دنیا بھر میں 15 اکتوبر کوہاتھ دھونے کا عالمی دن
عالمی سطح پر منایا جاتاہے۔اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ اِس دن کے منانے کا مقصد لوگوں میں یہ شعور اور آگہی پیدا کرنا ہے کہ ہاتھ دھونا ہیپاٹائٹس، نمونیہ اور اسہال جیسی بیماریوں کو روکنے کا سب سے موثر طریقہ ہے۔اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال کے ڈپٹی نمائندہ نے بتایا کہ کھانا کھانے سے پہلے اور ٹائلٹ کے استعمال کے بعد ہاتھ دھونا بیماریوں سے بچاؤ کا بہترین حل ہے۔ سیلاب سے متاثرہ خاندان اور بچے نامناسب حالات میں رہنے پر مجبور ہیں۔ گندگی دور کرنے کے لیے ہاتھ دھونے جیسے عمل سے بیماریوں کو روکا جا سکتا ہے۔ایک تحقیق کے مطابق صابن سے ہاتھ دھونے سے پانچ سال سے کم عمر کے بچوں میں دست و اسہال کی بیماری کی شرح 50 فیصد جبکہ سانس کے ذریعے انفکیشن کی شرح 25 فیصد تک کم ہو جاتی ہے۔ حالیہ کرونا وائرس وبا میں ہاتھوں کو دھونا اور ضروری ہو گیا ہے۔ کیوں کہ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آپ کسی ایسی سطح کو چھوتے ہیں جسے دوسرے لوگ بھی ہاتھ لگا رہے ہوں تو پھر ضروری ہے کہ آپ اپنے ہاتھ اچھی طرح دھو لیں۔ کیونکہ کرونا وائرس کے بعض مریض ایسے بھی ہوتے ہیں جن میں بظاہر بیماری کی کوئی علامت نہیں ہوتی اور وہ دوسروں کو وائرس منتقل کرنے کا سبب بن جاتے ہیں۔ہاتھ دھونا خود کو اور اپنے ملنے والوں کو بیمار ہونے سے بچانے کے لیے بہترین اور واحد حل ہے۔ ہاتھوں کو دھونا آپ کو صحت مند رکھ سکتا ہے اور تنفسی اور ڈائریا والے انفیکشنز کو ایک شخص سے دوسرے شخص میں پھیلنے سے روکتا ہے۔بیماری اور جراثیم کے خطرات اس وقت بڑھ جاتے ہیں جب آپ بغیر دھو ئے ہاتھوں سے اپنی آنکھ، ناک یا منہ کو چھوتے ہیں بغیر دھوئے ہاتھوں سے غذا یا مشروبات تیار کرتے یا کھاتے پیتے ہیں یا آلود زدہ سطح یا چیزوں کو چھوتے ہیں۔ ہاتھ سے اپنی ناک صاف کرتے ہیں، اس میں کھانستے، یا چھینکتے ہیں اور پھر دوسرے لوگوں کے ہاتھوں یا عام چیزوں کو چھوتے ہیں۔آپ اپنے ہاتھوں کو دھو کر صحت مند رہنے میں اپنی اور اپنے عزیزوں کی مدد کر سکتے ہیں۔ خاص طور پر ان اہم اوقات کے دوران جب آپ کو جراثیم لگنے اور پھیلنے کا خطرہ ہو۔مثلا کھانا تیار کرنے سے پہلے کھانے کے دوران اور بعد میں کھانا کھانے سے پہلے اور بعدمیں گھر پر کسی ایسے فرد کی دیکھ بھال کرنے سے پہلے اوربعد میں جو قے یا ڈائریا کی بیماری میں مبتلا ہو زخم کا علاج کرنے سے پہلے اور بعد میں۔ اپنی ناک صاف کرنے، کھانسنے یا چھینکنے کے بعد۔کسی جانور، جانور کی غذا، یا جانور کا فضلہ چھونے کے اور پالتو جانور کی غذا یا کھانے کی چیزیں چھونے کے بعد اسی طرح کوڑا وغیرہ چھونے کے بعد ایسے دیگر اوقات بھی ہو سکتے ہیں جب ہاتھوں کو دھونا اہم ہو سکتا ہے۔انسانی زندگی کا وہ کون سا ایسا موقع ہے جہاں اسلام نے راہنمائی نہ کی ہو؟ انسان کی پیدائش سے موت تک بچپن سے بڑھاپے تک اسلام راہنما نظر آتا ہے۔ جہاں تک صفائی و ستھرائی کا تعلق ہے تو اسے اسلام میں ایمان کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔ صفائی ستھرائی کو ایک خاص اہمیت حاصل ہے۔اس کے باجود ہمارے معاشرہ میں اس کاکچھ خاص اہتمام نہیں کیا جاتا۔تنبیہ کے باوجود بعض لوگوں کو اس بات کا احساس نہیں ہوتا ہے کہ ان کے کپڑے یا گھر وغیرہ گندے یا غیر منظم ہیں۔ان میں بعض توایسے ہیں جو صفائی ستھرائی کے بہت زیادہ اہتمام کو دنیا داری سمجھتے ہوئے اسے فضول عمل تصور کرتے ہیں۔حالانکہ کہ صفائی ستھرائی شخصیت کو مضبوط ومستحکم بنانے اور متعدد بیماریوں سے محفوظ رکھنے میں نمایاں کردار ادا کرتی ہے ۔ اس کے علاوہ اس کے بے شمار دنیوی اور اخروی فوائد ہیں۔ہمیں اس کا اہتمام کرنا چاہیے۔آج کل خواتین میں یہ فیشن عام چل نکلا ہے کہ وہ اپنے ایک ہاتھ کے ناخن لمبے رکھتی ہیں۔ خاص کر ایک انگلی کا ناخن بڑھا لیتی ہیں جوکہ شرعا درست نہیں ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ناخن کاٹنے کا حکم دیا ہے۔ لہذا ناخنوں کو بڑھانا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی نافرمانی ہے جو کسی مسلمان کے لیے روا نہیں۔ بعض احادیث میں ناخن کاٹنے کو فطرت میں شمار کیا گیا ہے۔ فقہاءِ کرام نے ہر ہفتہ ناخن تراشنے کو مستحب قرار دیا ہے۔ اور ہرجمعے کے روز نہ کاٹ سکے تو ایک جمعہ چھوڑ کر پندرہ دن میں تراش لے۔ اور چالیس دن سے زیادہ ناخن یا بال نہ کاٹنا مکروہ ہے۔ فیشن کے طور پر یا فساق و فجار کی مشابہت میں ناخن بڑھانے کی اجازت نہیں۔اسلام نے انسان کوظاہری وباطنی نفاست اورپاکیزگی کا تصور دیا ہے۔اور اس پر کاربند رہنے کی تلقین کی ہے۔حالات کے اعتبار سے بندہ امیر ہو یا فقیر ہر حال میں صفائی و ستھرائی انسان کے وقار و شرف کا آئینہ دارہے۔طِبّی لحاظ سے بھی بڑے ناخن مضرِصحت(یعنی صحت کے لیے نقصان دہ ) ہیں ناخن میں ایک زہریلا مادہ ہوتا ہے اگر ناخن کھانے یا پانی میں ڈبوئے جائیں تو وہ کھانا بیماری پیدا کرتا ہے۔ اسی لئے انگریز وغیرہ چھری سے کاٹ کھانا کھاتے ہیں کیونکہ عیسائیوں کے یہاں ناخن بہت کم کٹواتے ہیں ۔ ناخن جراثیم کی پناہ گاہ ہیں اور کئی قسم کی پھیلنے والی بیماریوں مثلا ٹائیفائیڈ ،اسہال، آنتوں میں کِیڑے اور ورم کا سبب بنتے ہیں۔ بعض لوگ دانتوں سے ناخن کاٹنے کے عادی ہوتے ہیں۔اس ناپسندیدہ عادت کو ختم کرنا چاہئےاس سے برص پیدا ہونے کا اندیشہ ہے۔پھریہ کہ ناخن تراشنا جہاں ایک طرف صحت کا باعث ہے تو دوسری جانب سنت ومستحب عمل ہے اور بندہ سُنّت کے مطابق انہیں تراش کر ثواب کا مستحق ٹھہرتا ہے۔ جمعہ کے دن ناخن ترشوانا مستحب ہے ،ہاں اگر زیادہ بڑھ گئے ہوں تو جمعہ کا انتظار نہ کریں۔ہاتھوں کے ناخن تر اشنے کے دو سنت طریقوں میں سے ایک آسان طریقہ یہ ہے کہ سیدھے ہاتھ کی شہادت کی اُنگلی سے شرو ع کر کے ترتیب وار چھنگلیا سمیت ناخن تراشیں مگر انگوٹھا چھوڑدیں ۔اب اُلٹے ہاتھ کی چھُنگلیا سے شروع کرکے ترتیب وار انگوٹھے سمیت ناخن تر اش لیں۔ آخرمیں سیدھے ہاتھ کا انگو ٹھا جو باقی تھا اس کا ناخن بھی کاٹ لیں ۔ہاتھوں کی صفائی بدن کی صفائی چاہتی ہے۔اور بدن کی صفائی ماحول کی صفائی چاہتی ہے۔بالکل اسی ظاہری صفائی باطنی صفائی کی خواہشمند ہوتی ہے۔تو معلوم ہوا کہ صفائی اور پاکیزگی کی ضرورت ہر جگہ اور ہر مقام پر ہے۔سب سے بڑھ کر صفائی اور طہارت اسلام کا ایک اہم ترین اصول ہے ۔صفائی اور پاکیزگی کے بغیر انسان عبادت نہیں کرسکتا ظاہری پاکیزگی کے ساتھ ساتھ اگر ہم سماج اور معاشرہ میں برائی، عیاشی اور فحاشی سے بھی پاکیزگی حاصل کرلیں تو ہمارا پیارا وطن صاف ستھرا ہو سکتا ہے۔ خیالات کی پاکیزگی، ریاست کی پاکیزگی، مذہب کی پاکیزگی، سوچ اور فکر کی پاکیزگی بھی لازمی اور ضروری ہے۔