ہم بچے امی عاٸشہ ؓ کے
ام محمد عبداللہ
”میری بیٹی عالمہ بنے گی۔ حافظہ بنے گی۔ قاریہ بنے گی۔ ڈاکٹر بنے گی۔ اپنی امی عائشہؓ کی طرح صاحب علم و عمل بنے گی ان شاءاللہ ۔“ امی جان امامہ کے ساتھ لاڈ لاڈ سے باتیں کر رہی تھیں۔ وہ جواباً مسکرا رہی تھی اور اوں اوں کر رہی تھی۔ ”صہیب تم امامہ کے ساتھ بیٹھو۔“ امی جان صہیب کو امامہ کے ساتھ بٹھا کر خود کسی کام سے چلی گئیں ۔
”اچھا تو امامہ آپ امی عائشہؓ کی بیٹی ہیں۔ ان کے جیسی بنیں گی۔“ صہیب بھی امی جان کی طرح امامہ سے باتیں کرنے لگا۔
”لیکن حضرت عائشہؓ کیسی تھیں یہ کیسے پتا چلائیں امامہ؟
آئیڈیا ۔
17 رمضان المبارک حضرت عائشہؓ کا یوم وفات ہے امی جان نے اپنی رمضان ڈائری میں ان سے متعلق ضرور کچھ لکھا ہو گا۔ آؤ پڑھتے ہیں۔“ امامہ کو کھلونے دے کر صہیب امی جان کی ڈائری پڑھنے لگا۔
”ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا درس گاہ نبویؐ کی سب سے کامیاب طالبہ اور امت کی سب سے بڑی معلمہ تھیں۔ ان کے علمی فضل و کمال کا یہ عالم ہے کہ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ’’نصف دین ان سے حاصل کیا جائے۔“ اس لیے کہ چار دیواری کے اندر رسول اللہؐ کی زندگی اور تعلیمات کا کم و بیش نوے فی صد حصہ انہی سے روایت ہے۔ وہ حدیث نبویؐ کے پانچ بڑے راویوں میں سے ہیں اور خواتین میں احادیث نبویؐ کی سب سے بڑی راویہ ہیں۔ انہیں دور صحابہؓ کے ان سات بڑے مفتیوں میں شمار کیا جاتا ہے جو خلافت راشدہ کے دور میں فتویٰ دیا کرتے تھے۔ وہ قرآن کریم کی مفسرہ تھیں اور احکام اسلام کی حکمت اور فلسفہ بہترین انداز میں بیان فرماتی تھیں۔
حضرت عائشہؓ عرب قبائل کی روایات، تاریخ، اور کلچر پر اس حد تک عبور رکھتی تھیں کہ لوگ اس سلسلہ میں ان سے راہنمائی حاصل کرتے تھے۔ انہیں عرب قبائل کے نسب ناموں سے بھی واقفیت حاصل تھی۔ انہیں ادب اور شعر و خطابت پر بھی دسترس حاصل تھی۔ وہ عوامی مسائل پر رائے دینے والی راہنما تھیں۔ طب و علاج کے علم سے بھی واقف تھیں۔“
”اچھا تو امی عائشہؓ قرآن و حدیث کے علم کے ساتھ ساتھ عام روز مرہ کے مساٸل اور طب و علاج کا علم بھی رکھتی تھیں۔“ صہیب نے امی جان کی ڈائری پڑھ کر خود کو سمجھایا۔
”اوں اوں اوں امامہ صہیب کی توجہ چاہ رہی تھی۔ صہیب نے ڈائری الماری میں رکھ کر امامہ کو گود میں اٹھا لیا۔ ”امامہ بہنا! امی عاٸشہؓ بہت پیاری اور لائق فائق تھیں۔ امی عائشہؓ علم کے آسمان کا چاند تھیں ہم ان کے بچے ہیں ناں ہم بھی علم کے آسمان کے تارے بنیں گے۔ ہم قرآن و حدیث سیکھیں گے۔ طب اور ٹیکنالوجی بھی سیکھیں گے۔“ صہیب لہک لہک کر امامہ سے باتیں کر رہا تھا اور امی جان مسکراتے ہوٸے ان کے صاحب علم و عمل ہونے کی دعائیں مانگ رہی تھیں۔