اس نے کتاب سے نگاہ ہٹا کر کھڑکی سے باہر دیکھنے کی کوشش کی، تاحد نگاہ اندھیرا ہی اندھیرا تھا۔ وہ کچھ دیر اندھیرے میں چاند، ستاروں اور جگنوؤں کی آس لگائے گھورتی رہی مگر پھر اس کی شکست خوردہ نگاہیں پلٹ کر ایک بار پھر کتاب کی سطروں پر مرکوز ہو گئیں۔
مگر یہ کیا؟؟
یہ کیسی کتاب تھی؟ اس کا وجود صفحوں میں لپٹتا ہوا دور کہیں ماضی میں پہنچ گیا تھا۔
یہ ایک بازار تھا۔ لوگ جگہ جگہ
ٹولیوں میں کھڑے خوش گپیوں میں مصروف تھے۔ “ابو القاسم کو یہاں آئے دو سال ہو گئے ہیں۔” ایک شخص دوسرے سے کہہ رہا تھا۔ “ابو القاسم! ابوالقاسم تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی کنیت ہے۔” اس کا دل زور سے دھڑکا۔ آنکھیں نجانے کیوں بھیگ گئیں۔
“ہاں! اس کی آمد کے بعد تو اوس اور خزرج آپس کی دشمنی بالکل ہی بھول گئے ہیں۔ بس یہ تو بے وقوفوں کی طرح اس پر ایمان لے آئے ہیں۔”
“اوس اور خزرج”،” انصار مدینہ”، اس نے خود کلامی کی۔
میں کس دور میں، کہاں پہنچ گئی ہوں؟ اس نے ہتھیلیوں سے اپنی آنکھیں ملیں اور گھوم پھر کر اس جگہ کا جائزہ لینے لگی۔ یہاں سناروں اور لوہاروں کی دکانیں تھیں۔
“اچھا! تو یہ یہودی قبیلے بنو قینقاع کا بازار ہے اور میں چودہ سو برس پیچھے
ماضی میں ہوں۔”
وہ ابھی یہی سوچ رہی تھی کہ ایک پردہ دار خاتون ایک سنار کی دکان میں داخل ہوئیں۔ سنار نے نگاہ خاتون پر ڈالی تو حیا کی یہ جھلک شیطان کے پیروکار کو اچھی نہ لگی۔ “ذرا چہرے سے نقاب تو ہٹاؤ۔”
اس نے خاتون کو گھورتے ہوئے کہا۔
صدیوں پہلے بھی حق و باطل کی یہی کشاکش تھی جو آج بھی جاری ہے۔ انہیں کے جانشین ہیں جو کبھی عزت مآب مروا الشربینی کو شہید کرتے اور کبھی مسکان خان کو ستاتے نظر آتے ہیں۔ زمانہ قدیم میں دور جدید جھلک رہا تھا۔
“نہیں!” خاتون کے لہجے کی قطیعت میں جیسے یہ پیغام چھپا تھا۔
مثالِ سیپ میں موتی، مجھے رب قیمتی سمجھے
مجھے اپنی قدر افزائی پہ مغرور رہنے دو،
مجھے مستور رہنے دو
ارے یہ کیا، خبیث سنار نے چپکے سے خاتون کی چادر کا کونا کسی چیز سے باندھ دیا تھا۔
اففففف،، وہ جیسے ہی اٹھیں، چادر اتر گئی اور وہ بے پردہ ہو گئیں۔ آس پاس کھڑے یہود کا قہقہہ فضا میں بلند ہوا۔ ان خاتون کی بے بسی پر جہاں اس کی آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئی تھیں وہیں قریب سے گزرتے ایک مسلمان کی غیرت بھی جوش کھا گئی تھی۔
مسلمان عورت جنس ارزاں نہیں اس امت کا مرکز ہے، اس کی قوت اور طاقت ہے، امت نے حق کے سپاہی اس کی گود میں پروان چڑھانے ہیں، اس کا مقام بلند تر ہے، جو ہاتھ اس کی بے حرمتی کے لیے بڑھیں گے، کاٹ دیے جائیں گے۔
موقع پر موجود مسلمان اس خبیث یہودی سے لڑ گیا تھا۔ اللہ اللہ! امت کی عصمت کے لیے اس نے جان لے بھی لی تھی اور دے بھی دی۔ مسلمانوں اور یہودیوں میں تصادم ہو گیا تھا، خبر پیغمبر برحق تک پہنچ گئی تھی۔ وہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آئے تھے یہود بنو قینقاع کو سمجھانے، مگر ہٹ دھرمی اور ضد میں تو دشمن خدا حد سے بڑھتے ہی چلے جا رہے تھے۔ اعلان جنگ ہو گیا تھا۔ وہ جو خود کو میدان حرب کہتے تھے مسلمانوں کے خوف سے پندرہ دن قلعہ بند رہنے کے بعد سہولویں دن ہتھیار ڈال چکے تھے۔ دختر اسلام کی چادر کھینچے کی پاداش میں سرزمین مدینہ ان کے پاؤں تلے سے کھینچ لی گئی تھی۔
ہوا سے کتاب کے ورق الٹ گئے تھے اور ان اوراق نے اسے واپس حال میں لا پھینکا تھا…….
کرسی کی پشت سے ٹیک لگائے وہ تھوڑی دیر جھولتی رہی۔
مسلمان عورت اپنے گھر کی ملکہ ہے، گھر اس کا مورچہ اور انسانوں کی تربیت اس کا اولین فریضہ،، انسان بناؤ تم جیسے
تہذیب بھی ویسی بنتی ہے
تہذیب ہے عورت کے بس میں
وہ کیسی نسلیں جنتی ہے
وہ کیسے مرد بناتی ہے
وہ کیا اخلاق سکھاتی ہے
کیا جذبے آخر گھول کے وہ
بچے کو دودھ پلاتی ہے
کس کیفیت کی مستی میں
وہ میٹھی لوری گاتی ہے
مسلمان عورت ہونا جہاں ایک بہت بڑا اعزاز ہے وہیں یہ اعزاز ایک بھاری ذمہ داری کا متقاضی بھی ہے۔ انسانوں کو انسان بنانے کی ذمہ داری..
اس کی نگاہیں ایک بار پھر کھلی کتاب کے صفحے پر بکھری لکیروں پر آن ٹھہری تھیں، عجب کتاب تھی اوراق نے اسے لپیٹ کر پھر کہیں لا پھینکا تھا۔
عجیب منظر تھا..
زناٹے دار تھپڑ کی گونج کے ساتھ ایک فریاد بلند ہوئی تھی..
“ہائے خلیفہ معتصم تم کہاں ہو؟”
فریاد کے بلند ہوتے ہی تمسخر بھرے قہقہوں سے فضا بھر گئی تھی۔
قہقہوں کے اختتام پر فریاد بلند کرنے والی کو ایک اور تھپڑ رسید کیا گیا اور مذاق اڑاتے ہوئے کہا گیا:
“معتصم باللہ اس پکار کا کیوں کر جواب دے سکتا ہے! آیا وہ چتکبرے گھوڑے پر سوار ہوکر تیرے پاس آئے گا اور تیری مدد کرے گا؟”
“خلیفہ معتصم!” پکارنے والی خلیفۃ المسلمین کو پکار رہی تھی اور بھلا کیوں نہ پکارتی؟ آخر ایک بیٹی اپنے تحفظ کے لیے باپ ہی کو تو آواز دیتی ہے اور خلیفہ امت واحدہ کے لیے مثل باپ ہی تو ہے۔
وہیں کہیں ایک گھڑ سوار بھی موجود تھا جو اسی کی طرح اس واقعہ کا چشم دید گواہ تھا۔
“میں اس مظلومہ کی پکار خلیفہ تک پہنچاؤں گا۔” گھڑ سوار بغداد کی جانب اڑا چلا جا رہا تھا۔
وہ بھی اس کے ساتھ لمحوں پر سفر کرتی خلیفہ کے دربار میں تھی۔
واقعہ سن کر خلیفہ کا چہرہ غصے سے سرخ ہو گیا تھا۔ اس نے رخ عموریہ کی جانب موڑا
اور پختہ عزم سے کہا:
“میں تیری آواز پر حاضر ہوں اے میری بیٹی، معتصم تیری پکار کا جواب دینے آرہا ہے.”
خلیفہ کے حکم پر عموریہ کے لیے بارہ ہزار چتکبرے گھوڑے تیار کروائے جا چکے تھے اک لشکر جرار عموریہ کی سمت بڑھ رہا تھا.
قریبا 55 دن کے محاصرے کے بعد عموریہ
مسلمانوں کے پرچم تلے تھا۔
مسلم خاتون کو تھپڑ کا قصاص کیا دلوایا گیا گویا عالم رنگ و بو میں رنگ و خوشبو بن کر یہ پیغام ہر سمت سفر کر گیا کہ امت محمدیہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے گھر کے قلعے کی نگہبان کی نگہبانی کرنا خوب جانتی ہے۔
کتاب کے اوراق نے ایک چمکتا دمکتا منظر دکھا کر اسے پھر حال میں پہنچا دیا تھا۔ وہ ایک بار پھر کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی۔ کیسی سیاہ رات تھی؟ ہر جانب گہرے اندھیرے کا راج تھا۔ اسے وحشت ہونے لگی۔ اس کی نگاہیں پلٹ کر پھر اوراق میں سے روشنیاں تلاش کرنے لگیں۔
دربار سجا ہوا تھا۔ راجا کے سامنے ہیرے و جواہرات اور قیمتی تحائف لائے جا رہے تھے۔
“عالی جاہ! یہ سب تحائف گورنر حجاز حجاج بن یوسف کے لیے آپ کے حکم پر تیار کروائے گئے ہیں۔” ایک مشیر نے ادب کے ساتھ راجا کو بتایا۔
“ہممم، تحائف خوب ہیں اور ہونے بھی چاہئیں. ہم گورنر حجاز کے ساتھ اپنے مراسم مضبوط کرنا چاہتے ہیں۔”
“یہ تحائف ان تک کیسے پہنچائے جائیں گے؟” راجہ نے استفسار کیا۔
“کچھ مسلمان خاندان حج بیت اللہ کے لیے بحری جہاز سے جا رہے ہیں ان کے ساتھ بجھوائے جائیں گے۔”
مشیر نے مستعدی سے جواب دیا۔
“خوب، انہیں کے ساتھ پچھلے دنوں جو مسلمان خاندان بحری حادثے کا شکار ہوئے ہیں ان کی عورتیں اور بچے بھی سوار کروا دو کہ وہ عراق اپنے عزیز و اقارب سے جا ملیں۔”
لنکا کے راجہ نے حکم نامہ جاری کرتے ہوئے دربار برخاست کر دیا تھا۔
جہاز لنکا سے روانہ ہوا تو وہ بھی اس میں سوار تھی یہ ایک لمبا سفر تھا۔ جانے یہ کون سا مقام تھا جہاں جہاز بری طرح ڈولنے لگا تھا۔ تیز ہوائوں اور سمندری لہروں کے رحم و کرم پر جہاز کے خوفزدہ اور گھبرائے ہوئے مسافروں کو ایک اور مصیبت نے گھیر لیا جب جہاز دیبل کے ساحل سے جا ٹکرایا۔ “اففف کس قدر خوفناک ہیں یہ سب”،، سمندری ڈاکوؤں کے کرخت چہروں سے وہ بھی ڈر گئی تھی۔ ہر طرف عجیب ظلم اور سفاکی تھی صد شکر کہ وہ کسی کو نظر نہیں آ رہی تھی۔ سمندری ڈاکو جہاز پر لدا ہوا سامان اور مال وزر لوٹ رہے تھے۔ مسافروں کو بے دردی سے مار پیٹ کر قید کیا جا رہا تھا۔ قیامت کا عالم تھا ہر طرف آہ وزاری تھی، کہرام مچا ہوا تھا رونے پیٹنے کی صدائیں فضا میں بلند تھیں، خوف وہراس کا عالم تھا، بے بسی اور ظلم کا اندھیرا تھا۔ اسی دوران ایک لڑکی کی انتہائی دردناک آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی، “اے حجاج تجھ سے فریاد اور دہائی ہے مدد کے لیے آ..”
وہ دیکھ رہی تھی کہ مسلمان مسافروں اور ڈاکوؤں کے مابین کشاکش جاری تھی. ایسے میں چند بہادر ڈاکوؤں کے نرغے سے نکلنے میں کامیاب ہوگئے اور دشواریوں کے بعد حجاج بن یوسف کے پاس جا پہنچے، وہ بھی ان کے ساتھ تھی۔
وہ بہادر، گورنر حجاز کو دردناک واقعہ سنا رہے تھے. حجاج کا چہرہ غصے سے متغیر ہو رہا تھا اور جب مسافر نے مصیبت زدہ لڑکی کی فریاد بیان کی تو وہ بے ساختہ پکار اٹھا، ’’لبیک، ہاں میری بیٹی میں تیری مدد کے لیے پہنچا۔”
وہ اپنی آنکھوں سے سب احوال دیکھ رہی تھی کہ مسافروں کی رہائی کے لیے کیسے حجاج کا سفیر دیبل کے راجہ داہر کے دربار سے ناکام لوٹ آیا تھا۔ اب مشکل میں پھنسے مسلمان مسافروں کے لیے جو کرنا تھا وہ حجاج کو خود ہی کرنا تھا۔
وہ دیکھتی ہی رہ گئی کہ ڈاکوؤں کی قید سے مسلمان مسافروں کو آزاد کروانے کے لیے حجاج نے جس نوجوان کو منتخب کیا تھا وہ تو جرأت، بہادری، فراست اور ہمت کی مجسم تصویر تھا. وہ نوجوان سپہ سالار اپنے سپاہیوں سے مخاطب ہوا تو اس کا خون بھی جوش مارنے لگا وہ کہہ رہا تھا:
’’جہاد ہمارا فخر ہے اور تلوار بازی ہماری عظمت ہے، جب ہم اللہ کی خاطر جنگ کیلئے نکلتے ہیں تو اللہ تعالی ہمارے لئے نصرت اور فتح کے دروازے کھول دیتا ہے، قسم ہے اللہ کی کہ میں عراق کے تمام مال اور اپنے پاس کی ساری دولت اس وقت تک خرچ کرتا رہوں گا جب تک کہ مظلوم مسلمانوں کو کافروں کی قید سے نہ چھڑا لوں۔‘‘
اس کے بعد نوجوان سپہ سالار محمد بن قاسم آندھی طوفان بن کر راجا داہر اور اس کی فوج پر ٹوٹا اور اس کی یہ مہم اس وقت پایہ تکمیل کو پہنچی جب بدنصیب جہاز کے قیدی آزاد ہوگئے. لنکا کے اجڑے ہوئے خاندانوں کی عورتیں اور بچے واپس حجاج کے پاس پہنچا دیے گئے اور اے حجاج مدد کو آ، پکارنے والی لڑکی بھی اپنے عزیزواقارب کے پاس سکھ کا سانس لے رہی تھی۔ وہ نسلوں کی امین تھی، اسے بھلا مشرک ڈاکوؤں کے رحم و کرم پر کیسے چھوڑا جا سکتا تھا؟
اسے پتا نہیں چلا کب وہ عراق سے واپس اپنی کرسی پر آن بیٹھی تھی۔
لمحہ بھر اپنی کرسی پر جھولتے جھولتے وہ ایک بار پھر کتاب پر جھک گئی۔
اب کی بار وہ ریاست ٹیکساس کے فورٹ ورتھ جیل میں آن موجود ہوئی تھی۔ جیل کے کمرے کے درمیان مانند دیوار ایک موٹا شیشہ لگا ہوا تھا۔ شیشے کے اس پار جیل کے خاکی لباس، سفید اسکارف اور ہتھکڑیوں اور زنجیروں میں جکڑی ایک نحیف و نزار خاتون تھی جسے شیشے کے دوسری طرف موجود خاتون محبت و بے بسی سے “میری پیاری بہن عافیہ!” کہہ کر پکار رہی تھی۔ مظلوم و بے بس مگر بہادر بہنوں کی یہ ملاقات بیس سال بعد ممکن ہوئی تھی، وہ دونوں ہاتھ ملانے اور گلے ملنے کو بےتاب تھیں مگر اس دنیا کے مردہ انصاف کی مانند شیشے کی دیوار ان کے بیچ کھڑی تھی۔ عافیہ کے سامنے کے دانت گرے ہوئے اور سر پر چوٹوں کے باعث سماعت متاثر تھی۔ عافیہ اپنے بچوں اور ماں کو یاد کر رہی تھی، فریاد کر رہی تھی اپنی بے گناہی کی،
اپنے کیس میں ہونے والے عدل و انصاف کے خون کی،
اپنے اوپر ہونے والے انسانیت سوز مظالم کی،
انسانی حقوق کی پامالی کی،
حقوق نسواں کی پامالی کی،
جیل میں موجود قیدیوں کے حقوق کی پامالی کی،
امریکی جہنم نما جیل سے نکالے جانے کی فریاد،
قرآن پاک کی بے حرمتی رکوانے کی فریاد…….
………
مگر فریاد بنام………….
کس کے؟؟؟
عافیہ کو سمجھ نہیں آ رہی تھی
اس کرہ ارض پر اب کوئی خلیفۃ المسلمین نہیں تھا، اس امت واحدہ کے لیے کوئی مثل باپ نہیں تھا وہ کسے پکارتی…. ؟
دوسری جنگ عظیم کے بعد ٹکڑوں میں بٹ جانے والی امت نیل کے ساحل سے تابخاک کاشغر بکھری ہوئی تھی۔
مگر وہ پھر بھی پکار رہی تھی
“مجھے اس جہنم سے نکالو!!!”
……. نکالو
…… نکالو
……….
اے مسلمانو!
مجھے اس جہنم سے نکالو!
عافیہ کی بہن فوزیہ بے قرار دل و روح لیے جامد و ساقط بیٹھی تھی۔
وہی قاتل، وہی شاہد، وہی منصف ٹھہرے
اقربا میرے کریں، خون کا دعویٰ کس پر
اب کی بار وہ گھبرا کر خود ہی کتاب کے اوراق سے نکل آئی تھی۔ اس نے ایک بار پھر کھڑکی سے باہر جھانکا….
ہنوز گہرا اندھیرا تھا…..
وہ دیر تک اسی اندھیرے میں جھانکتی رہی… اندھیرے کی وجہ جاننے اور اس کے ختم ہونے سے متعلق سوچتی رہی….
اسے سمجھ آ رہی تھی یہ گہرا سیاہ
اندھیرا کسی رات کا نہیں… کہ رات تو چاند، جگنو اور ستارے ساتھ لے کر آتی ہے
یہ اندھیرا تو جہالت کا تھا،
رب کی نافرمانیوں اور مایوسیوں کا تھا،
امت واحدہ کے گروہ در گروہ تقسیم ہو جانے کا تھا،
کشمیر، فلسطین سمیت دنیا بھر کی مظلوم مسلمان بیٹیوں بشمول ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے ساتھ ہونے والی نا انصافی اور مظالم پر بے حسی اور مجرمانہ غفلت کا نتیجہ تھا……
وہ کرسی سے اٹھ کر کمرے میں ٹہلنے لگی تھی….
کچھ نہیں ہو گا اندھیروں کو برا کہنے سے
اپنے حصے کا دیا خود ہی جلانا ہوگا
اسے یاد آ رہا تھا کہ بگرام اور گوانتامو بے سے رہا ہونے والے برطانوی قیدیوں کی رہائی عمل میں لانے کا باعث کٹھ پتلی عدالتیں یا وکلاء نہیں تھے بلکہ عوامی دباؤ اور سیاسی قوت تھی۔ ان حالات میں عافیہ کو چھڑوانے کوئی مجسم معتصم اور محمد بن قاسم تو نظر نہیں آ رہا مگر عوامی دباؤ بہرحال معتصم کے چتکبرے گھوڑوں کا لشکر جرار اور محمد بن قاسم کا غیض و غضب بن کر ظلم کے ایوانوں کو ہلا سکتا ہے اور مظلوم عافیہ کی بعینہ دادرسی کر سکتا ہے جیسے بازار قینقاع، سلطنت عموریہ اور دیبل کے ساحل پر ڈاکوؤں کے نرغے میں آ جانے والی دختران اسلام کی کی گئی تھی۔