79

کہانی/قادیانی ٹیچر/تحریر/عائشہ شیخ

بیٹا عمر جلدی سے کتابیں نکالیں اپنی (والدہ کی آواز سن کہ چھ سالہ عمر اٹھ کھڑا ہوا جو کہ پہلے موبائل پہ گیم کھیل رہا تھا)

عمر: جی امی، لاتا ہوں میں بیگ اپنا۔
(تقریباً تین چار منٹ لگانے کے بعد عمر اپنے بیگ کو بڑی مشکل سے لایا، گویا وزنی بیگ اٹھانے سے وہ تھک گیا ہو۔)

امی : بیگ بھاری ہے؟
عمر: جی امی، کتابیں روز بروز بڑھ رہی ہیں(ننھے عمر نے معصومیت سے کہا)
امی: کیوں بڑھ رہی ہیں؟
عمر: پتہ نہیں امی، ہماری جو نیو ٹیچر آئی ہیں نا وہ ایسے کروا رہی۔
امی: نیو ٹیچر آئی ہیں؟ کب؟ تم نے بتایا نہیں بیٹا؟
عمر: ہاں امی دو ہفتے ہو گئے ہیں، نیو ٹیچر نا بچوں سے بہت اچھے سے بات کرتی ہیں اور چیزیں بھی کبھی کبھی دیتی ہیں اور نا وہ بہت سی نیو نیو باتیں بھی بتاتی ہیں۔
امی: اچھا! کیا چیزیں دیتی ہیں؟ اور کتابیں بھی کھولو اپنی۔
عمر: امی اس دن نا گرمی بہت تھی پھر ٹیچر نے نا ہم سب بچوں کو شیزان جوس دیا۔
ساتھ ہی اس نے اپنی کتابیں بھی نکال لیں تھیں۔
امی: شیزان؟؟؟ (گویا سن کہ کرنٹ لگا ہو)
یہ تمہاری کتاب پہ (استغفرُللہ العظیم) خاتم النبیین کے الفاظ کو پین سے کاٹا کیوں گیا ہے؟
عمر: ٹیچر کہہ رہی تھیں کہ تم لوگ ابھی چھوٹے ہو اتنی لمبی لائنز والا جواب تم لوگ یاد نہیں کر پاؤ گے۔
امی: حیرت ہے! خاتم النبیین اس کو یاد کرنے میں کیا مسئلہ؟
ویسے بھی تو بہت کچھ یاد کرنا ہوتا ہے نا تمہیں۔ تم کاٹو نہیں یاد کرو اسے وہ بھی اچھے سے۔

(عمر کی والدہ گہری سوچ میں تھیں، عمر کے ابو جیسے ہی گھر آئے تو عمر کی والدہ نے سارا قصہ بتایا کہ اسکول ٹیچر کی طرف سے شیزان جوس(جو کہ ایک قادیانی پراڈکٹ ہے) دیا جاتا ہے اور خاتم النبیین کے الفاظ کو (استغفرُللہ العظیم) کاٹا جاتا ہے۔
عمر کے والد نے عمر کی والدہ کو مشورہ دیا کہ اس ہفتہ کو ہونے والی PTM ( Parents Teachers Meeting) میں یہ بات اسکول انتظامیہ کے آگے رکھے۔)
عمر کی والدہ نے اور بھی بچوں کی ماؤں سے اس حوالے سے رابطہ کیا،
طئے یہ پایا کہ سب مل کہ اس بات کو اسکول انتظامیہ کے آگے رکھیں گی۔
۔۔۔

پی ٹی ایم میں عمر کی والدہ اور دوسری خواتین نے جب مل کہ جب اس بات کو اسکول انتظامیہ کے آگے رکھا تو اسکول والوں نے اس ٹیچر کو بلا کہ تصدیق کی، چونکہ اکثریت نے ایک زبان ہو کر کہا تو ٹیچر بھی مکر نا سکی اور نا ہی اسکول کی انتظامیہ اس کو ہلکہ لے سکی۔
بالآخر اس ٹیچر کو اسکول سے روانہ کیا گیا اور یوں ننھے منھے بچوں کے ذہن خراب ہونے سے بچ گئے۔
عمر کی والدہ نے گھر آنے کے بعد شکرانے کے نفل ادا کیے کہ اللہ پاک نے کرم کا معاملہ فرمایا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں