128

جناح ہاؤس کی تاریخ 9 مئی تک/تحریر/عبدالجبار سلہری

جناح ہاؤس لاہور جہاں واقع ہے، یہ زمین لالہ شیو دیال سیٹھ کے نام تھی۔ جو لاہور کی اہم سماجی شخصیت مانی جاتی تھیں۔ سیٹھ صاحب کنسٹرکشن کے کاروبار سے منسلک تھے۔ انہوں نے 1935 میں اپنی وفات سے چند سال پہلے یہ زمین خواجہ نذیر احمد کو بیچ دی۔ جنہوں نے یہ زمین اپنی زوجہ کے نام منتقل دی۔ ان کی زوجہ نے یہ بنگلہ لالہ موہن لال بھاسن کو فروخت کر دیا۔ قائداعظم نے یہ جائداد موہن لعل سے جولائی 1943 میں ایک لاکھ 62 ہزار 500 روپے میں خریدی تھی۔
قائداعظم نے جب جناح ہاؤس خریدا تو اس سے پہلے 1944ء میں برطانوی فوج نے اس بنگلے کو ڈیفنس آف انڈیا رولز کے تحت (برطانوی فوج اس وقت کوئی بھی جائیداد حاصل کر سکتی تھی) قبضہ کرکے سات سو روپے ماہانہ کرایہ دینا شروع کر دیا۔
جب قائداعظم نے یہ بنگلہ خرید لیا تو فوج کی کرایہ داری کا معاہدہ 28اپریل 1947ء کو ختم ہونا تھا مگر برطانوی فوج نے جبرا اس رول کے تحت اس میعاد میں اضافہ کر دیا۔
جس پر قائداعظم نے قانونی کارروائی شروع کر دی۔ یکم اگست 1947ء کو قائد اعظم کو خط آیا، جس میں یہ مژدہ سنایا کہ آپ کا گھر واپس کر دیا جائے گا۔
31جنوری 1948ء کو اس گھر کی توسیع شدہ مدت ختم ہو گئی لیکن قائد اعظم کو اس گھر کا قبضہ نہ دیا گیا۔
یکم اگست 1947 کو کرنل اے آر ہارس نے قائداعظم کو ایک خط لکھ کر 31 اگست 1947 تک بنگلہ خالی کرنے کا مژدہ سنایا لیکن قائداعظم اپنی ذاتی مصروفیات کی بنا پر بنگلے پر قبضہ نا کر سکے تو 31 جنوری 1948 تک کرایہ نامے میں توسیع کردی گئی۔
اس دوران قائد اعظم بیمار ہو گئے آپ کو پہلے ملیر کینٹ اور زیارت لے جایا گیا اور طبیعت نہ سنبھلنے پر گیارہ ستمبر کو اس دار فانی سے کوچ کر گئے۔ وفات کے بعد فوج نے یہ طے کیا کہ یہ بنگلہ خرید کر پاک فوج کے حوالے کر دیا جائے۔ چنانچہ 21 مارچ 1959 ء کو محترمہ فاطمہ جناح نے معاہدہ پر دستخط کر دیے۔ جرنل ایوب کے دور حکومت میں فوج کی طرف سے ملٹری سٹیٹ افسر ایس کے رضوی نے معاہدہ پر دستخط کیے اور ساڑھے تین لاکھ روپے کا ایک چیک محترمہ فاطمہ جناح کو پیش کیا گیا مگر انہوں نے یہ چیک لینے سے انکار کر دیا اور کہا کہ چیک قائد اعظم ٹرسٹ کے نام بنایا جائے۔ یوں یہ بنگلہ فوج کی ملکیت بن گیا۔ جسے بعد میں کور کمانڈر ہاؤس بنا دیا گیا۔ اس گھر کے 3 کمروں میں قائد اعظم کی استعمال شدہ کم و بیش 1500 سے زائد نادر و نایاب اشیا موجود تھیں۔ جن میں قائد محترم کی تاریخی تصاویر ، ان کا زیر استعمال صوفہ سیٹ، سنوکر ٹیبل، کرسیاں، ان کا سگار دان، قائد کا بستر، جوتے اور کپڑے تھے. افسوس صد افسوس جو ہمارا قیمتی و تاریخی سرمایہ تھا اب وہ سب جل کر راکھ بن گیا ہے ۔
یہ سب کچھ 9 مئی سے پہلے بالکل صحیح سالم تھا مگر ایک سیاسی جماعت کے لیڈر کی گرفتاری پر احتجاج کی کال دیتے ہوئے سیاسی بلوائیوں شر پسندوں نے  توڑ پھوڑ کے دوران قائد اعظم کی تمام تر نادر و نایاب قیمتی اشیاء جلا کر خاکستر کر دیں اور پورے گھر کو آگ کے شعلوں کے حوالے کر دیا۔ پھر جس کو جلتا ہوا پوری دنیا نے دیکھا ۔
سیاسی بلوائیوں نے باقاعدہ منصوبہ بندی کے ساتھ کور کمانڈر ہاؤس پر حملہ کیا اور عمارت میں موجود سارے سامان پر ہاتھ صاف کیا۔
9 مئی کو شر پسندوں نے ”جناح ہاؤس“ کو جلا کر  پاکستان کی تاریخ میں ایک سیاہ باب کا اضافہ کیا ہے۔ ‏یہ دردناک دن کروڑوں پاکستانیوں کو غمزدہ کرگیا۔ ہر فوجی،سویلین غم میں نڈھال نظر آتا ہے ایسا کونسا نظریہ تھا جس نے پاکستان کے ساتھ محبت کو جلادیا۔ کم ظرفوں نے قائد اعظم کے جناح ہاؤس کو بھی نہیں چھوڑا۔ یہاں آج پاکستان کے محافظ رہتے ہیں۔‏ جب جناح ہاؤس پر حملہ ہوا اس وقت سیاسی جماعت کے رہنماؤں اور کارکنوں نے کس طرح ڈیوٹی پر معمور فوجی اہلکاروں سےبدتمیزی، گالم گلوج ، گھٹیا و بازاری زبان استعمال کی کس طرح خواتین کا فسطائیوں، بلوائیوں کو جناح ہاؤس جانے توڑ پھوڑ کرنے کیلئے اکساتی رہیں۔
کور کمانڈر ہاؤس میں ہونے والی بیخ کنی اور لوٹ کھسوٹ میں خواتین نے بھی اپنا پورا حصہ ڈالا لوٹ مار کرنے والی ایک خاتون یہ کہتی نظر آتی ہے یہ ہمارے پیسوں کی چیزیں ہیں۔ اِن پر ہمارا حق ہے اور انہوں نے اپنا حق لے لیا ہے۔
لوٹ مار کرنے والوں نے کمانڈر ہاؤس کے اندر دیواروں پر لگی قیمتی تصاویر، پینٹنگز، نمائشی چیزیں، برقی قمقمے ایک شخص نے کور کمانڈر ہاؤس میں رکھا ہوا مور تک لے کرکے اڑن چھو ہو گیا حتٰی کہ فریج میں رکھی کھانے پینے کی چیزیں اور فریج تک لوٹ لی گئی۔ بلوائیوں نے کمانڈر ہاؤس کے کپڑوں کی الماری اور خفیہ دستاویزات سمیت ہر جگہ کی تلاشی لی جس کے ہاتھ جو آیا اسے لوٹ لیا گیا اور جو بچ گیا اسے توڑ دیا گیا۔
لوٹ مار کرنے ادھم مچانے کے بعد بلوائیوں نے کور کمانڈر ہاؤس کو نذر آتش کرنا شروع کر دیا۔ ڈنڈا بردار سیاسی فسطائیت میں اتنا گر چکے تھے کہ جس کمرے میں جاتے پہلے توڑتے اور اگر دل نا بھرتا آگ لگا دیتے۔ کمانڈر ہاوس کی ایسی کوئی جگہ نہیں بچی جس کو آگ نہ دکھائی ہو۔
‏اس منحوس شرم سار، اندوہناک اور حسرت ناک واقعہ کے بعد سے اس کے جو منفی اثرات مرتب ہونگے ان کے بارے سوچ کر ہی دل پسیج رہا ہے۔ بندہ جتنا اس سیاہ دن کے بارے میں سوچتا ہے اتنا ہی غم و غصہ بڑھتا جاتا ہے کہ ہم پاکستان کے نظریے کے خود ہی دشمن بن گئے ہیں۔ عوام کو تقسیم کرنے فوج اور عوام کو آمنے سامنے لانے میں جو ہمارا ازلی دشمن پچھتر سالوں میں اپنا خواب پورا نا کر سکا وہ ایک سیاسی جماعت کے کارکنوں نے کر دکھایا۔ جنہوں نے یہ سب کیا ان کو شاید اس بات کا اندازہ نہیں تھا کہ نظریہ پاکستان ان کے ناپاک اور خود غرضی سے بھرپور عزائم سے کہیں زیادہ معتبر اور مضبوط ہے۔
میری وزیراعظم پاکستان اور جنرل عاصم منیر صاحب سے درخواست ہے کہ ‏9 مئی کے واقعات کے شرپسندوں کو نشانِ عبرت بنایا جائے۔ اپنے ملک اور اپنے اداروں سے سوتیلی ماں جیسا سلوک کرنے والوں کی اصلاح ضروری ہے۔ جناح ہاؤس پر حملہ کرنے والوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔ اک سیاسی جماعت نے احتجاج کا جو کلچر و رویہ اپنایا ہے۔ کسی لحاظ سے ملک کے لیے قابل قبول نہیں ہے۔ اللہ تعال ہم سب کو وطن عزیز سے محبت کرنے کی توفیق بخشے آمین ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

جناح ہاؤس کی تاریخ 9 مئی تک/تحریر/عبدالجبار سلہری“ ایک تبصرہ

  1. ما شاءاللہ بہت اچھا لکھا ہے یہ سائٹ واقعی علم و ادبی ہے میں نے اکثر مضامین پڑھے بہت علمی تھے ما شاءاللہ

اپنا تبصرہ بھیجیں