پیسہ، شہرت، تعلیم و عہدہ سب کچھ نہیں ہوتا/تحریر/سدرہ نسیم/بزنس وومن اینڈ موٹیویشنل ٹرینرہم نے انگلش لٹریچر کے سلیبس میں ایک افسانہ پڑھا تھا، اس میں ایک لائن تھی جس کا مطلب یہ تھا کہ ، بھاری ہے وہ سر جو تاج پہنتا ہے۔۔
یعنی وہ لوگ جو بادشاہ ہوتے ہیں، جو لیڈر ہوتے ہیں، جو سربراہ ہوتے ہیں، جو فرنٹ لائن پر ہوتے ہیں، بڑے عہدوں پر ہوتے ہیں، یا پبلک فگرز ہوتے ہیں، بظاھر یوں معلوم ہوتا ہے کہ کتنے خوش نصیب ہیں، بہترین عہدہ/رتبہ، پیسہ، دولت، شہرت، عزت، سب کچھ ہی تو ہے، یعنی ان کے سر کے تاج دور سے انتہائی خوشنما معلوم ہوتے ہیں، مگر جب ان کے قریب جائیں، ان کی ذاتی زندگی کو، خصوصا ان کی ذہنی کیفیت کو جانچا جاۓ، تو یہی سر کا تاج ان کے لیے انتہائی بھاری اور بدترین سزا ہوتا ہے، ان کے کئی مسائل کا سبب ہوتا ہے، ذمہ داریوں کا بے تحاشا بوجھ، ان دیکھے دکھ اور بیسیوں ذہنی مسائل نے انھیں گھیر رکھا ہوتا ہے، بیک وہ دو زندگیاں جی رہے ہوتے ہیں، ایک وہ جو پبلک میں ہوتی ہے، مسکراتا، پراعتماد اور روشن چہرہ، دوسرا وہ جو ان کی ذات تک محدود ہوتا ہے، پریشان، بکھرا ہوا، ٹوٹا ہوا۔۔۔یہ خول ان کے عہدے کا تقاضا ہوتا ہے۔۔۔
اس دباؤ میں بعض خوش نصیب پوری زندگی سٹرگل کرتے ہیں، جیسا بھی ذہنی دباؤ ہو، جتنے بھی منفی خیالات ہوں مگر خود کو کمپوز رکھتے ہیں سٹیبل رکھتے ہیں اور یوں طبعی طور پر موت کی دہلیز تک پہنچتے ہیں، جب کہ کچھ لوگ اس پریشر کو برداشت نہیں کرپاتے، پروفیشنل اور پرسنل لائف مکس ہوجاتی ہے اور یوں ان کے پاس آخری حل شاید خود کو ختم کرنے کا ہی بچتا ہے، اور یوں وہ ایک دم سے خود کو ختم کردیتے ہیں، تب ایک دم سے آس پاس والوں کی آنکھیں کھلتی ہیں، کہ ہیں؟ ہنستا مسکراتا خوش باش انسان؟ اسے بھلا کیا ٹینشن تھی؟ وہ کیوں چلا گیا؟ کیا ہوا تھا؟ لوگ پھر سو وجوہات تلاش کرتے ہیں، جتنے منہ اتنی باتیں، اور اس سے آدھی کوشش بھی اگر ان کے اپنے ان کی زندگی میں ان کے لیے کرلیں، تو شاید وہ اس نہج تک جاتے ہی نہیں۔۔۔
ایس پی عدیل اکبر کی خودکشی بھی اسی سلسلے کی ہی ایک کڑی ہے۔۔حساس لوگ جب کوئ حل نہیں پاتے تو آخری حل موت میں تلاش کرتے ہیں، یہ سوچے بغیر کہ ان کے بعد، ان کی زندگی کے سب سے اہم لوگ یا ان کی اولاد، جو ابھی صحیح سے بولنا بھی نہیں سیکھی، وہ کیسے رہے گی؟ وہ پیارے جن کی ایک تکلیف پر دل تڑپ اٹھتا تھا، آپ کے بعد وہ آپ کو کیسے پکاریں گے؟ کیسے روئیں گے؟ کیسے تڑپیں گے؟کیسے زمانے کی تیز و تند آندھیوں کا مقابلہ کریں گے؟ اور کیسے خود کو سنبھالیں گے۔۔۔
ایسی سوچ کا آنا غلط نہیں ہے، اس پر فوری عمل کردینا غلط ہے۔۔دوسرا آس پاس والوں کو بھی کم ازکم اپنوں کی ذہنی حالت کا اتنا اندازہ تو ضرور ہونا چاہیے کہ وہ اس وقت کتنی جنگیں بیک وقت لڑرہے ہیں، کیسے خود کو سنبھال رہے ہیں، کیسے ضبط کے مراحل طے کررہے ہیں، اور کیا کیا جاسکتا ہے؟ کیسے ان کی مدد کی جاۓ، انھیں اس سب سے نکالا جاۓ، اگر زندگی میں ایک دو لوگ ہی ایسے ہوں، تو شاید کوئ بی خودکشی کی حد تک نہ پہنچے، سو اپنا اور اپنے پیاروں کا ، ان کے ذہنی مسائل کا خصوصی خیال رکھیں،
اللہ کریم ایسی ہر آزمائش سے، ہر خیال سے، ہر تکلیف سے ہم سب کو، ہمارے پیاروں کو محفوظ رکھے آمین ثم آمین