میں مسلم بیٹی ہوں!/تحریر/بنت محمد دین/ملتان
عورت کا معنی ستر اور چھپانے والی شئ کے ہیں، اسی سبب خواتین کو مستورات بھی کہا گیا۔
عورت نہ ہی مظلوم بے نہ ہی بے حثیت ۔ اگر عورت بے حثیت ہوتی تو قرآن میں عورت کی پاکیزگی کے لیے کوئی آیات نہ اترتیں۔قرآن جیسی عظیم کتاب جس کی ثانی دنیا کی کوئی کتاب نہیں، اس میں عورت کا تذکرہ نہ آتا۔عورت کو اللہ نے خاص مقام عطا کیا،ماں کی صورت میں عورت کے پاوں تلے جنت رکھ دی ۔ ایک عورت کو اللہ نے چار ایسے محافظ دییے جن کا نعم البدل نہیں،باپ ، بھائی ،بیٹا، شوہر۔اگر عورت بدلے میں ان محافظوں کے حقوق کا خیال کرتی ہے، اُن سے محبت کرتی ہے،اُن کے کھانے پینے لباس ضروریات کا خیال کرتی ہے تو کیا عورت کے مقام میں کمی آجاتی ہے؟؟۔۔۔ہرگز نہیں! گھر سے باہر نکلتی ہے تو ان محافظوں میں ایک ساتھ ہوتا ہے۔ اس کی طرف اٹھنے والی نگاہ بد کو پہلے اس محافظ سے ٹکرانا پڑتا ہے۔
اب آتے ہیں اُس عورت کی طرف جو بے حیائی، بے شرمی کے لباس میں تن تنہا خود کو مغرب کی دلداہ ظاہر کرتے ہوئے گھر سے نکلتی ہے۔جس کا دعوی ہے کہ عورت غلام نہیں؛
میں کیوں کھانا بناو، کیوں پردہ کروں، میرا جسم میری مرضی۔ گھر کے مرد کو بےعزت کرنی والی، وہ مغربی ثقافت کی دلداہ عورت سڑکوں پرخوار ہوکر حقوق کا رونا روتی ہے۔
اس عورت کو زمانہ جاہلیت کا دور یاد نہیں آتا۔۔۔؟تاریخ اُٹھا کر دیکھیں کیسے مشرکین عورت کی تذلیل کرتے۔ عورت بیوہ ہوتی تو سر مونڈھ دیا جاتا۔ایک تاریک کمرے میں تنہاہ بند کرکے وہیں کھانا، وہیں قضاے حاجات۔ صنف نازک کے چہرے کو سیاہ کرکے کس طرح سر عام پھرایا جاتا، پیدا ہوتے ہی زندہ درگور کردیا جاتا۔بوجھ سمجھا جاتا خاندان کے لیے گالی سمجھا جاتا۔رقص و سرور کی محفلوں میں نیم برہنہ کرکے نچایا جاتا ۔مخصوص ایام میں جنگلوں میں چھوڑ دیا جاتا،جبکہ اسلام نے تو ہروقت و مقام پر عورت کو عزت بخشی۔ مقام ، عزت مرتبہ تو اسلام نے دیا۔
مرد کو عورت کی عدت کے ایام عزت وتحفظ سے رکھنے،نان نفقے کا خرچ اُٹھانے کا پابند اسلام نے کیا ہے۔جس زمانے جاہلیت میں عورت کے دوسرے نکاح کو عیب سمجھا جاتا،اسلام نے اسی عورت کو دوسرے نکاح کے ساتھ عزت بخش کر زمانے کی ستم ظریفی سے بچایا۔جہاں عورت کو بے پردہ کرکے نچایا جاتا، وہیں اسلام نے سورہ احزاب میں پردے کی آیات نازل کرکے عورت کو عزت بخشی،لیکن آج پھر چند مغربی دلداہ خواتین عورت کو اسلام سے متنفر کرکے آزادی، حقوق نسواں کے دھوکے میں مبتلا کرکے ذلت کالباس پہنانا چاہتی ہیں،جس عورت کو ماں کے درجے پر فائز کرکے پاوں تلے جنت رکھ دی گئ،یہ آزادی کے نام پر پھر عورت کو پاوں کی جوتی بنانے میں کوشاں ہیں۔۔۔!!
میں یا آپ ہر مسلم بیٹی اپنے والد بھائی شوہر بیٹے کے حقوق ادا کرکے فخر محسوس کرتی ہیں۔جہاں ہمارا باپ سارا دن محنت کرکے خون پسینہ بہا کر ہمیں ہر خوشی دینے کی کوشش کرتا ہے،کیا ہم والد کی خدمت کرکے اپنی محبت اپنا حق ادا نہ کریں؟ ہمیں اس نام نہاد آزادی کا حصہ نہیں بننا،ہم اس ظلمت کی تاریکی میں پھر سے ذلیل ورسوا نہیں ہونا چاہتیں،جس اندھیرے و رسوائی سے اسلام نے ہمیں نکال کر عزت بخشی ۔باپ کا سایہ اُٹھ جائے توبھائی باپ کے روپ میں سایہ شفقت کرتاہے۔اس طرح مرد شوہر کی صورت میں عورت کا محافظ اس کا نصف ایمان بنتا ہے۔یہی مرد بیٹے کی صورت میں عورت کو اپنی جنت بناتا ہے، تو ہم کیوں ان کے حقوق ادا نہ کریں۔۔؟ہم اُس ماحول کا حصہ کیوں بنیں جہاں سگریٹ نوشی کرکےآلودہ عورت کو کیا جاتا ہے،حالکہ ہمارے محافظ تو ہمیں آندھی کی گرد سے بھی بچاتے ہیں۔خدرا۔۔۔!! اپنا مقام پہچانو!ہم مسلم بیٹیاں ہیں،ہم رسولﷺ کی امت کی بیٹیاں ہیں۔ہماری عزت و عظمت کے لیے صحابہ کرامؓ نے قربانیاں دیں۔ہماری ناموس کے لیے ہزاروںجانبازوں نے اپنی جانیں قربان کی ہیں۔ ہمیں اللہ تعالی نے اس قدر عزت بخشی کہ قرآن میں ہر جگہ ہمیں مرد کے تابع بنا کر اس بات کا احساس دلایا کہ ہم پوشیدہ رکھی جانے والی چیز ہیں۔چھپا کر ہمیشہ اپنی قیمتی چیز کو رکھا جاتا ہے، سڑکوں بازاروں کی کھلے عام زینت ہمیشہ کچرا بنتا ہے۔ ہم قیمتی نایاب انمول ہیں،کیونکہ ہم مسلم بیٹیاں ہیں!