میری ماں نے مجھے زندگی کا سب سے بڑا سبق یہ دیا کہ معاشرے کی تبدیلی کی سب سے پہلی چنگاری ایک ماں کی محنت، حوصلہ اور صبر میں چھپی ہوتی ہے. یہی میری ماں کی زندگی کی اصل حقیقت ہے. وہ عورتیں جو کمزور لگتی ہیں مگر ان کی چھوٹی چھوٹی کوششیں زندگی اور سوچ بدل دیتی ہیں. یہی وہ عورتیں ہیں جو خاموشی سے معاشرے بدل دیتی ہیں. جب ایک عورت جاگتی ہے تو خاموش معاشرہ بھی بولنے لگتا ہے۔
ہر سال 8 مارچ کو دنیا بھر میں یوم خواتین منایا جاتا ہے۔ خواتین کی جدوجہد تسلیم کرنے کے لیے مختلف تقریبات کا انعقاد کیا جاتا ہے مگر یہ سوال آج بھی اپنی جگہ قائم ہے کہ کیا عورت کے حقوق صرف نعروں اور تقریبات تک محدود رہ گئے ہیں یا واقعی عورت کی جدوجہد، قربانی کو تسلیم کرنے کے لیے ہماری سوچ اور رویوں میں کوئی تبدیلی آئی ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں اکثر عورتوں کی صلاحیتوں کو مکمل طور پر نہیں سمجھا جاتا۔
تعلیم یافتہ، باہمت اور حوصلہ مند عورت ہونے کے باوجود گھریلو ذمہ داریوں تک محدود رکھا جاتا ہے۔ اسلام نےنہایت اہم اور جامع انداز میں عورت کی جدوجہد کا تصور پیش کیا ہے جس میں نہ صرف ان کا گھر اور خاندان میں اہم کردار بیان کیا ہے بلکہ معاشرتی، علمی اور روحانی انداز میں بھی عورت کی شراکت کو بھرپور انداز میں بیان کیا ہے. قرآن مجید فرقان حمید میں کئی بار مرد کے ساتھ ساتھ عورت کو بھی اپنے اخلاق، ایمان اور صبر کو مضبوط کرنے کی تلقین کی گئی ہے، یہی روحانی ونفسیاتی جدوجہد کی بنیاد ہے. یہی فلسفہ آج مغربی تہذیب اپنا رہی ہے جس کا درس اسلام نے ہمیں ہزاروں سال پہلے دیا.
علمی اور تعلیمی جدوجہد میں عورت کے کردار کو واضح کیا گیا، حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ “علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے” یہ اس بات کی دلیل ہے کہ عورت کی علمی جدوجہد صرف اپنی ترقی پر محدود نہیں بلکہ معاشرتی شعور بڑھانے اور علمی خدمت کے لیے بھی ہے معاشرتی بہتری میں خواتین کے کردار کو سراہا گیا ہے. خواتین ناصح، رہنما اور معاشرتی خدمت گار بھی ہو سکتی ہیں. ام المؤمنین حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہا، حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا،حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا، حضرت بی بی زینب اور دیگر صحابیات کی زندگی بھی ہمیں عورت کی سماجی جدوجہد کی بہترین مثالیں پیش کرتی ہیں۔ یہ جدوجہد مظلوموں، یتیموں، محتاجوں اور حق کا ساتھ دینے کے لیے آواز بلند کرنے میں بھی ظاہر ہوتی ہے. بچوں کی تربیت، اخلاقی و دینی رہنمائی، گھر کا نظم و نسق بھی ایک جدوجہد ہے جس میں خواتین برکت اور رہنمائی کابہترین ذریعہ ہیں. یہی حوصلہ اسلام نے عورت کودیا ہے کہ وہ ہر سطح پر مثبت تبدیلی کی کوشش کرے، ظلم و نا انصافی کے خلاف کھڑی ہو اور علم و عمل سے معاشرہ بہتر بنائے. پاکستان میں یہی جدوجہد عملی شکل اختیار کر چکی ہے. وہ عورت جو تعلیم، سماجی خدمات، مذہبی عمل اور سیاسی یا اقتصادی شعبوں میں محنت کر رہی ہے، معاشرے کی بنیاد بدل رہی ہے. ایسی عورتیں معاشرے میں روشنی کا مینار ہیں ،ظلم و ستم سہنے کو اپنا مقدر، اپنی تقدیر نہیں سمھجتیں بلکہ اپنے حقوق کے لیے بغیر کسی ڈر خوف اور بھرپور اعتماد سے اواز اٹھاتی ہیں اور معاشرے میں چھپی بے پناہ برائیوں کو بے نقاب کرتی ہیں.
معاشرہ تب بدلنے لگتا ہے جب یہی عورتیں اپنی زندگی کے ساتھ ساتھ دوسروں کی زندگیوں میں بھی تبدیلی کا بیچ بوتی ہیں۔ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ عورت کی ہر چھوٹی کوشش ،ہر مثبت عمل، ہر محنت بھرا قدم ایک بڑی تبدیلی کی شروعات ہو سکتا ہے۔ آج میں اپنی ماں سمیت ان تمام عورتوں کو سلام پیش کرتی ہوں جو خاموش محنت سے ایک نیا ویژن، ایک نیا معیار اور روشن مستقبل پیدا کر رہی ہیں .یہ صرف ایک فرد تک محدود نہیں بلکہ ایک مکمل تحریک ہے. معاشرے کی ہر وہ عورت جو اس تحریک میں شامل ہے اس کی وضاحت کچھ یوں ہے:
کئی رنگوں میں اک خوشی کا رنگ ہے وہ
رات کی سیاہی میں جلتی شمع کی مانند ہے وہ
اس سے قائم ہے چمن میں اب امیدِ بہار
ذات آگاہی جو کرے بحر کا طلاتم ہے وہ
رواں دواں ہے اک سفرِ شوق کی جستجو میں
بن خار جو کھلے ایسے گل کا نقش پا ہے وہ
آنکھوں کے ویراں شہر میں بھر نہ جائے دھول
خوشی کی دلیل بنے ایسا احساس سحر ہے وہ
فقط یاد کے حصار میں جگائے بکھری تمنا
غم مسلسل سے دے رہائی ایسا گماں ہے وہ
اس دیار میں اُمیدِ صبح کی وہ کرن بنے نملؔ
شدت جنوں سے سنوارے چمن مریم ہے وہ
ایک باغبان تھا جس نے دو پودے لگائے، اس نے ہر دن محنت، لگن اور محبت کے ساتھ ایک پودے کو پانی، دھوپ اور بہترین نشونما فراہم کرنے پہ زور دیا. جیسے جیسے وقت گزرا یہ ایک مضبوط درخت کی شکل اختیار کر گیا جس کی شاخیں آسمان کو چھونے لگیں. اس درخت نے جو پھل دیے اعلی ترین معیار کے تھے اور کئی سال اپنی گھنی چھاؤں تلے جھومتا رہا. اس کے برعکس دوسرے پودے کو پانی کم ملتا، کبھی دھوپ کی کمی ہو جاتی جس کی وجہ سے اس کی جڑیں کمزور رہیں اور آہستہ آہستہ اس کی شاخیں جھڑنے لگیں اور وہ کبھی ایسا پھل نہ دے سکا جس میں مٹھاس ہو. یہ کہانی بھی عورت کی ہی عکاسی کرتی ہے کہ اگر خواتین کو ان کے تمام حقوق، محبت، اعتماد فراہم کیا جائے تو معاشرے میں ایسی نسلیں جنم دیتی ہیں جن کا کوئی ثانی نہیں ہوتا لیکن اس کے برعکس اگر عورت کے حقوق، محبت، عزت ووقار اور فراہم نہ کیا جائے تو ایسی خواتین مثبت معاشرے کو تشکیل نہیں دے پاتیں اور ساری زندگی ظلم و ستم کا نشانہ بنتی ہیں، جن کی بے پناہ وجوہات ہو سکتی ہیں.
وہ عورت جو اپنے فرائض اور ذمہ داریوں کو بخوبی سمجھتی ہے، اور اپنے حقوق کی پہچان رکھتی ہے، اپنے عورت ہونے پر فخر محسوس کرتی ہے۔ اس کے اندر ایک خاص وقار اور اعتماد ہوتا ہے، جو نہ صرف اس کی شخصیت کو نکھارتا ہے بلکہ اس کے اردگرد بھی روشنی پھیلاتا ہے. ایسی عورت اپنے مقام کو پہچانتی ہے، اپنی صلاحیتوں کا ادراک رکھتی ہے اور معاشرے میں مثبت تبدیلی کے لیے قدم بڑھانے سے نہیں ہچکچاتی. اس کا فخر اپنی ذات اور اپنی عورت ہونے کی پہچان سے پیدا ہوتا ہے، جو اسے ایک طاقتور، خود مختار اور متاثر کن شخصیت بنا دیتا ہے.
آج کا دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ محض نعروں اور تقریبات سے نکل کر اسلامی نظام کو جامع انداز میں سمجھ کر خواتین کو معاشرے کا ایک اہم رکن سمجھنے پر زور دیا جائے ،ہر سطح پر خواتین کے حقوق کو عملی طور پر منوایا جائے، معاشرے میں آگاہی مہم کا آغاز کیا جائے جو ہر عورت تک پہنچے اور وہ اسے اپنے حقوق کی پہچان کرا سکے یہی ایک باوقار معاشرے کی بنیاد اور پہچان ہے۔
0