دنیا کا کوئی بھی قانون کسی ملزم کو اپنے بچوں اور اہل خانہ کے ساتھ ملاقات سے نہیں روکتا، اور اگر ملزم انڈر ٹرائل ہو تو اسے مقدمے کا حتمی فیصلہ ہونے تک کسی بھی دوسرے قابل اعتماد شخص کی ضمانت پر رہا کر دیا جاتا ہے تاکہ ملزم کے معمولات زندگی متاثر نہ ہوں۔ ہو سکتا ہے کل کو وہ بے گناہ ثابت ہو جائے تو جتنا عرصہ اسے تحویل میں رکھا گیا ہو گا وہ ظلم اور زیادتی کے زمرے میں آئے گا۔ اس لئے عدالتیں ضمانت والے کیسز جلد از جلد سنتی ہیں۔ اور اگر تھوڑی سی بھی گنجائش نکل آئے تو فوراً ضمانت منظور کر لی جاتی ہے۔ یہ ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔ بعض اوقات تو میڈیکل گراؤنڈ پر یا اگر ملزم کا کوئی قریبی عزیز شدید بیمار ہو تو صرف انسانی ہمدردی کی بنیاد پر بھی ضمانت منظور کر لی جاتی ہے۔
ہاں اگر جرم ثابت ہو جائے، عدالت سزا سنا دے تو اس کے بعد ضمانت کا حق ختم ہو جاتا ہے۔ لیکن پھر بھی ملزم کو ایک آپشن ضرور دیا جاتا ہے کہ وہ کسی بھی بڑی عدالت میں جا کر اس فیصلے کے خلاف اپیل کر سکتا ہے۔ ہو سکتا ہے پہلے والی عدالت سے غلطی ہوئی ہو تو اوپر والی عدالت اسے درست کر دے گی۔ یعنی عدالتی نظام میں اس حد تک بنیادی انسانی حقوق کا احترام کیا جاتا ہے اور ہر ممکن طور پر یقینی بنایا جاتا ہے کہ کسی کے ساتھ ناحق زیادتی نہ ہو۔
اس بچے کے والد نے ریاست کی نظر میں ہو سکتا ہے کوئی جرم کیا ہو۔ لیکن وہ ابھی تک انڈر ٹرائل ہے۔ جرم ثابت نہیں ہوا۔ اس دوران اگر اسے اس کا بنیادی حق دیا جاتا اور ضمانت پر رہا کر دیا جاتا تو وہ اپنے بچے کی بہتر دیکھ بھال کر سکتا تھا۔ کھاتے پیتے گھرانے سے تعلق ہے۔ کسی بھی بڑے سے بڑے ہسپتال میں اس کا علاج کروا سکتا تھا۔ اگرچہ موت برحق ہے۔ لیکن پھر بھی باپ کے دل میں ملال نہ ہوتا کہ میں اپنے بیٹے کو بچانے کے لئے کچھ نہ کر سکا۔ اب وہ ساری زندگی اسی کرب میں گزارے گا کہ جب اس کا بیٹا اسے پکار رہا تھا تو وہ اس کے پاس نہیں تھا۔ شاید اپنے باپ کا ایک بوسہ اس بچے کو زندگی کی طرف واپس لے آتا۔ شاید وہ اسے گلے لگاتا تو اس کی سانسیں بحال ہو جاتیں۔ ماں باپ کے لمس میں اولاد کے لئے کتنی توانائی ہوتی ہے یہ ہر وہ آدم زادہ سمجھ سکتا ہے جو کبھی بچپن میں اپنی ماں کی گود میں سر رکھ کر سویا ہو، یا جس نے اپنے باپ کی انگلی پکڑ کر سڑک پار کی ہو۔
لیکن صد افسوس ہم رشتوں کی پہچان بھی کھو بیٹھے۔ ہم ایک سنگدل معاشرے میں رہتے ہیں۔ ہمارے نظام کے سینے میں دل نہیں ہے۔ اگر ہے بھی تو وہ دھڑکنا چھوڑ چکا ہے۔ چلیں چھوڑیں __ یہ ہم کس فضول بحث میں پڑ گئے ہیں۔ آئیے ایک اور معصوم کا جنازہ اٹھاتے ہیں۔ ہمارے بڑے بھی اٹھایا کرتے تھے۔