100

کیا ہم غلام ہیں ؟/تحریر/سمیہ شاہد (لاہور)

کیا ہم غلام ہیں ؟؟
جی ہاں! بالکل ہم غلام تھے ، غلام ہیں اور اگر ہم نے خود کو بدلنے کی کوشش نہ کی تو غلام ہی رہیں گے !!
تاریخی اعتبار سے دیکھا جائے تو پہلے ہم انگریز کے غلام تھے اور دور حاضر میں انگریز کے چلے جانے کے بعد مقامی
” انگریزوں” کی غلامی میں چلے گئے ۔۔۔ بالکل ایسے ہی جیسے کہ کوئی جاگیر یا سرداری پہلے کے بعد دوسرے کے قبضے میں چلی جاتی ہے ، بعینہ ہم بھی اصل انگریز کے بعد مقامی انگریز کی غلامی میں چلے گئے ۔۔۔۔
پھر ہوا یہ کہ ہمیں بتایا گیا کہ ہم آ زاد ہیں اور آ زادی حاصل کرنے کی داستانیں ہمارے دماغ میں نقش کر دی گئیں لیکن یہ نہ بتایا کہ آ زادی دلانے والے کے ساتھ کیا ہوا ؟ اس ایک شخص کے قریبی ساتھیوں اور اس کی ہمشیرہ کو راستے سے کیوں ہٹایا گیا ؟ جس مقصد کے لیے آ زادی حاصل کی اس کا کیا ہوا ؟
اس کے برعکس ہمارے ذہن کو جکڑ لیا گیا اور آ ہستہ آ ہستہ ہمیں ذہنی غلامی میں دھکیل دیا گیا۔۔۔
اور ہم ہنسی خوشی اس غلامی میں زندگی بسر کرتے گئے ۔۔۔ ہمارا نظام تعلیم انگریزی قرار پایا اور ترقی کا معیار بھی انگریزی ۔۔۔ فر فر انگریزی بولنے والے کو حسرت بھری نگاہ سے دیکھا جانے لگا۔۔۔ جو قومی زبان کے فروغ کی بات کرتا اسے بنیاد پرست قرار دیا جاتا۔۔۔ہمارا تمام کا تمام دفتری نظام انگریزی میں اور حد تو یہ کہ عدالتی نظام ، حتیٰ کہ قوانین بھی انگریز کے دور کے ہی رہے ۔۔۔ اسی قانون میں وقفے وقفے سے ترامیم کر کر کے اسے اسلامی بنانے کی ناکام کوشش بھی کی گئی ۔۔۔
ہمارے ذہنوں کو اس حد تک قابو کر لیا گیا کہ ہم اپنی حق تلفی کو ہی اپنا حق سمجھ بیٹھے ۔۔۔
ایک مخصوص طبقے کی حکمرانی سالہا سال ہم پر مسلط رہی ، اس طبقے کے متعلق کئی ایک کہانیاں سامنے آ ئیں ، کبھی ثبوت بھی پیش کر دیے گئے ۔۔ کبھی مقدمے بھی چلے ۔۔۔ لیکن ہم نے اپنی آ نکھیں بند رکھیں۔۔۔۔
وقت گزرتا گیا کہ ایک شخص نے آ کر اس طبقے کو حقیقی معنوں میں شدید قسم کی ٹکر دی کہ اس ٹکر سے پورا طبقہ ہی ہل کر رہ گیا۔۔۔۔۔
پھر کہیں جا کر ہماری بند آ نکھیں روشنی میں چندھیا گئیں اور رفتہ رفتہ ہمیں سب کچھ صاف نظر آ نے لگا۔۔۔۔
پھر ہمارے ذہن پر سے قفل ہٹنے لگے اور ہم نے اپنے آ پ کو حقیقی طور پر آ زاد کرنے کا تہیہ کیا ۔۔
وقت گزرا اور زخم خوردہ طبقے نے زخمی شیر کی مانند مار دھاڑ شروع کر دی ۔۔۔۔ کبھی کسی کو غائب ، کبھی کسی کو جیل میں، کبھی کسی پر دباؤ ۔۔۔۔۔۔
لیکن جب ہم نے اس طبقے کی غلامی سے انکار کر دیا تو اس نے غلامی کا انکار کرنے والے کو ہی راستے سے ہٹانے کی کوشش کی اور پھر پتا ہے کیا ہوا ؟
ہم لوگوں نے اپنی ازلی بے حسی سے ثابت کر دیا کہ واقعی ہم غلام ہی ہیں !

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں