونکہ باقی ازواج سے کم عمر تھیں، اس لیے فطرتاً آپ کے مزاج میں خوش طبعی اور مزاح کا عنصر پایا جاتا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ سے مذاق و لطافت کا معاملہ کرتے تھے۔
ایک دفعہ کسی سفر میں امی عائشہ رضی اللہ عنھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھیں، قافلہ مدینہ کے قریب پہنچا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو آگے روانہ کردیا۔
عائشہ رضی اللہ عنھا سے فرمایا: ” آؤ! ہم دوڑ لگائیں”
آپ رضی اللہ عنھا چونکہ عنفوان شباب میں تھیں، بدن میں چستی تھی، اس لیے آپ رضی اللہ عنھا آگے نکل گئیں، اور دوڑ میں سبقت کر گئیں۔
ایک مدت کے بعد سفر میں دوبارہ اسی طرح کا واقعہ پیش ایا، آپ رضی اللہ عنھا کے جسم میں ان دنوں قدرے فربہی آچکی تھی،اس مرتبہ حضور علیہ السلام دوڑ میں آگے بڑھ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ رضی اللہ عنھا سے فرمایا: “یہ پہلی والی دوڑ کا بدلہ ہوا۔”
(سنن ابن ماجہ،حدیث, 1979)
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے بھی ان کے مذاق و مزاج کا رعایت رکھتے ہوئے مخاطب ہوتے ، اور ان کی صلاحیتوں کے مطابق کام سپرد کرتے تھے۔
جب خیبر فتح ہوا، مسلمانوں اور یہود کے درمیان چند معاہدات ہوئے ، جن میں سے ایک یہ بھی تھا کہ یہودی مال و متاع اور سونا چاندی کچھ نہیں چھپائیں گیں،وگرنہ معاہدہ منسوخ سمجھا جائے گا۔ یہودیوں کا ایک سردار حُیی بن اخطب مدینہ سے جلاوطنی پر سانڈ کی ایک چمڑی میں کافی سونا چاندی چھپا کر لایا تھا، حیی یہ سونا ترکہ میں چھوڑ کر مرا تھا۔ حضور علیہ السلام نے اس کے چچا سے اُس مال کے بارے سوال کیا تو اس نے فورا تردید کی اور مال ختم ہونے کا بہانہ بنانے لگا۔
دوبارہ پوچھا گیا تو پھر وہی ٹِکا سا جواب دیا۔حضور نے اپنے صحابہ پر نظر دوڑائی اور پھر زبیر بن العوام سے مخاطب ہوکر فرمایا:” زبیر اس آدمی کی کچھ تواضع کی جائے۔” زبیر شعلہ بار ہو کر یہودی کے پاس آئے تو اس نے فورا بھانپ لیا کہ صورت حال پیچیدہ ہے۔وہ جھٹ بولا :” میں نے حُیی کو فلاں کھنڈر کے پاس دیکھا.” چنانچہ وہاں تلاش کیا گیا تو کھنڈر میں چھپا ہوا مال مل گیا۔
اب دیکھیے کہ یہ کام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زبیر بن عوّام کے سپرد کیا، اور انھوں نے جلد ہی صورت حال پر قابو پالیا۔۔۔
یہ چند مثالیں تھیں جو مشتے از خروارے کے طور پر سپرد قرطاس کردیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری زندگی خلق عظیم کا پر تو ، نمونہ اور عکس تھی، جس نے ہر شخص کو آپ کے قریب کر رکھا تھا، عرب کے لوگ جن کا مزاج مسلسل جنگوں کی وجہ سے سخت ہوچکا تھا اور وہ اپنی اس خشک مزاجی میں مشہور تھے۔امن و آشتی کا پیغام لے کر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو انھی عرب نوجوانوں نے محبت، ایثار، قربانی اور وفا کی ایسی اعلیٰ ترین مثالیں قائم کیں کہ تاریخ انسانی انگشت بدنداں رہ گئیں۔۔۔
اتحاد و اتفاق، محبت و الفت کی فضا قائم کرنے کے لیے اور معاشرے کو امن کا گہوارہ بنانے کے لیے محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور شاگردانِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت و کردار کو اپنانے کی ضرورت ہے۔۔۔