تحریکِ آزادی ایک ناقابلِ فراموش داستان/تحریر/ مولانا محمد عثمان انیس درخواستی 0

تحریکِ آزادی ایک ناقابلِ فراموش داستان/تحریر/ مولانا محمد عثمان انیس درخواستی

تحریکِ آزادی ایک ناقابلِ فراموش داستان/تحریر/ مولانا محمد عثمان انیس درخواستی
دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ غلامی کی زنجیریں توڑنے کے لیے قوموں نے اپنا سب کچھ قربان کیا۔ آزادی کا سورج کبھی مفت نہیں طلوع ہوا، بلکہ یہ شہداء کے خون، مجاہدین کی قربانیوں اور صبر و استقامت کی بدولت روشنی پاتا ہے۔ برصغیر کی تحریکِ آزادی بھی ایسی ہی ایک داستان ہے جو قربانیوں کی سرخی سے لکھی گئی ہے۔ جب 1757ء کی جنگِ پلاسی میں ایسٹ انڈیا کمپنی نے بنگال پر قبضہ جمایا، تو یہ مسلمانوں کی ہزار سالہ حکمرانی کے غروب کا پیش خیمہ ثابت ہوا۔ مغل سلطنت بکھرتی گئی، اور انگریز مضبوط ہوتے گئے۔ 1857ء کی جنگِ آزادی، جو دراصل برصغیر کا پہلا منظم جہادِ حریت تھا، انگریزوں نے سفاکی سے کچل دیا۔ دہلی، لکھنؤ، کانپور اور جھانسی کی گلیاں خون سے بھر گئیں۔ بستیاں جلیں، مسجدیں بے حرمتی کا شکار ہوئیں، مدارس ویران کر دیے گئے۔ انگریز فوجی مساجد میں جوتوں سمیت گھس آتے، قرآنِ مجید کی بے حرمتی کرتے، اور دینی مراکز کو فوجی چھاؤنی یا اصطبل بنا دیتے۔ مسٹر ٹامسن، جو انگریز فوج کے ایک افسر تھے، اپنی یادداشتوں میں لکھتے ہیں کہ “ہندوستانی علما اور مسلمان مجاہدین کی دینی حمیت ایسی تھی کہ قید و بند اور پھانسی بھی ان کے عزم کو توڑ نہ سکی۔ ان کی نظریں صرف اللہ کی رضا اور آزادی پر مرکوز تھیں۔” وہ تسلیم کرتا ہے کہ 1857ء کی جنگ میں سب سے زیادہ مزاحمت علما نے کی۔ تحریکِ آزادی ایک ناقابلِ فراموش داستان ھے.
اس جنگ میں علمائے کرام کی قربانیاں تاریخ کا روشن باب ہیں۔ ہزاروں علما کو توپوں کے دہانوں پر باندھ کر اُڑا دیا گیا، کئی کو پھانسی دی گئی، مئی 1831 کو شدید جنگ بالاکوٹ میں ہوئی جس میں مولانا سید احمد رحمۃ اللّٰہ علیہ، مولانا محمد اسماعیل رحمۃ اللّٰہ علیہ بالترتیب 8/9 مئی کو شہید ہوئے۔ یکم مئی 1831 سے 10 مئی 1831 تک مسلسل ہو خون ریز جنگ جاری رہی جس میں تقریبا ساڑھے چار ہزار سے زیادہ مسلمان شہید ہوئے ان میں اکثریت علماء کی تھی۔ سو کے قریب علماء زندہ بچے جن میں مولانا جعفر تھانیسری، مولانا ولایت علی، مولانا مملوک علی، مولانا یحیی علی وغیرہ بھی تھے۔ اسی معرکہ کے بعد ہندوستان میں انگریزوں کی حکومت کے پائے ملک کے طول و عرض مستحکم ہونے شروع ہو گئے تھے۔ تب علماء ایک بار پھر سڑ جوڑ کر بیٹھے متعدد سربر آوردہ ہندو اور مسلمان قائد اور علماء پھر مشورے کے لیے جمع ہوئے۔ تاکہ انگریزوں کے خلاف فیصلہ کن جنگی کاروائی کی جا سکے۔ چنانچہ 1856 میں دہلی میں ممتاز علماء کا اجتماع ہوا اس میں مولانا جعفر تھانیسری، مولانا محمد قاسم نانوتوی، مولانا رشید احمد گنگوہی، مولانا ولایت علی، مولاناحاجی امداد اللہ مہاجر مکی، اور حافظ ضامن شہید جیسے اکابر شریک ہوئے۔ مولانا محمد قاسم نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا ٫تمہیں پتہ نہیں انگریز سر پر کھڑا ہے اگر اس کی غلامی سے نجات چاہتے ہو تو فیصلہ کن لڑائی کے لیے تیار ہو جاؤ” ۔ شاملی کا میدان ضلع مظفر نگر اتر پردیش میں اس خون ریز جنگ کا آج بھی خاموش گواہ ہے۔ درجنوں توپیں مسلمانوں پر قہر برسا رہی تھیں۔ جدید بندوقوں نے علماء کی صفیں بچھا دی تھیں۔ ایک طرف تلوار بکف۔ کفن بردوش مسلمان تھے جن کی قیادت علمائے اسلام کر رہے تھے جو محض بے سروسامان تھے اور دوسری طرف سر تا پاؤں لوہے میں غرق انگریزی فوج تھی جس کی پشت پر تاج برطانیہ کی قوت اور سامنے توپوں کی قطار تھی۔ اس کے باوجود علماء کا یہ گروہ میدان جنگ سے نہیں ہٹا۔ سینکڑوں علماء شہید ہوئے اس کے علاوہ وسائل کی قلت، سامان حرب کی عدم موجودگی، افراد کی کمی، رسد نہ مل پانے اور بعض لوگوں کی غداری کے سبب قدم پیچھے ہٹانے پر مجبور ہونا پڑا۔ انگریز مورخ ڈاکٹر ٹامسن اپنی یادداشت میں لکھتا ہے “1846 سے 1867 تک 14 ہزار علماء کو پھانسی پر لٹکایا گیا” یہ ہندوستان کے تاریخ کے سیاہ ترین سال ہیں۔ ایک اور مورخ “قیصر التواریخ” میں لکھتا ہے 27 ہزار علماء کو تختہ دار پر لٹکایا گیا سات دن مسلسل قتل عام جاری رہا۔ ٹامسن کے بقول دلی کے چاندنی چوک سے پشاور تک کوئی درخت ایسا نہ تھا جس پر علماء کی گردنیں نہ لٹکتی ہوں۔ انگریز علمائے حق کو خنزیر کی کھال میں لپیٹ کر جلتے ہوئے تندور میں ڈال دیتے تھے۔ لاہور کی شاہی مسجد میں پھانسی گھر قائم کیا گیا اور ایک ایک دن میں دو دو سو علماء کو پھانسی پر لٹکا دیا گیا۔ یہ مورخ انگریزوں کی بربریت کا نقشہ کھینچتے ہوئے لکھتا ہے۔ “دہلی میں ایک خیمے میں قیام پذیر تھا اچانک تیز بدبو میرے ناک میں آئی میں نے باہر جا کر دیکھا تو معلوم ہوا آگ کے انگارے دہک رہے ہیں اور ان پر 40 علماء کو کپڑے اتار کر ایک انگریز افسر نے ان سے کہا مولویوں جس طرح انہیں آگ میں جلا دیا گیا تمہیں بھی جھونک دیا جائے گا تم میں سے اگر ایک یہ کہہ دے کہ 1857 کی جنگ میں شامل نہیں تھے تو تم سب کو ابھی چھوڑ دیا جائے گا۔ تو ٹامسن کہتا ہے مجھے پیدا کرنے والے کی قسم میں نے دیکھا کہ 40 لوگ جو علماء تھے آگ پر زندہ بھون دیے گئے ان کے بعد پھر ایسا ہی ہوا مگر کسی نے زبان تک نہ ہلائی۔ یہ تھے ہندوستان کے مایا ناز علماء جنہوں نے راہ حق میں دردناک موت تو قبول کر لی مگر آزادی حق اسلام اور انسانیت کا دامن نہیں چھوڑا اور ثابت کر دیا کہ
مرد حق باطل سے ہرگز خوف کھاسکتے نہیں۔
سر کٹا سکتے ہیں لیکن جھکا سکتے نہیں۔
اس جہاد آزادی کے بعد باقی ماندہ علماء کو گرفتار کر لیا ان پر مقدمات چلے اور سخت سزائیں دی گئیں مولانا جعفر تھانیسری کو کالا پانی بھیج دیا گیا۔ مولانا اپنی کتاب کالا پانی میں وہاں کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں “کہ ہمارے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں پاؤں میں بیڑیاں جسم پر جوریانہ لباس اور کمر میں لوہے کی بھاری سلاخیں تھیں 24 گھنٹے یہ لباس پہننا پڑتا تھا۔ چلنے، پھرنے،کھانے،پینے لیٹنے اور کام کرنے میں بے حد تکلیف ہوتی تھی۔ وہاں شہد کی مکھی کے برابر موٹے زہریلے جنگلی مچھر کھٹمل اور دوسرے بے شمار کیڑے مکوڑے تھے جو ہر وقت ستاتے اور کاٹتے رہتے تھے روزانہ ایک دو قیدی موت کے منہ میں چلے جاتے تھے اس جیل میں کسی بھی قسم کے علاج کی سہولت قیدیوں کو نہیں دی جاتی تھی” مولانا آگے لکھتے ہیں۔ “انگریز افسران نے ہم تینوں علماء کے لیے لوہے کے پنجرے بنوائے اور ہمیں ان میں ڈال دیا گیا ان پنجروں میں لوہے کی نوک دار سلاخیں لگائی گئی ہم نہ تو سہارا لے سکتے تھے۔ نہ بیٹھ سکتے تھے ہماری آنکھوں اور جسم کے مختلف حصوں سے لہو بہتا رہتا تھا”
اسی طرح جنوبی ہند میں فتح علی سلطان ٹیپوؒ شیرِ میسور انگریز سامراج کے مقابل سیسہ پلائی دیوار بنے رہے۔ انہوں نے اپنے والد حیدر علی کی طرح انگریز کو للکارا اور اپنی سلطنت کو اسلام اور آزادی کا قلعہ بنایا۔ 1799ء میں سرنگاپٹم کی جنگ میں انہوں نے آخری دم تک لڑتے ہوئے شہادت پائی۔ ان کا یہ جملہ آج بھی تاریخ کا سرمایہ ہے:
“شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے۔” 1800 میں مضافات میسور، کڈپہ، کونور، بلاری، انت پورہار، بیما پور، پر انگریزوں کا قبضہ ہو گیا 1801 میں نواب اودھ سے دو آبے اور روہیل کھنڈ کے علاقے ہتھیا لیے۔کرناٹک بھی ان کے قبضے میں چلا گیا 1802 میں مرہٹوں کی حکومت ختم کر دی گئی گجرات اور بڑودہ پر قبضہ کر لیا گیا۔ 1803 میں نواب حیدرآباد انگریزوں کا باج گزار بن گیا۔ناگپور پر کمپنی کا تسلط ہو گیا اسی سال آگرہ، بندیل کھنڈ، جے پور اور گوالیار ان کے قبضے میں چلے گئے۔ یہی نہیں دارال سلطنت دہلی بھی انگریزوں کے بوٹوں تلے روند دی گئی۔ بادشاہ عالم ثانی اب انگریزوں کا پنشن یافتہ تھا۔ انگریزوں کی حکومت تقریبا سوا سال پورے ملک پر چھا گئی تھی۔ اپنے دور حکومت میں تقریبا سوا سال تک انگریزوں نے اس ملک کے چپے چپے کو غلام بنا کر رکھا۔ اپنی قیادت کو چمکانے حکومت کا سکہ جمانے کے لیے ہندوستان کے ذرے ذرے کو پامال کیا۔ یہاں کے شہریوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے، ناحق لوگوں کو تختہ دار پہ لٹکایا، انصاف کا خون کیا، ظلما گولیاں چلائیں، ان کو کوڑے لگائے، ٹرینوں سے اٹھا کر باہر پھینکا، ان کی زمینوں کاروبار اور روپیہ پر ناجائز قبضہ کیا، ان کی عورتوں کو بے عزت کیا، پاک دامن خواتین کا دامن عصمت تار تار کیا، شہنشاہ، نواب، امراء، راجے، مہاراجے، ولی عہد، شہزادوں، علماء اور مفکرین کو سر بازار ذلیل و رسوا کیا۔ غرض وہ تمام کام کیے جن سے زمین تھرا گئی آسمان شرما گیا تاریخ ان کے شیطانی کارناموں سے اج تک داغدار ہے۔
شیخ الہند مولانا محمود حسنؒ کی “تحریکِ ریشمی رومال” نے آزادی کی جدوجہد کو بین الاقوامی رنگ دیا۔ افغانستان، ترکی اور دیگر مسلم ممالک سے خفیہ روابط قائم کر کے آزادی کی منصوبہ بندی کی گئی، مگر راز فاش ہونے پر مولانا کو مالٹا جیل میں قید کر دیا گیا۔ ان کے رفیق مولانا عبید اللہ سندھیؒ اور دیگر احباب نے بھی جلاوطنی اور قید برداشت کی۔
1919ء کی تحریکِ خلافت نے برصغیر کے مسلمانوں میں اتحاد اور غیرت کی نئی لہر دوڑا دی۔ مولانا محمد علی جوہرؒ، مولانا شوکت علیؒ، مولانا ابو الکلام آزادؒ، مفتی کفایت اللہ دہلویؒ، مولانا ظفر احمد عثمانیؒ اور دیگر اکابر نے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں، مگر پیغامِ آزادی کو زندہ رکھا۔
دارالعلوم دیوبند تحریکِ آزادی کا فکری و عملی قلعہ تھا۔ یہاں کے فارغ التحصیل علما نے پورے برصغیر میں حریت کا پیغام پہنچایا۔ مولانا حسین احمد مدنیؒ، مولانا احمد سعید دہلویؒ، مولانا حفظ الرحمن سیوہارویؒ، اور مولانا محمد میاںؒ جیسے بے شمار علما نے قید و بند اور جلاوطنی برداشت کی، مگر حوصلہ نہ ہارا۔سیاسی محاذ پر قائداعظم محمد علی جناحؒ نے قیادت کی، اور علما نے ان کے ساتھ بھرپور تعاون کیا۔ مولانا شبیر احمد عثمانیؒ اور مولانا ظفر احمد عثمانیؒ نے دو قومی نظریہ کو دینی بنیادوں پر اجاگر کیا اور پاکستان کے قیام کے وقت پرچم کشائی کا اعزاز پایا۔ یہ تحریک صرف علما تک محدود نہ تھی، بلکہ عوام کے ہر طبقے نے قربانیاں دیں۔ کسانوں نے کھیت چھوڑ دیے، طلبہ نے تعلیم قربان کی، عورتوں نے اپنی عصمتیں قربان کیں، بزرگوں نے جیلیں کاٹیں۔ پنجاب، یوپی، بہار، دہلی اور بنگال سے لاکھوں مسلمان ہجرت کر کے پاکستان پہنچے۔ قافلے لٹے، ٹرینوں سے لاشوں کے ڈھیر اترے، ماؤں کی گود اجڑ گئی، مگر ایک ہی صدا گونجتی رہی:
“پاکستان کا مطلب کیا؟ لا الٰہ الا اللہ!”
آزادی اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت ہے، اور اس کا شکر صرف نعروں، گانوں اور آتشبازی سے ادا نہیں ہو سکتا۔ جشنِ آزادی منانے کا اصل مقصد یہ ہے کہ ہم اپنے اسلاف کی قربانیوں کو یاد کریں، اپنے ملک کو دینی و نظریاتی بنیادوں پر مضبوط کریں، اور اپنی زندگیوں کو اسلام کے سانچے میں ڈھالیں۔
لہٰذا جشنِ آزادی مناتے وقت ہمیں: اپنے شہداء اور مجاہدین کے لیے دعا کرنی چاہیے۔ملک کی ترقی اور دینی حفاظت کا عزم کرنا چاہیے۔نوجوان نسل کو تحریکِ آزادی کی تاریخ سکھانی چاہیے۔
فحاشی، اسراف اور ہلڑ بازی سے بچتے ہوئے شکرانے کے نفل ادا کرنے چاہییں۔ مدارس و مساجد کے ساتھ تعلق مضبوط کرنا چاہیے، کیونکہ یہی ادارے آزادی کے ضامن رہے ہیں۔ یاد رکھیں: “پاکستان صرف زمین کا ٹکڑا نہیں، بلکہ یہ شہداء کی امانت اور اللہ کی عطا کردہ نعمت ہے۔” اللہ تعالیٰ ہمارے وطن کو سلامت رکھے، اس کی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت فرمائے، اور ہمیں اپنے اسلاف کے مشن پر چلنے کی توفیق دے۔ آمین

تحریکِ آزادی ایک ناقابلِ فراموش داستان/تحریر/ مولانا محمد عثمان انیس درخواستی

تحریک آزادی اور اقبال کا کردار/تحریر/بلال احمد معاویہ اعوان
یوم _آزادی ( شکرانے کے ساتھ)/ تحریر/ عصمت اسامہ
آزادی کی کہانی نانی اماں کی زبانی/تحریر/اُم حسام

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں