83

چلی ساس،سویا ساس،اور میری ساس/تحریر/سمیرا صدیق

“چلی ساس۔۔۔سویا ساس۔۔۔اور میری ساس۔۔۔”وہ چشمِ تصور میں سالوں پیچھے جا پہنچی۔۔۔ “ماں جی! چلی ساس اور سویا ساس بھی ساتھ میں لیتی آئیے گا۔۔۔” ثویبہ نے دروازے سے باہر جاتی نورالنساء کو مودبانہ لہجے میں کہا۔۔۔
“اس کے علاوہ کچھ اور چاہیے تو ابھی سے بتا دینا۔مجھ سے بار بار گھر سے باہر نہیں نکلا جاتا”نورالنساء نے اپنے درد سے بھرپور گھٹنے پر اپنے ہاتھ کو مضبوطی سے جماتے ہوئے بیرونی دروازے سے قدم باہر رکھتے کہا۔۔۔
وہ لاؤنج میں صوفے پر سر ٹکائے بیٹھی۔۔۔محو حیرت۔۔۔ دونوں ساس بہو کی گفتگو سن رہی تھی۔۔۔اک سرد آہ بھرتے وہ زیر لب بڑبڑائی”چلی ساس۔۔۔سویا ساس۔۔۔اور میری ساس۔۔۔” اب وہ اپنی ماں نور النساء کی ذمہ دارانہ شخصیت کا جائزہ لے رہی تھی۔۔۔
“ماں اور ساس میں بہت فرق ہے۔۔۔لیکن ہر ساس میں نہیں۔۔۔کچھ ایسی بھی ہوتی ہیں جو ساس نہیں بس ماں کا روپ رکھتی ہیں۔۔۔لیکن میری ساس تو میری ماں جیسی نہیں۔۔۔”ایسے ہی خیالات چھوٹے چھوٹے سیاہ بادلوں کی صورت اس کے دل و دماغ کے افق پر نمودار ہو کر یوں کھل کر برسے کہ اس کی آنکھیں بہہ پڑیں۔۔۔ نورالنساء کب اس کے پاس آکر بیٹھی وہ اس بات سے بے خبر تھی۔۔۔
“میری بیٹی کوئی پریشانی ہے۔۔؟”نورالنساء نے فکر مند ہوتے ہوئے پوچھا۔۔۔
“نہیں ماں بس یونہی۔۔۔کچھ سوچ رہی تھی۔۔۔”وہ ماں کو حال دل سنانا چاہتی تھی۔۔۔
“کیا سوچ رہی تھی میری بیٹی۔۔؟”نورالنساء نے استفسار کیا۔۔۔
“یہی کہ آپ کتنی اچھی ساس ہیں جب کہ میری۔۔۔”
“اچھا تو یہ بات میری بیٹی کو پریشان کیے جا رہی ہے۔۔۔”نورالنساء نے اس کی پریشان خیالی کو بھانپتے ہوئے نہ صرف اسے مزید کچھ کہنے سے روک دیا۔۔۔بلکہ اپنی قیمتی آراء بھی پیش کیں”بیٹی یہ میرے رب کی تقسیم ہے۔۔۔بندہ اگر اپنے رب کی تقسیم پر راضی رہے تو رب تعالی آسانیوں کے سامان بھی تو اپنے بندے کی خاطر مہیا کر دیتا ہے۔۔۔جبکہ اکثر گلے شکوے کرتے رہنے سے تعلقات میں دراڑیں پڑجایا کرتی ہیں۔۔۔یوں زندگی مشکل ترین بن جاتی ہے۔۔۔ کیا ہواجو تیری ساس میری جیسی نہیں تو خود میری جیسی ساس بن جانا۔۔۔”ماں کے سیدھے سادھے جملے اس پر یوں اثر کر گئے کہ جب وقت نے کروٹ بدلی۔۔۔تو وہ۔۔۔اپنی ماں جیسی ساس بن کر اپنی بہو کی چھوٹی چھوٹی خوشیوں اور خواہشات کو ہر ممکن طور پر پورا کرتی۔۔۔تاکہ جب بھی چلی ساس۔۔۔سویا ساس۔۔۔اور میری ساس کا تذکرہ چھڑ جائے۔۔۔تو وہ۔۔۔اک سرد آہ نہ بن کر رہ جائے۔۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں