122

وقت کی اہمیت/تحریر/محمد لقمان زاہد ٹوبہ ٹیک سنگھ

/تحریر/محمد لقمان زاہد ٹوبہ ٹیک سنگھ

اگر آج ہمارے ہاتھ سے دولت نکل جاۓ تو کل واپس بھی آسکتی ہے۔اگر کل کو ہمارا کوئی دوست روٹھ جاۓ۔ تو پرسوں اسے منایا بھی جا سکتا ہے۔اگر ان دنوں ہماری صحت جواب دینے لگے تو آنے والے آیام میں اس نقصان کو پورا بھی کیا جا سکتا ہے۔

لیکن وقت کا خزانہ وہ پیش قیمت خزانہ ہے اگر ایک بار ہاتھ سے نکل گیا دنیا بھر کی دولتیں اسے واپس نہیں لا سکتی وقت کا ایک لمحہ ہزاروں لاکھوں اشرفیوں بڑھ چڑھ کر قیمت رکھتا ہے۔اس کے سامنے ہر چیز خاک کے برابر وقعت نہیں رکھتی۔

جلیل القدر بادشاہ سکند اعظم نے مرتے وقت یہ خواہش ظاہر کی اگر مجھے چند منٹ اور زندہ رہنے کی مہلت مل جاۓ تو اس کے بدلے میں تمام سلطنت قربان کرنے کو تیار ہوں مگر دنیا کی کوئی طاقت اسکی خواہش کو پورا نہ کرسکی قانون قدرت ہمیں قدم قدم پر پابندی وقت سکھتی ہے سورج کو دیکھو وقت پر طلوع ہوتا ہے اور وقت پر غروب ہوتا ہے زمین کو دیکھو کس باقاعدگی کے ساتھ محور اور سورج کے گرد گھومتی ہے اگر وہ اس گردش میں ذا بھی لغزش کھا جاۓ تو دنیا میں قیامت بپا ہو جائے۔

اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔
وَالْعَصْرِ اِنَّ ا لْاِنْسَانَ لَفِیْ خُسْرٍ (العصر:3،2)

قسم ہے زمانہ کی۔ یقیناً انسان خسارے میں ہے۔
اللہ تعالیٰ نے جن چیزوں کی قسم اٹھائی ہے۔ان میں سے ایک وقت بھی ہے۔اللہ تعالیٰ نے سورۃ الفجر میں صبح کی قسم، سورۃاللّیل میں رات کی قسم، سورۃالضحیٰ میں چاشت کے وقت کی قسم اور سورۃ العصر میں زمانہ کی قسم کھائی ہے۔

ہمارے وقت کا ایک ایک لمحہ انمول اور قیمتی سرمایہ ہے۔ وقت اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں میں سے ایک گراں قدر نعمت ہے۔ وقت جتنا قیمتی ہے اتنا ہی پگھلتی برف کی طرح آناً فاناً یوں گزر جاتا ہے۔کہ بس صبح ہوئی شام ہوئی عمر یوں ہی تمام ہوئی قرآن کریم میں5 نمازیں بر وقت ادا کرنے کی تلقین فرمائی گئی ہے۔ یہ بھی ہمارے لئے ایک رہنمائی ہے۔کہ وقت کی قدر بہت ضروری ہے۔اور یہ کامیابی اور کامرانی کی کنجی ہے۔

وقت، مومن و کافر اور نیک و بد ہر ایک کی زندگی کی کشتی کو مسلسل آگے بڑھائے چلا جاتا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ بعض کشتیاں دھارے میں ایسی ہیں جو بے مقصد اور بے سَروپَا بہے چلی جاتی ہیں، نہ ان کا رُخ معین، نہ منزلِ مقصود کی کوئی خبر،نہ مقصد حیات کا کوئی نشان۔ کچھ ایسی کشتیاں بھی وقت کے اس عظیم دھارے میں بہہ رہی ہیں۔جن کی سمت معیّن اور مقصود اعلیٰ ہے۔وہ ہر لمحہ کامرانی اور فلاح کی طرف بڑھ رہی ہیں۔

وقت ہر لمحہ پکار پکار کر کہتا ہے۔کہ اے آدم کے بیٹے! میں ایک قیمتی سرمایہ ہوں۔ تیرے عمل پر شاہد ہوں مجھ سے کچھ حاصل کرنا ہے۔تو کر لے ورنہ میں قیامت تک لوٹ کر نہیں آؤں گا۔
حقیقت یہ ہے دنیا میں ہر خسارے کی تلافی کی جاسکتی ہے لیکن ضائع کئے ہوئے وقت کی تلافی نہیں کی جا سکتی۔

کامیاب لوگوں کی زندگی میں وقت کی قدر و اہمیت اور اسے گزارنے کے روشن اصول ملتے ہیں ۔تاریخ ساز افراد نے ہمیشہ وقت کو قیمتی سمجھا اور ایک ایک پل کی قدر کی،تب اُنہیں مقام و مرتبہ ملا ۔جو لوگ وقت ضائع نہیں کرتے۔وہ ہمیشہ ترقی کی منازل طے کرتے ہیں۔دنیا اور آخرت میں کامیابی کی کلید وقت کی قدر اور بہترین منصوبہ بندی ہے۔
میں نے وقت کی قدد اپنے دادا محترم حضرت مولانا فضل محمد رحمہ سے سکھی ہے۔وہ بہت اللہ والے تھے۔ جب وہ حیات تھے۔مجھے اکثر کہا کرتے تھے وقت کی قدد کرو دیکھنا کامیابی کسے تمہارے قدم چومے گئی۔ انھوں نے ہر دن میں ہر کام کا وقت مقرر کیا ہوا تھا۔ہر کام اس کے وقت میں ادا کرتے تھے۔جسں کی وجہ سے اتنے کامیاب ہوۓ حتی کہ جب ان کی وفات قریب تھی۔ میں پاس ہی تھا۔ اس وقت بھی وقت کی پابندی کرتے ہوۓ اس دنیا سے رخصت ہوگے اللہ پاک ان کی مغفرت فرماۓ آمین

ایک دفعہ میرا پیپر تھا۔میرے پیارے دادا جان نے مجھے کہا بیٹا آج آپ کا پیپر ہے۔میں نے کہا جی انہوں نے کہا! بیٹا آپ وقت سے پہلے جانا اور دعا دی۔پھر میں نے سوچھا کہ آج تجربہ کر کہ دیکھتا ہوں۔میرا پیپر 1:30 پر تھا۔میں1بجے چلا گیا۔جب میں وہاں پہنچا تو کیا دیکھتا ہوں۔آگے نگران صاحب کھڑے ہیں۔انھوں نے خوش آمدید کیا۔اور میرا رول نمبر دیکھ کر مجھے میری نشست پر بٹھایا۔پھر جب پیپر شروع ہونے لگا۔تب کچھ بچے آۓ۔ استاد جی اپنی جگہ پر بیٹھے ہوئے تھے۔ اور ان بچوں کو ڈانٹ رہے تھے۔کہ تم وقت پر نہیں آسکتے تھے۔جس دن سے میں نے اپنے دادا ابو کی بات مانی اس دن سے آج تک ہر جگہ وقت سے پہلے پہنچتا ہوں۔الحمدللہ کبھی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔آپ بھی اس پر عمل إنشاءاللّٰه بہت فائدہ ہوگا۔

زندگی کا ہر لمحہ وقت ہے ۔ایک لمحہ اس وقت قیمتی ہوتاہے۔جب اسے قمیتی سمجھا جائے۔لیکن اگر اسکی قدر نہ کی جائے۔تو سال مہینے بھی بےکار اور بے معنی ہوجاتےہیں

لوگ وقت کی قدروقیمت نہیں پہچانتے۔انہیں اندازہ ہی نہیں کہ انسان کے ہاتھ میں اصل دولت وقت ہی ہے۔ جس نے وقت کو ضائع کر دیا۔اس نے سب کچھ ضائع کر دیا۔وقت گزرتے ہوئے واقعات کا دریا ہے ۔اسکا بہاؤ تیز اور زبر دست ہے ۔ یہ زد میں آنے والی ہر چیز کو بہا لےجاتا ہے۔ یہ ایسا تیز رفتار گھوڑا ہے۔جسے نہ روکا جاسکتا ہے۔اور نہ واپس لایا جا سکتا ہے.

کسی کام کو تعین وقت پر انجام دینا’ پابندی وقت’ کہلاتا ہے۔وقت کی پابندی انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں بہت اہمیت رکھتی ہے۔دنیا میں وہی قومیں کامیاب ہوتی ہیں۔جو وقت کی قدر کرتی ہیں ۔جو قومیں وقت کی قدر نہیں کرتی وہ ناکام و نامراد رہتی ہیں۔

اگر کائنات کے نظام پر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ھے کہ کیسے کائنات کا نظام بھی وقت کی پابندی میں جکڑا ہوا ہے۔

کائنات کے اس منظم نظام میں انسان کے لئے یہ سبق پو شیدہ ہے۔کہ وقت کی قدر کرے اور خود کو نظام کائنات سے ہم آہنگ کر کے فطرت کے مقاصد کی تکمیل کرے۔

تاریخ ،وقت کا نا قابل تردید ریکارڈ ہے۔اس سے پتہ چلتا ہے۔کہ دنیا میں سر بلند قوموں نے کن اصولوں پر عمل کیا۔دیگر اصولوں سے قطع نظر وقت کی پابندی ترقی یا فتہ قوموں کی عظمت کا سب سے بڑا ذریعہ بنی۔
تاریخ بتاتی ہے۔کہ ایسی قوموں نے وقت کو اپنی جانوں سے بھی عزیز رکھا۔اُن کے اس طرز عمل کا نتیجہ نکلا کہ وہ دنیا پر حکومت کرنے لگیں۔
وقت انسان کا دوست بھی ہے اور دشمن بھی۔جو اسکی قدر کرتا هے۔یہ اُسے فتح و کامرانی عطا کرتا ہے۔اور جو سرسری لیتا ہے،اُسے ناکامی کے گڑھے میں پھینک دیتا ہے۔جو شخص وقت کا دامن تھام لیتا ہے۔وہ کامیاب ہو جاتا ہے۔اور جو خواب غفلت میں پڑا رہتا ہے ،وہ ناکام و نامراد ہو جاتا ہے۔
یوں وقت کی پابندی تمام تر افراد پر لازم ہے۔لیکن
طلبہ کو بطور خاص اس کی قدر کرنی چاہیے ۔طلباء قوم کا قمیتی سرمایہ ہوتے ہیں ۔قوم کی ترقی اور خوشحالی کا انحصار انہی پر ہوتا ہے ۔ لہذا ہم سب پر ضروری ہے۔کہ وقت کی اہمیت کو سمجھیں اور اس کا ایک ایک لمحہ درست طریقے سے بسر کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں