میں ایک عام سی طالبہ تھی، لیکن میرے خواب میری پہچان تھے، گھر والوں کی امیدیں، ماں کی دعائیں اور باپ کی محنت میرے تعلیمی سفر کا سرمایہ تھیں۔ میں نے ایم اے اردو کیا اور پیشہ ورانہ ڈگری بی۔ایڈ بھی حاصل کی۔ سن 2021 میں جب میری ایم اے اردو کی ڈگری مکمل ہوئی تو مجھے لگا اب زندگی کی گاڑی پٹری پر آ جائے گی۔ میں نے سوچا تھا کہ ایک دن کسی اسکول کی کلاس میں کھڑی ہو کر بچوں کو الفاظ کی خوشبو اور تاریخ کی سچائی سکھاؤں گی۔ مگر 2026 آ گیا اور میرے ہاتھ میں آج بھی صرف ڈگریاں ہیں، روزگار نہیں۔
“کہتے ہیں تعلیم روشنی ہے” مگر یہ روشنی ہمارے گھروں تک کیوں نہیں پہنچتی؟ کیا قصور ہے ان نوجوان لڑکیوں کا جو برسوں کتابوں میں سر کھپاتی ہیں؟ کیا جرم ہے ان والدین کا جو اپنی جمع پونجی بچیوں کی فیسوں پر لگا دیتے ہیں؟مگر ہاتھ کچھ نہیں آتا۔
ہر سال ہم سنتے ہیں کہ ملک کو تعلیم یافتہ افراد کی ضرورت ہے، مگر جب نوکریوں کا وقت آتا ہے تو دروازے بند ملتے ہیں۔ سرکاری اسکول نجکاری کی نذر ہو چکے ہیں۔ نئی اسامیاں آتی ہی نہیں، اور اگر آتی بھی ہیں تو سفارش اور وسائل کے بغیر عام آدمی کے لیے خواب بن جاتی ہیں۔ ہم جیسی غریب لڑکیاں کہاں جائیں؟ کس در پر دستک دیں؟
ہمارے معاشرے میں لڑکی کی تعلیم کو اکثر اس کی شادی سے جوڑ دیا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے: “اتنی تعلیم کافی ہے، اب اچھا رشتہ آ جائے گا۔” مگر میں نے یہ تعلیم اس لیے حاصل نہیں کی تھی کہ اسے جہیز کی طرح پیش کروں۔ میں نے پڑھائی اس لیے کی تھی کہ میں خودمختار بن سکوں، اپنے والدین کا سہارا بن سکوں، اپنے ملک کی بیٹیوں کو تعلیم دے سکوں۔
کیا ریاست کی ذمہ داری نہیں کہ وہ تعلیم یافتہ نوجوان لڑکیوں کو روزگار فراہم کرے؟ اگر اسکول پرائیویٹ کر دیے جائیں گے، اساتذہ کی بھرتیاں بند کر دی جائیں گی، تو پھر پڑھا لکھا نوجوان طبقہ کہاں جائے گا؟ کیا ہماری ڈگریاں صرف دیواروں کی زینت بننے کے لیے ہیں؟
ایک استانی صرف ملازمہ نہیں ہوتی، وہ قوم کی معمار ہوتی ہے۔ جب معمار ہی بے روزگار ہو جائے تو قوم کی تعمیر کیسے ہوگی؟ اگر ہم تعلیم یافتہ نوجوان لڑکیوں کو مایوسی کی دلدل میں دھکیل دیں گے تو اس کا خمیازہ پورا معاشرہ بھگتے گا۔
ہم حکومت سے سوال کرتی ہیں: کیا تعلیم یافتہ نوجوان لڑکیوں کے لیے کوئی جامع پالیسی موجود ہے؟ کیا سرکاری تعلیمی اداروں میں مستقل بنیادوں پر بھرتیاں بحال نہیں ہونی چاہئیں؟ کیا نجکاری ہی ہر مسئلے کا حل ہے؟ اور سب سے بڑھ کر، کیا غریب کی بیٹی صرف ڈگری لے کر گھر بیٹھنے کے لیے پیدا ہوئی ہے؟
ہم خیرات نہیں مانگتیں، ہم اپنا حق مانگتی ہیں۔ ہم روزگار مانگتی ہیں، عزت کی زندگی مانگتی ہیں۔ اگر ریاست اپنی نوجوان بیٹیوں کو مواقع نہیں دے سکتی تو پھر وہ ان سے وفاداری اور امید کی توقع کیسے رکھ سکتی ہے؟
اب وقت آ گیا ہے کہ تعلیم اور روزگار کے درمیان موجود خلیج کو ختم کیا جائے۔ ورنہ ڈگریوں کے یہ انبار، مایوسی کے پہاڑ بن جائیں گے، اور خوابوں کی یہ نسل خاموشی سے ٹوٹتی رہے گی اور نوجوان نسل خودکشی کرنے پر مجبور ہو جائے گی۔