87

علم سے جاہل کی جہالت نہیں جاتی/تحریر/ محمد عامر گھوٹکی،سندھ

تہذیب سکھاتی ہے جینے کا سلیقہ
تعلیم سے جاہل کی جہالت نہیں جاتی

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ علم ایک عظیم دولت ہے ، جو عظمت کا نشان ہے۔ قرآن کا فیصلہ ہے کہ علم والے اور بے علم لوگ ہرگز برابر نہیں ہو سکتے. علم وہ سرمایہ ہے جس کو ہر دم بڑھانے کی اللہ نے اپنے نبی کو تاکید کی ہے اور اس کے لیے دعا گو رہنے کا فرمایا ہے۔

جی ہاں ،علم اگر صحیح معنی میں ہو تو فرش سے عرش کی بلندی تک پہنچادیتا ہے، لیکن اگر علم عمل کے زیور سے خالی ہو،تو وہ علم بجائے عزت کے ذلت ورسوائی کا باعث بنتا ہے۔ لہذا علم اگر صرف علم کی حد تک ہو اور عمل سے خالی ہو تو وہ علم جاہل کی جہالت کبھی ختم نہیں کر سکتا ، علم تو ایک راستہ ہے اس پر عمل کرکے ہی منزل اور کامیابی حاصل کی جاسکتی ہے

بڑے بزرگوں نے صحیح کہا ہے کہ علم اور عمل دو ساتھی ہیں ،علم عمل کو آواز دیتا ہے،اگر عمل آجائے تو ٹھیک ورنہ دونوں وہاں سے روانہ ہوجاتے ہیں۔

لہذا جب صحیح علم روانہ ہو جاتا ہے، تو باقی معلومات رہ جاتی ہیں ،جو صرف دماغ کو اونچا کرنے کا کام کرتی ہیں ۔ خالی علم تکبر اور بڑائی پیدا کرتا ہے، جس سے آدمی خود کوکچھ اور ہی سمجھنے لگتا ہے، ، گردن اکڑ جاتی ہے ، جبکہ باقی لوگ حقیر اور بے قیمت دکھائی دینے لگتے ہیں ۔اس کا رویہ دوسروں سے تبدیل ہو جاتا ہے ، بڑوں کو بڑا انہیں سمجھتا ، قابل احترام بزرگوں کا احترام نہیں کرتا ، جہاں اسے عزت بلکہ خوشامد ملتی ہے وہاں خوش رہتا ہے، اور جہاں اس کا استقبال و خیر مقدم نہ ہو ان کے خلاف شمشیر بے نیام بن جاتا ہے۔ ان کی برائی کرنا اور ان کی نیکیوں میں برائیاں تلاش کرنا اس کا شیوہ ہوتا ہے
غرض حد سے گزرنے میں بھی عار محسوس نہیں کرتا۔
، اپنے غلط کو بھی علم کے زور پر درست کا لباس پہنانے لگتا ہے۔ غلطی کا اعتراف کرنے سے اس کی ناک کٹتی ہے
،لہذا وہ کبھی جھکتا نہیں۔
حالا نکہ سب جانتے ہیں کہ جھکے درخت آندھی طوفان کے حملوں سے بچ جاتے ہیں جبکہ اکڑے ہوئے تن آور درخت طوفانوں کے نشانوں پر ہوتے ہیں اور جڑ سے اکھڑ جاتے ہیں ،

علم کے درخت پر جب عمل کا پھل لگتا ہے تو وہ درخت جھک جاتاہے۔جبکہ بے پھل درخت اکڑا کھڑا رہتا ہے۔

لهذا اللہ سے علم نافع کا سوال کرنا چاہیے۔ کیونکہ علم نافع ہی دنیا اور آخرت میں کا میابی کا ضامن ہے۔ علم نافع میں ، تو تاثیر ہی تاثیر ہے زندگی کی کایا پلٹ دیتا ہے مگر جب دل میں ہی قبول کرنے کی صلاحیت نہ ہو،تو پھر الامان والحفیظ۔
چنانچہ حدیث میں آتا ہے۔ جس کا مفہوم ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں۔ جو علم و ہدایت میں لے کر آیا ہوں اس کی مثال اس بارش کی سی ہے جو ایک زمین پر برستی ہے تو اس بارش سے زمین کو بھی نفع ہوتا ہے اور اس سے پیڑ پودے اور گھاس وغیرہ پیدا ہوتے ہیں

جبکہ دوسری زمین اس پانی کو محفوظ کرتی ہے، مگر خود اس سے نفع نہیں اٹھاتی،لوگ اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔جبکہ تیسری زمین و ه هے جو نہ پانی محفوظ کرتی ہے نہ اس سے پیداوار ہوتی ہے ، نہ خود کو نفع نہ دوسروں کو نفع ، جو پانی آتا ہے اس پر سے بہہ جاتا ہے۔

لہذا علم کا اثردلوں پر ہوتا ہے،اگر دل میں صلاحیت ہے تو فائدہ ہوتا اور اس کا اظہار عمل اور رویہ سے ہوتا ورنہ ایسا شخص کورے جاہل سے بھی بدتر ہوتا ہے۔

اسی وجہ سے بنی اسرائیل کے یہودی علماء کو کہا گیا کہ وہ ایسے ہیں گویا کہ گدھوں پر کتابوں کے انبار لدے ہوئے ہوں، گدھا تو گدھا رہتا ہے ۔ چنانچہ اگر عمل نہ ہو تو علم صرف معلومات کی حد تک رہتا ہے ،جو نہ دل کی تربیت کرتا ہے اور نہ اخلاق کی اصلاح کرتا ہے جس کی وجہ سے ایسا شخص باوجود علم کے دنیا کے لیے امتحان بن جاتا ہے۔جو آج کے حالات سے بالکل ظاہر ہے کہ یہودی باوجود تعلیم یافتہ اور مہذب لوگ کہلانے کے فلسطینی مسلمانوں کی زمین پر قابض ہیں اور دن رات ان کی نسل کشی میں مصروف ہیں۔
آئیے آج سے عزم کریں کہ علم اور عمل کے رشتے کومضبوط بنائیں اور اپنی زندگیوں میں انقلاب لے کر آئیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں