وجود کائنات کے بعد سے سطح زمین پر بلاشک وشبہ ہر دور میں ایسے با اثر اور باصلاحیت لوگ گزرے ہیں جنہوں نے اپنی خداداد صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے انسانیت کی ایسی خدمات کیں کہ اپنے آپ کو لوگوں کا محسن ڈیکلیئر کروا یا مثلاً کسی نے فاتح ملک وملت بن کر انسانیت کو آزادی سے ہم کنار کروایا ،کسی نے قانون سازی میں ایسے جوہر دیکھائے کہ ظلم وبربریت سے انسانیت کو چھٹکارا دلوایا، کسی نے سلطنت وتخت شاہی تک رسائی حاصل کر کے قابل تقلید معاشرے کی داغ بیل ڈالی اور کسی نے روحانیت کے زیرسایہ رہ کر اپنی ذات کو ایسا مصفیٰ و پاکیزہ بنالیا کہ وہ مصلح انسانیت اور تزکیہ واخلاق میں اپنی مثال آپ بن گیا خلاصہ کلام یہ کہ روز اول سے آج تک کوئی نہ کوئی شخص جزوی طور پرانسانیت کاخدمت گزار اوران کے لیے محسن بنتانظر آیاہے۔
ان جزوی طور پر معمولی اوریکتا کاوشوں کا احسان جتلانے والے جب محسن کہلائے تو ایسی ذات جو انسانیت سے وابستہ تمام شعبوں میں فرد واحد کی حیثیت سے ذات واوصاف کے اعتبار سے صفت احسان میں کامل واکمل تلاش کی جائے جس نے تمام شعبوں میں اتم درجہ احسان وہمدردی کے بحر بے کنار کو اپنی ذات میں سمولیا ہوتواس تلاش وجستجوکا نتیجہ محسن انسانیت محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے نام گرامی کے علاوہ کوئی دوسرا نام ذہن ودل اور حاشیہ خیال میں آہی نہیں سکتا ۔
خود ذات لم یزل نے جس قدر بھی انعامات سے عالم انسانیت کو نوازا ان میں سے کسی بھی نعمت کا احسان اس انداز میں نہیں جتلایا جس طرح سے اس محسن انسانیت ﷺکے دنیامیںرونماہونے کااحسان کاروانِ انسانیت پر جتلایا ہے ۔ارشاد ربانی ہے : لَقَدْ مَنَّ اللہُ عَلیَ المُؤْمِنِیْنَ اِذْ بَعَثَ فِیْھِمْ رَسُوْلاً‘‘ رب کائناب نے اپنی اس صفت احسان سے محسن انسانیت ورحمۃ للعالمین ﷺ کو اتم درجہ میں سیراب فرمایا ہے ۔
یہی وجہ ہے جب مائیکل ہارٹ جیسےعیسائی مصنف نے بھی منصف مزاجی کے ساتھ ہسٹری لکھتے وقت درجہ بندی کی تو عیسائیت کادعویدار ہونے کے باوجود بھی سرفہرست محمد عربیﷺ کاہی نام لکھنے پر مجبور ہوا کہ اگر انسانیت کو انسانی حقوق کسی نے دیئے ہیں تو وہ آقائے دو جہاںﷺ ہی ہیں، اگر انسانیت پر کسی نے احسانات کی بارش کی ہے تو وہ محمد عربیﷺ ہیں ،اگر دنیا میں محسن انسانیت کاقابل فخر سرٹیفکٹ کسی کے نام جاری کیا جاسکتاہے تو وہ صرف اور صرف محمد عربیﷺ کے نام ہی جاری کیاجاسکتاہے ۔
بعدازآں اگربعثت سے قبل کائنات کے عمومی ماحول بالخصوص عرب کے حالات کودیکھیں توتاریخی اوراق یہ منظر نامہ پیش کرتے نظر آتے ہیں کہ شریعت عیسیٰ علیہ السلام میں تحریفی دور کی ابتداءہوتے ہی عالم کائنات ایک نئے پر فتن دورمیں داخل ہوگیا اورپھر زمین وآسمان نے دیکھا کہ جس دنیا میں خدائی نظام کا بول بالارہاکرتاتھا وہاں اب انصاف رخصت تو ظلم وبربریت کاراج تھا ، ایمانی فضائیں ماند پڑی تو کفروشرک کے بادلوں نے انسانیت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، رشد وہدایت کی شمع گُل تو جہالت وبت پرستی کے کالے اندھیروں نے تاریکی پھیلادی ، اس دھرتی پرکوئی بھی قانون نام کی کسی چڑیا کو جانتا نہ تھا طاقتور مظلوم جب کے کمزور ظالم سمجھا جاتا تھا ،قانون سازی کاایک صفحہ کیا ایک جملہ تک دنیا میں موجود نظرنہ آتاتھاتاریکی والے بدوی ماحول میں محسن انسانیتﷺ نے آنکھ کھولی اور اپنے 23 سالہ دور میں ایسی قانون سازی کی کہ آپﷺ کے وصال کے 15سال بعد ہی یہ قانون دنیا کے تین براعظموں تک پہنچ چکا تھا اوریہ بات بھی پوشیدہ نہیں ہے کہ ان تین براعظموں میں ہر قوم ،رنگ ونسل اور ہر مذہب کے لوگ بستے تھے جنہوں نے آپﷺ کے پیش کردہ نظام حیات کو اپنے لیے احسان عظیم تصور کرکےقبول کیا اور آج 1400سال بعد بھی کوئی اس نظام حیات پر ریڈ کراس نہیں لگاسکا۔
صفت احسان ہی کامشاہدہ کرنےکی خاطر اگر بات آپ ﷺ کے من جانب اللہ مقرر کردہ فرائض منصبی کی کی جائے تو وہاں بھی صفت احسان اکمل واتم نظر آتی ہےکیوں کہ اس اکیلی تنہاذات کو اللہ تعالیٰ نے جن صفات سے مزین فرماکر فرائض منصبی کاامین بنایا ان میں صرف احکام کی تبلیغ وارشاد ہی شامل نہ تھے بلکہ ان احکام وفرائض کاعملی اجراء ونفاذشامل رہاچنانچہ اخلاق عالیہ ،گفتار وکردار ،معاملات ومعمولات ،نرم دلی ،عفووحلم ،انصاف ،دادرسی ، حقوق کاتحفظ ، فرائض کی انجام دہی اورملک وملت سے وفاغرض ہر وہ عمل جو کسی کامیاب انسانی معاشرے کے لیے ضروری ہوسکتاہے ان سب کی عملی تصویر منبع محسن انسانیت محمد عربی ﷺ کی ذات اقدس ہی ثابت ہوئی ہے۔
اس محسن انسانیت ﷺ کے 23 سالہ دورکے شب وروز اوران میں رونماہونے والے واقعات پر احسان کافیضان دیکھا جائے تونظر آئے گا کہ مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنے والے بے خانماں مہاجرین کی آبادکاری ،نومولود اسلامی سلطنت کا استحکام ، مدینہ منورہ اوراس کے گردو نواح میں یہود اوردیگر قبائل عرب سے معاہدے ،بیرونی خطرات ،مسلط کی گئی جنگیں ،دفاعی حکمت عملی ،صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی علمی وعملی تربیت ، احکام دین کی تشریح وتوضیح ،مبلغین کی فکری ونظری رہنمائی کے ساتھ ساتھ خاندانی اورخانگی امور کی تکمیل جیسے تمام امور پر صفت احسان کی بارش اس طرح برسائی کہ کوئی دوسرا انسان ان تمام میدانوں میں محسن انسانیت ﷺ کی طرح یکسانیت سے کامیاب وبرتر نظر نہیں آسکتا۔
آخرمیںاگر اس محسن انسانیت کی عطاکردہ صفات کےکُل انسانیت پر اثرات کاجائزہ لینا چاہیں گے تو جابجامسلم مؤرخین کے ساتھ ایسے غیر مسلم افراد کی بھی لمبی فہرست ملے گی جو آقائے دوجہاں ﷺ صفت صدق وامانت اورسلوک واحسان کو بام عروج پر فائز کئے بغیر نہ رہ سکے۔
مشہور ہندو’’دیوان چند شرمامحسن انسانیب کی فطری جبلت کو مدنظر رکھ کر یہ الفاظ ادا کر نے پر مجبور ہوا کہ:
’’محمد ﷺ رحم وکرم اورمہربانی کا پیکر تھے ،ان کے مقدس وجود کے اثر کو محسوس کئے بغیر کوئی شخص بھی نہیں رہ سکتا اورنہ ہی کبھی ان کی ذات کو فراموش کرسکتاہے۔
مغربی دانشور ’’آرنلڈ ٹوائن ‘‘ آقائے دوجہاں ﷺ کی مدح سرائی میں نوک قلم نہ روک سکااور مذہب اسلام اورآپ کی صفت احسان کو ان الفاظ میں لکھنے پر مجبور ہوا کہ:
’’محمد ﷺ نے اسلام کے ذریعہ انسانوں میں رنگ ونسل اورطبقاتی امتیازات کایکسر خاتمہ کر دیا کسی مذہب نےدنیا میں اس سے بڑی کامیابی حاصل نہیں کی جو محمد ﷺ کے مذہب اسلام کو نصیب ہوئی ہے آج کی دنیا جس ضرورت اوریکجہتی کے لیے رورہی ہے اس کو صرف اورصرف مساوات محمدی کے ذریعہ پورا کیا جاسکتا ہے۔
موہن داس گاندھی نے ایک لیکچر کے دوران کہا :
محمد ﷺ کے اقوال صرف مسلمانوں ہی کے لیے نہیں ہیں بلکہ دنیا کے تمام انسانوں کے لیے علم وحکمت کا خزانہ ہیں۔
ریونڈسمتھ محسن انسانیت کی تصویر کشی کرتے ہوئے کہتاہے کہ
’’وہ قیصر تھے بغیر قیصری لشکر کے ، وہ مذہبی مقدس تھے بغیر ظاہری آن بان کے ، نہ ان کاکوئی باڈی گارڈ تھا نہ محل ومحلات ۔۔۔۔۔۔ اگر کسی بھی شخص کو یہ کہنے کا حق پہنچتاتھا کہ وہ خالصۃً خدائی حکومت قائم کر رہا ہے تو وہ ذات صرف اورصرف محمد ﷺ ہی کی ہے ۔
آخر میں مشہور ہندوستانی شاعر ’’کنور مہند سنگھ بیدی ‘‘ کے وہ اشعار ملاحظہ فرمائیں جو انہوں نے آقا کی مدح سرائی میں تحریر کئے ۔
عشق ہوجائے کسی سے کوئی چارہ تو نہیں ہے
صرف مسلم کا محمد ہو یہ اجارہ تو نہیں ہے
یہ سب انسانیت پر احسان نہیں تو اورکیا ہے اوریہ سب محسن انسانیت کی شان نہیں تو اورکیا ہے ؟؟؟؟
138