” آزادی کی کہانی نانی اماں کی زبانی”
چاندی کی طرح چمکتے تاروں جیسے بال اور نورانی سرخ و سفید چہرے والی نانی اماں مجھے بہت عزیز تھی۔ علی الصبح پورا گھر ان کی تلاوت سے گونجتا تھا ،جو صبح اٹھنا نہ بھی چاہے وہ بھی ان کی تلاوت سن کر اٹھ جاتا تھا ۔جب وہ قران پاک کی تلاوت کتی تو پورا گھر نور میں ڈوبا ہوا لگتا تھا ۔دوسری طرف بڑے ماموں اور مامی بھی اپنے اپنے کمروں میں نماز کے بعد قرآن کریم کی تلاوت اور ذکر و اذکار میں مصروف تھے ۔غرض بڑا ہی دل فریب منظر ہوتا تھا اور مجھے بھی دن بھر کے تمام اوقات میں یہ وقت بڑا اچھا لگتا تھا۔
میں نے نانی اماں کو اکثر گھرکے نل بند کرتے ہوئیےدیکھا ، تو کبھی کسی کمرے کے پنکھے، کبھی کوئی پانی کی موٹر کھلی چھوڑ دیتا تو پانی بہہ کر باہر گلی میں چھوٹی جھیل کا منظر پیش کرتا تو ایسے میں وہ نانی اماں ہی ہوتیں تھیں جو پھرتی سے چلتی ہوئی آتیں اور موٹر کا سوئچ بن کرتی تھی وہ یہ سارے کام کرتے ہوئے اکثر ایک جملہ بڑی کثرت سے بولتی تھی کہ “قدر ہی نہیں ہے”
اور میں سوچتی اب ایسا بھی کیا ہر وقت تو ہر کوئی ہر چیز کا خیال نہیں رکھ سکتا،۔۔۔ خیر ایک دن وہ اسی طرح کے چھوٹے موٹے کام انجام دے رہی تھیں( یہ صرف ہماری نگاہ میں چھوٹے موٹے کام تھے ۔حقیت میں دیکھا جائے تو بھت بڑا کام تا یہ) اور بار بار یہی جملہ دہرا رہی تھیں تو میں نے جھٹ نانی اماں سے پوچھ ڈالا کہ نانی اماں آخر “ہمیں کس چیز کی قدر نہیں” مگر نانی اماں میرے سوال کو نظر انداز کر کے اپنے کمرے میں چلی گئیں تھی ۔مگر آج میں نے بھی ٹھان لیا تھا کہ میں ان سے ضرور اس بات کا مطلب پوچھوں گی۔ سو ،۔۔۔اس سوال کا جواب لے نے میں ان کے کمرے میں گئی تو یہ دیکھ کر حیران رہ گئی کہ نانی اماں پرانے سے صندوق کو کھولے ماضی کی یادوں میں اس طرح گم تھیں کہ انہیں میرے آنے کا بھی پتہ نہ چل سکا وہ چپکے چپکے کچھ بڑبڑا رہی تھیں ،اور آنکھوں سے انسو تواتر سے بہہ رہے تھے۔ میں نے آگے بڑھ کر اس ماجرے کے بارے میں جاننے کی کوشش کی تو دیکھا وہ ایک تصویر سینے سے لگائے ہوئے رو رہی تھی۔ یہ تصویر کس کی تھی ؟وہ کیوں رو رہی تھی؟ وہ اکثر کیوں رونے بیٹھ جاتی تھی؟ جیسے سوالات میرے ذہن میں کلبلا رہے تھے میں نے آگے بڑھ کر نانی کے کندھے کو ہلکا سا چھوا تو نانی جیسے ہوش میں آگئیں ،انہوں نے جلدی جلدی دوپٹے کے پلو سے اپنے چہرے کو صاف کیا اور “کچھ نہیں” کہہ کر سینے سے لگی تصویر کو ہٹا کر صندوق میں ڈالنے لگی ,لیکن میں ,تو میں تھی میں جو پہلے ہی ایک سوال کی جستجو میں ان کے پاس ائی تھی .مگر یہاں آکر پتہ لگا کہ وہ ایک سوال نہیں کئی سوالات کا غیر حل شدہ پرچہ تھیں ۔میں نے نانی سے اصرار کر کے پوچھا ۔نانی بتائیں نا، آخر آپ ہر وقت کیوں روتی رہتی ہیں اور ہر وقت یہ کیوں کہتی رہتی ہیں کہ قدر نہیں اور ابھی بھی آپ یہاں بیٹھ کر رو رہی ہیں، اور میں آپ کو اکثر اسی طرح روتے ہوئے دیکھتی ہوں بتائیں نا ۔۔۔۔نانی اماں ہم تو اپ کا بہت خیال رکھتے ہیں ،پھر آپ کو ہم سے کس بات کا شکوہ ہے؟
بڑے ماموں جو کسی کام سے نانی اماں کے پاس آئے تھے۔ نانی اماں کو یوں بلک بلک کر روتا دیکھ کر نانی اماں کے پاس ہی بیٹھ گئے اور میرے اتنے اصرار پر نانی امں نے ایک گہری سانس لی اور ہاتھ میں پکڑی تصویر پر اپنے جھریوں بھرے ہاتھ پھیرتے ہوئے ایک سسکی لی اور بولیں،۔۔۔۔ آج 14 اگست ہے نا۔۔۔۔۔؟ انہوں نے میری طرف دیکھتے ہوئے پوچھا میں نے اثبات میں سر ہلایا تو نانی امں بولیں، آزادی کی کہانی نانی اماں کی زبانی’ اج سے کوئی 75 سال پہلے جب میں تمہارے نانا منور حسین کے ساتھ ہندوستان میں رہا کرتی تھی ۔ہماری شادی کو چند ہی سال ہوئے تھے اللہ نے ہمیں دو جڑواں بچوں سے نوازا تھا یہ انہی دنوں کی بات تھی۔ جب ہندوستان میں ایک الگ وطن کی تحریک زور پکڑے ہوئے تھی ،اور اس تحریک میں اتنی شدت اگئی تھی کہ بالآخر برطانوی حکومت کو ایک آزاد ریاست پاکستان کا اعلان کرنا پڑا اور جو ںنہی 14 اور 15 اگست کی درمیانی شب کو علیحدہ ریاست کا اعلان ہوا تو پورے ہندوستان میں ہنگامے پھوٹ پڑے ۔ہندو بلوائی ہر مسلمان کو گاجر مولی کی طرح کاٹ رہا تھا ۔
کیا بچہ ،کیا بوڑھا کیا ،جوان انہوں نے کسی کو نہیں بخشا تھا ۔سب ہی مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیل رہے تھے یہاں تک کہ اس خاندان کی خواتین جو ا کبھی ان کی ہمسائ رہ چکیں تھیں اور وہ کبھی انک عزت کیا کرتے تھے اب ان خواتین کو بھی قتل کرنے میں دیر نہیں لگا رہے تھے ۔یہ ہندو ذات بڑی کینہ پرور تھی۔
ہر طرف خوف اور دہشت کا راج تھا ۔ہر کوئی خوفزدہ اور سہما ہوا تھا ۔ایسے میں منور حسین نے محلے کے چند اور لوگوں کے ساتھ مل کر فیصلہ کیا کہ ہم یہاں سے نکل کر پاکستان کی طرف چل پڑے تو اچھا ہے ۔ورنہ بلوائی تو ہمیں بھی مار ڈالیں گے۔
بس پھر کیا تھا۔۔۔۔۔ میں نے اپنے دونوں شیر خوار بچوں کو گود میں بھرا اور رات کے اندھیرے میں اس قصبے سے نکل کر پاکستان ہجرت کرنے کا عملی قدم اٹھایا ہمیں اندازہ تھا کہ ہندو بلوائی ہمیں جہاں کہیں بھی دیکھیں گے، چھوڑیں گے نہیں کیونکہ ایک ہی رات میں آس پاس سے ایسی ہولناک خبریں آ رہی تھیں کہ دل بڑے سہمے ہوئے تھے۔ پاکستان ہجرت کر کے جانا آسان نہ تھا۔ مگر کیا کرتے یہاں رہ بھی نہیں سکتے تھے۔
کیونکہ بقول جناح کے “جو لوگ آج پاکستان کے مخالف ہیں کل انہی لوگوں کی نسل ہندوستان کو اپنی وفاداری کا یقین دلاتی رہے گی”
تو بس زندگی بھر کسی کو یقین دلانے سے بہتر ہے کہ آزادی یا موت میں سے کسی ایک کو چن لیا جائے تو یوں ہمارا آزادی کا سفر جوش و ولولے اور خوف کے ساتھ شروع ہوا ۔
ہمارے قافلے کے نصیب میں بھی لٹنا پٹنا ہی لکھا تھا ایک جگہ ہم تمام قافلے والے ذرا دم لینے ٹھہرے تو اچانک ہی بلوائیوں کا ٹولہ ہمارے سروں پر آ پہنچا اگرچہ کہ ہم پاکستان کی سرحد سے چند میلوں کے فاصلے پر تھے اور دل کو اطمینان تھا کہ بس پو پھٹنے تک ہم اپنے آزاد وطن میں کھل کر سانس لے لیں گے ۔مگر ان بلوائیوں کو نہ جانے کیسے ہماری بو پہنچ گئی تھی ۔ہم سب قافلے والے ان بلوائیوں سے بچتے بچاتے سر پٹ بھاگنے پر مجبور ہو چکے تھے۔ ہماری لاکھ کوشش کے باوجود بھی بلوائ ہمارے سروں پر پہنچ چکے تھے۔ایسے میں منور حسین نے دونوں بچوں کو مجھے تھماتے ہوئے قافلے کے دیگر لوگوں کے ساتھ روانہ کیا اور کہا کہ “بس میں ان بلوائیوں کو جہنم وصال کر کے تم سے پاکستان میں ہی ملوں گا ”
اور یوں منور حسین اور دیگر جوان مردوں کو بلوائیوں سے مقابلے کے لیے چھوڑ کر ہم سب پاکستان کی طرف بھاگے ۔۔۔اپنی محفوظ پناہ گاہ کی طرف ۔
نانی اماں نے ایک گہرا سانس لیا۔۔۔۔ بلوائی تعداد میں زیادہ تھے اور ہتھیاروں سے لیس بھی جب ہی ہمارے قافلے کے مرد ان کے آگے زیادہ دیر ٹھہر نا سکے اور ایک کے بعد ایک سب ہی شہید ہو گئے ۔
میں نے اپنے دونوں شیر خوار بچوں کو لے کر سر پٹ دوڑ رہی تھی۔ ہر طرف چیخ و پکار مچی ہوئی تھی پیچھے مڑ کر دیکھنے کی میری ہمت نہ تھی کیونکہ مجھے محسوس ہو رہا تھا کہ وہ بلوائی جنہیں ہم پیچھے چھوڑ آئے تھے وہ اب ہماری طرف کسی عفریت کی طرح دوڑے چلے آرہے تھے ۔میں دل ہی دل میں اللہ سے دعا گو تھی کہ “اللہ بس کچھ ہی دور ہے منزل تو ہماری عزت و ناموس کی حفاظت فرما ”
مگر قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا بھاگ بھاگ کر میری سانس چڑھ گئی تھی ۔حلق میں پیاس سے کانٹے پڑ گئے تھے ۔بچے حلق پھاڑ پھاڑ کر روئے جا رہے تھے۔ کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ اچانک میرا پاؤں پتھریلی زمین میں مڑا اور میں منہ کے بل گر پڑی ۔میرے چند ماہ کے دونوں جگر گوشے اندھیرے میں میری گود سے چھوٹ گئے اور میں دیوانہ وار اپنے بچوں کو ہاتھ سے ٹٹول ٹٹول کر ڈھونڈ رہی تھی کہ بلوائیوں کو ایک سرغنہ میرے سر پر پہنچ چکا تھا ۔
میرے قافلے کے سبھی لوگ اللہ کو پیارے ہو چکے تھے ۔میں پھٹی پھٹی آنکھوں سے اس ہندو بنیے کو دیکھا۔ جس سے اپنی زندگی کی بھیک مانگنے سے بہتر تھا کہ میں مر جاؤں کیونکہ مجھے اس کے ارادے نیک نہ لگ رہے تھے ۔
اب مجھے کسی بات کا بھی ہوش نہیں تھا ۔نہیں معلوم کہ میرے بچے اس اندھیرے میں کہاں تھے بس ان کی گلے پھاڑتے چیخنے اور رونے کی اوازیں میرے کانوں تک پہنچ رہی تھی۔اور میں بے بس تھی۔ اب سر پر تو موت ناچتی نظر آرہی تھی۔ میں نے اس ہندو بنیے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر گھورا کہ یہ وقت ڈرنے کا نہیں بلکہ بہادری سے مقابلہ کرنے کا تھا اور جھک کر ایک ہاتھ میں مٹی اٹھا کر اس کی آنکھوں کی طرف پھینکا بس یہ ایک لمحے کا کھیل تھا اس ہندو بنیے نے اپنی آنکھوں میں پڑنے والی مٹی سے بچنے کے لیے آنکھیں بند کی اور ادھر میں سر پٹ دوڑی کہ بس یہی ایک لمحہ تھا جو اگر میں بچ گئی ،۔۔۔تو بچ گئی ورنہ میرا انجام بھی باقی سب جیسا ہی ہونا تھا۔ میں چیختی چلاتی انجان سمت کی طرف دوڑی اور وہ ہندو بنیا میرے پیچھے کسی بدمست ہاتھی کی طرح دوڑا۔۔۔ وہ تمام لمحے اتنی خوفناک تھے کہ بس۔۔۔۔ نانی نے ایک جھرجھری لی ان کے جھرجھری لینے سے میں حال میں واپس آئی تو دیکھا نانی کے کمرے میں گھر کے سبھی افراد آئے بیٹھے تھے نہ جانے یہ سب کب آ کر بیٹھے۔۔۔۔
خیر نانی مزید گویا ہوئیں ۔۔۔۔۔”میں جو بن دیکھے بھاگے چلی جا رہی تھی ،کہ اچانک اندھیرے میں ایک کھائ میں گرتی چلی گئی بس یاد رہا تو ،اتنا کہ کسی کے مضبوط ہاتھوں نے مجھے مکمل طور پر کھائ میں گرنے سے بچا لیا تھا ۔مگر میں اس حال میں بھی اللہ سے دعا کر رہی تھی کہ ” اے اللہ!…” کسی ہندو بنیے کے حوالے کرنے سے بہتر ہے کہ میں کسی اندھی کھائی میں گر جاؤں”
جب مجھے ہوش آیا تو میں نے خود کو ایک آرام دہ بستر میں پایا ۔یہ ایک حال کمرہ تھا ۔یہاں مجھ جیسی کئی عورتیں موجود تھیں جنہوں نے اپنا سب کچھ قربان کر دیا تھا ہوش میں آنے کے بعد پتہ لگا کہ میں محفوظ جگہ پر ہوں اور پاکستان میں ہوں تو بس میری خوشی کی انتہا نہ تھی مگر دوسرے ہی لمحے مجھے اپنے دونوں شیر خوار جگر گوشوں کی یاد آئی تو بس مجھے لگا کہ میرا کلیجہ پھٹ جائے گا اور پھر میں نے چیخ چیخ کر پورا حال کمرہ سر پر اٹھا لیا تھا۔ وہاں پر موجود ہماری نگرانی اور دیکھ بھال کرنے والوں نے مجھے سنبھالا اور سہارا دیا،
اس ہال کمرے میں موجود ہر عورت کی کہانی میری کہانی سے ملتی جلتی تھی ۔کسی کے بچے اس سفر میں راہ عدم کوچ کر گئے تھے ،تو کسی کا شوہر اور باپ بلوائیوں کے ہاتھوں لگ کر جام شہادت نوش فرما چکا تھا۔ سب سے زیادہ برا حال تو ان عورتوں کا تھا جنہوں نے اپنی ناموس کو اپنی آنکھوں کے سامنے تار تار ہوتے دیکھا تھا ۔نانی اماں نے ایک گہرا سانس لیا ایسے جیسے کوئ تھک کر سانس لیتا ہے۔
وقت سب سے بڑا مرہم ہے ۔میں بھی سب بھول بھال گئی یاد رہے۔۔۔۔ تو بس اپنے منور حسین اور وہ دونوں لخت جگر ۔۔۔۔اماں نے سسکی لیتے ہوئے اس پرانی سی تصویر پر اپنی جھریوں بھرے ہاتھ پھیرے جہاں ایک خو برو شخص موجود تھا۔
بس اسی واقعے کو یاد کر کے میں کہتی ہوں کہ “قدر ہی نہیں ہے” کیا غلط کہتی ہوں …؟نانی اماں نے ہم سب کی آنکھوں میں باری باری جھانکا.
میں ان کی بات کا مطلب سمجھ گئی تھی اسی لیے نفی میں سر ہلایا کہ واقعی وہ غلط تو نہیں کہتی تھیں۔ ہمیں تو یہ ملک بیٹھے بٹھا ئے مل گیا ہے نہ ہمیں ننگے پیروں ،ننگے سروں گھروں سے بھاگنا پڑا، نہ اپنے کسی پیارے کو اپنی آنکھوں کے سامنے تڑپ تڑپ کر مرتے ہوئے دیکھا، نہ ہم نے اپنا گھر بار جائداد کو چھوڑا ، ہم تو مفت میں اس ملک کے باشندے بن گئے ہیں۔ صحیح تو کہہ رہی تھی نانی اماں ۔۔ہمیں اپنی آزادی کی کوئی قدر نہیں تھی ۔جنہوں نے اس سفر میں اپنا سب کچھ لٹایا ۔اپنی جان ،مال عزت و آبرو کسی چیز کی بھی پرواہ نہ کی پرواہ تھی تو بس کہ کسی طرح وطن عزیز پہنچ جائیں ۔ اصل حقدار تو یہی لوگ تھے ہم نہیں۔۔۔۔
اسی لمحے مجھے نانی اماں کا ایک ایک چیز کا خیال رکھنا ،کبھی بہتا نل بند کرنا ،کبھی فالتو چلتے پنکھے بند کرنا، کچن اور باتھ روم کی بلا وجہ جلتی لائٹ کو بند کرنا ۔ایک ایک کرکے سب یاد آیا اور سب سمجھ بھی ۔۔۔۔۔۔
کہ یہ سب چیزیں ہمارے ملک کا سرمایہ ہیں ۔ ہم اور ہمیں اپنے ملک کے سرمایہ کو سنبھال کر رکھنا ہے اور یہ دھیان ، خیال رکھنا بھی سب سے بڑی بات ہے جسے ہم سب معمولی سمجھتے ہیں ۔
اس خیال سے میری آنکھیں چمکیں اور میں نے نانی اماں کی شکن زدہ ہاتھوں کو ہاتھ میں لیتے ہوئے کہا۔ ” نانی اماں آپ کی دی ہوئی قربانی ایسی قربانی ہے جس کا کوئی بدل نہیں لیکن نانی اماں اب آئندہ ہم آپ کو کوئی شکایت کا موقع نہیں دیں گے اپنے وطن کی حفاظت ایسے کریں گے کہ اس ملک کی ہر چیز کو سنبھال کر رکھیں گے۔ اپنے ملک کے سرمایہ کو سنبھال کر رکھیں گے ۔کبھی کوئی آنچ نہیں آنے دیں گے۔ کبھی کسی دشمن کو ترچھی نگاہ بھی نہیں ڈالنے دیں گے ۔یہ سب کہتے ہوئے میرا لہجہ بھیگ گیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔اور آپکا؟
آزادی کی کہانی نانی اماں کی زبانی/تحریر/اُم حسام
تحریر: ام حسام
یوم آزادی/ لازوال قربانیوں کی داستان/ تحریر/ محمد حسنین معاویہ
یوم _آزادی ( شکرانے کے ساتھ)/ تحریر/ عصمت اسامہ
پاکستان کو سب سے پہلے اور آخر میں تسلیم کرنے والے ممالک/تحریر/طاہر ایوب جنجوعہ
سب سے پہلے پاکستان/تحریر/حفیظ چودھری
0