67

کھیل/تحریر/انیلہ افضال ایڈووکیٹ


اس کے دماغ میں دھماکے ہو رہے تھے۔ وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھتا ہوا صوفے پر ڈھے گیا۔ اس کی ماں آنکھیں پھاڑے کبھی اسے دیکھتی کبھی سامنے بیٹھی سامعیہ کو، سامعیہ کے تینوں بھائی بری طرح سے تلملا رہے تھے۔ سامعیہ کے والد سر جھکائے بیٹھے تھے اور ماں تو جیسے کاٹو تو بدن میں لہو نہیں۔ سامعیہ مسلسل رو رہی تھی۔ میں اللہ کی قسم کھا کر کہتی ہوں ماما، وہ اپنی ماں کی جانب پلٹی، ماما ! مجھے تو ٹیسٹ کروانے کی ضرورت ہی نہیں تھی میں نے تو صرف آپ لوگوں کے کہنے پر ہی یہ سارا چیک اپ کروایا ہے۔ شادی کے چار ماہ بعد بھی میں۔۔۔۔۔۔۔۔ سامعیہ نے بات اُدھوری چھوڑ دی۔
سامعیہ!!!!!! نعیم کے منہ سے بس اتنا ہی نکلا۔ اس کی ماں ایک جھٹکے سے صوفے سے اٹھی اور بیٹے کو بازو سے پکڑ کر اسے تقریباً گھسیٹتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گئی۔
سامعیہ اپنی ماں کی گود میں سر چھپائے ہچکیوں سے رو رہی تھی۔ ماما، اگر آپ لوگ چیک اپ پر زور نہ دیتے تو میں یہ بات کبھی بھی کسی سے نہ کہتی اور یوں ہی ساری عمر گزار دیتی۔
نہ رو میری بچی! تو کوئی لاوارث ، بے آسرا نہیں ہے۔ کیڑے پڑیں گے کیڑے! میری پھول سی بچی کی زندگی خراب کر دی۔ ارے کیا ماں کو معلوم نہ تھا کہ میرے بیٹے میں کمی ہے؟ کیوں کی اس کی شادی؟ میری ہائے لگے گی۔ جا نعیم! تو کبھی سکھ نہیں پائے گا۔ تیرا خانہ خراب ہو گا۔
ارے خانہ تو اس نے ہمارا خراب کر دیا ہے، سامعیہ کے والد نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا ۔
آپ وکیل سے بات کریں، اور طلاق کے کاغذات بنوائیں۔ نعیم کے خاندان کی پنچایت بٹھائیں اور اس سے طلاق نامے پر دستخط کروائیں۔ میں اپنی بیٹی کو عمر بھر کی سزا نہیں دے سکتی۔
ہممممم ! سامعیہ کے والد نے سر ہلایا۔
++++++++———+++++
سامعیہ بی بی اے کی سٹوڈنٹ تھی، ابھی عمر ہی کیا تھی، مگر جب چاچی نے دور پار کے کسی رشتے دار کے اکلوتے بیٹے کا رشتہ بتایا تو نجانے بابا کو کون سی بات اتنی اچھی لگی کہ وہ چٹ منگنی اور پٹ بیاہ کے لیے تیار ہو گئے۔ وہ دھائیاں دیتی رہ گئی، مجھے تعلیم تو مکمل کر لینے دیں۔ آخری سمسٹر ہے، امتحانات دے لوں پھر کر دیجئے گا، اتنی بھی کیا جلدی ہے؟؟؟
مگر سب بے سود، وہ جانتی تھی کہ بابا جب کوئی فیصلہ کر لیتے ہیں تو وہ پتھر پر لکیر ہوتا ہے۔
وہ بیاہ کر نعیم کے گھر ا گئی۔ شادی سے پہلے ہی اس نے فون پر باتوں باتوں میں نعیم سے کہہ دیا تھا کہ وہ شادی کے بعد اپنی تعلیم مکمل کرنا چاہتی ہے۔
نعیم کو اس پر کوئی اعتراض نہ تھا بلکہ اس نے سامعیہ کو ہر طرح کے تعاون کی یقین دہانی بھی کروائی تھی۔
چار ماہ پلک چھبکتے ہی گزر گئے، سامعیہ کے آخری سمسٹر کے دو ماہ ہی باقی تھے۔ دو ماہ کے بعد وہ اپنی نئے زندگی شروع کرنے والے تھے؛ لیکن! لیکن! یہ سب کیا ہو گیا تھا۔
سامعیہ کے والد نے دو دن کے اندر طلاق کے کاغذات تیار کروائے۔ نعیم کے قریبی رشتہ داروں کی پنچایت بٹھائی اور طلاق کے کاغذات سامنے رکھتے ہوئے نعیم سے ان پر دستخط کرنے کو کہا۔
نعیم کے چچا نے بات کو سنبھالنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا کہ اتنی جلدی فیصلہ نہ کریں۔ ہم نعیم کے ٹیسٹ کرواتے ہیں اور اگر کوئی مسلہ ہے تو اس کا علاج ہو جائے گا۔
دیکھیئے! میں جھوٹی امیدوں کے سہارے اپنی بیٹی کی زندگی برباد نہیں کر سکتا، یوں تو اس کی زندگی برباد ہو ہی چکی ہے، لیکن مزید برباد نہیں کی جا سکتی۔ اگر نعیم طلاق نہیں دے گا تو ہمارے پاس خلع کا آپشن بھی موجود ہے۔ اس میں دو چار مہینے کا وقت لگ جائے گا لیکن خلع مل جائے گا۔
نہیں انکل! آپ کو مزید وقت برباد کرنے کی ضرورت نہی، آپ لوگوں کے ساتھ واقعی زیادتی ہوئی ہے۔ میں سامعیہ کو طلاق دینے کو تیار ہوں، یہ کہتے ہیں نعیم نے طلاق نامے پر دستخط کر کے سامعیہ کو آزاد کر دیا، ساتھ ہی اس نے ایک سفید رنگ کا لفافہ سامعیہ کے والد کی طرف بڑھا دیا۔
کیا ہے اس میں؟ انہوں نے پوچھا
میری میڈیکل رپورٹس!
میڈیکل رپورٹس ؟ مگر !!!
میں بالکل ٹھیک ہوں انکل! آپ کی بیٹی نے جھوٹ بولا ہے۔
کک کیا مطلب؟
یہ سامعیہ آپ کو خود بتائے گی۔ نعیم وہاں سے چلا گیا۔
سامعیہ کے والد نے دونوں لفافے سامعیہ کے سامنے رکھ دیئے، ایک خاکی لفافہ، جس میں طلاق نامہ تھا اور دوسرا سفید لفافہ، جس میں میڈیکل رپورٹس تھیں، جن کے مطابق نعیم بالکل فٹ تھا۔
میں نہیں جانتا یہ تم نے کیوں کیا؟ لیکن یہ تم نے ٹھیک نہیں کیا
یہ ، یہ رپورٹس جھوٹی ہیں بابا، وہ آنکھوں میں آنسو لاتے ہوئے بولی۔
جھوٹی رپورٹس وہ طلاق نامے پر دستخط کرنے سے پہلے دکھاتا، بعد میں نہیں۔
بابا اسے ہونق سا چھوڑ کر اپنے کمرے میں چلے گئے۔
اسی لمحے سامعیہ کا فون بجا، اس نے چونک کر فون کی طرف دیکھا، سکرین پر نعیم کا نام لکھا تھا۔
اس نے فون اوکے کر کے کان سے لگا لیا۔
تم نے مجھ سے چھ ماہ کا وقت مانگا تھا۔ تمہیں اپنی تعلیم مکمل کرنا تھی، تم جانتی ہو، میں چار ماہ سے صوفے پر سو رہا تھا۔ تم مجھ سے کہہ کر تو دیکھتیں، میں تمہاری یہ بات بھی مان لیتا، بات تو میں نے تمہاری اب بھی مان لی ہے۔ کل جب تم نے مجھے بتایا کہ تم اپنے کلاس فیلو سے شادی کرنا چاہتی تھیں مگر اپنے بابا کے ڈر سے خاموش رہیں۔ تم نے اس لڑکے سے وعدہ کیا تھا کہ تم اسی کی امانت ہو اور امانت میں خیانت نہیں کرو گی۔ تم پر طلاق کا دھبہ تو لگ جاتا مگر اس کے بعد جیسے ہی اس دوسرے لڑکے کا رشتہ آتا تمہارے بابا فوراً حامی بھر لیتے۔ تم نے اپنا پلان انتہائی فول پروف بنایا تھا، مگر مجھے ایسا لگ رہا ہے جیسے تم نے بھرے بازار میں میرے کپڑے اتار کر مجھے ننگا کر دیا ہو۔
تم نے ٹیسٹ کیوں کروایا؟ وہ دبی دبی آواز میں چلائی۔
مجھ سے میری ماں کی بے یقین آنکھیں برداشت نہیں ہو رہی تھیں سامعیہ! مگر افسوس وہ بے یقینی اب تمہارے بابا کی آنکھوں میں اتر آئی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں