
سوشل میڈیا ایپس اور دھندہ/تحریر/خطیب احمد/سوشل ایکٹوسٹ
پہلے پہل معروف سوشل میڈیا ایپ صرف یوٹیوب تھی تو لوگ سب سکرائبر ہوا کرتے تھے۔ پھر فیس بک آئی تو ڈیجیٹل دوست بننا شروع ہوئے۔ وہ میرافیس بک فرینڈ ہے۔ پھر فیس بک پر فالورز اور پھر پھر انسٹاگرام پر بھی فالورز۔ فیس بک پہلے نیٹ ورکنگ ایپ تھی۔ جو اب بھی ہے۔ پھر اس نے زیادہ فالونگ والے افراد کو پیسے دینا شروع کر دیے ۔ کہ وہ اپنا وقت دیتے ہیں۔ اور انسٹاگرام برانڈ بلڈنگ و مارکیٹنگ ایپ کے ساتھ بڑی فالونگ والوں کے لیے مالی فوائد لے آئی۔ ان دونوں سے قبل یوٹیوب تو کانٹینٹ بنانے والوں کو پیسے دے ہی رہی تھی۔
سابقہ ٹویٹر جب ایکس بنی تو وہ ایک بنیے نے کیونکہ خریدی تھی۔ اس نے بھی مانیٹائزئشن آن کر دی۔ پیسے دو بھی اور پیسے کماؤ بھی۔
سنیپ چیٹ عام ہوئی تو بہت بڑی آڈئینس ماسک لگانے اپنی اصل شکل کو چھپا کر ایک بڈاوا بن جانے وہاں جا پہنچی۔ انسانی فطرت سے حقیقت اور سچائی سے فرار چاہتا ہے۔ جن کے پاس پیسہ ہے وہ سرجریاں کروا کر چہرہ و دیگر باڈی پارٹس کو نام نہاد فیشن انڈسٹری میں جلوہ گر چہروں اور جسموں سے ہم آہنگ کر رہے ہیں۔ جو ایسا نہیں کر پاتے ان کا گزارہ سنیپ چیٹ کے فلٹر چلا رہے ہیں۔ سمجھ سے باہر ہے ایسی سوچ آخر کیونکر ایک انسان میں پنپتی ہے کہ وہ اپنا ہی منہ نہیں دیکھنا چاہتا کہ اسے بنانے والے نے بنایا ہے۔ سنیپ چیٹ نے بھی مونٹائزیشن آن کرکے پیسہ دینا شروع کر دیا تو وہاں بھی رش بڑھ گیا۔
ٹک ٹاک آئی تو چھا گئی۔ فلموں میں جیسے ایکٹنگ کوئی کرتا تھا اور گانے کے ساتھ اپنے لبوں کو جنبش دے کر ایسا دکھایا جاتا تھا کہ گانا ہیرو اور ہیروئن گا رہے ہیں۔ وہ فیچر ٹک ٹاک لے آئی۔ اب سب کی ہیرو پنتی جاگی اور لپسنگ شروع ہوئی۔ پیشہ ور کبوتریوں نے بہت شروع میں اسے جائن کرکے اپنے جسموں کی نمائش اور ڈانس شروع کرکے گاہکوں کو دانہ ڈالنا شروع کر دیا۔ اب یہ پہلی بار تھا کہ آپ ڈانس کے مزے فری لیں اور اگر بابا جی سیالکوٹ کرنا چاہتے ہیں تو سیدھا انباکس میسج کرکے مطلوبہ قیمت پر جسمانی رسائی حاصل کر لیں۔ کسی گمنام طوائف کی بجائے ڈیجیٹل پریزنس والی چمکتی دمکتی چیز کے پاس جانے کا جنون انکی قیمت بڑھانے لگا۔ وہ اپنی اصل سابقہ قیمت سے بہت زیادہ چارج کرنے لگیں کہ گاہکوں کی بڑی کھیپ ہاتھ لگی تھی۔ پھر دھوکے ہونے لگے، ایک وقت میں دس بیس جانو ایزی پیسہ جاز کیش کروا رہے تھے۔ اور کئی تو بیچارے سچا پیار کر بیٹھتے، جب انکے پاس ڈیٹا آتا کہ انکے ساتھ انیس اور بھی لوگ پیسہ بھیج کر پورا بھی کر رہے ہیں تو ڈیٹا لیک ہونے لگا۔
ایسا کرنے والوں کو لگتا تھا کہ ان سے مخالف پارٹی کی ساکھ ڈیمج ہوگی۔ مگر وہ شبالو یہ نہیں جانتے تھے کہ انکی اس حرکت سے قانون ان کو تو پکڑے گا مگر دوسری طرف بظاہر نیک پروین بن کر بیان دینے والیوں کی دکان اور چمک جائے گی۔ کہ اب تو جس کو نہیں پتا تھا اسے بھی علم ہوگیا یہ آپشن بھی دستیاب ہے۔ سکینڈل میں فری کی دبا کر مارکیٹنگ اور بدلہ لینے کا خواہشمند ڈیٹا اور پرائیویسی لیک کرنے کے جرم میں حوالات میں بند۔
دیکھتے ہی دیکھتے جو پیشہ ور نہیں تھیں انہوں نے بھی اس فیلڈ میں قسمت آزمائی کا سوچا اور مارکیٹ خوب پھلنے پھولنے لگی۔ وہیں پھلو مصلی جیسی کیٹگری بھی بڑھ چڑھ کر سامنے آئی۔ لوگ ان پر ترس کھانے لگے کہ کتنا غریب ہے۔اور ان کو شروع شروع میں پیسے بطور صدقات زکواۃ دینے لگے۔ کہ ان کا کچا گھر ہے کوئی روزگار نہیں ان کو مالی مدد کی ضرورت ہے۔ اس مصلی کے حالات بدلے تو اس جیسے نجانے کتنے ہی اور سامنے آئے۔ ان کا کام اپنا آپ دکھانا، اپنا گھر اپنے ماں باپ اور حالات دکھانا ہوتا تھا۔ اب بھی ہے۔ لوگ انکی حالت پر ترس کھا کر ان کو اب گفٹنگ کرتے ہیں۔
فالورز ، سب سکرائبر ، فین، کے بعد اب اوپر کا درجہ گفٹر کا ہے۔ جو پیسہ دیتا ہے اس کا نام لینے والے اور والیاں جھوم جھوم کر لے رہے ہوتے ہیں۔
گفٹر کی سوچ ایک تو یہ سمجھ آتی ہے کہ غریبوں کی مدد کرتے ہیں۔ لڑکیوں پر جوا کھیلتے ہیں کہ موقع ملا تو پیسے پورے کر لیں گے۔ تیسری پارٹی جو نہ لڑکی ہے نہ غریب۔ اس کو لاکھوں کروڑوں میں پیسہ دینا کس کیٹگری میں آتا ہے؟ لائیو میچ ہوتے ہیں اور لوگ محنت سے کمایا ہوا پیسہ وہاں دونوں فریقین پر پھینک رہے ہوتے ہیں جیسے ڈانس کرتے کھسروں اور نعتیں پڑھتے نعت خوانوں اور سستے قوالوں اور جھوٹے پیروں پر پھینکا جاتا ہے۔ اب یہ بحث زور پکڑ رہی ہے کہ حد سے بڑھی ہوئی لاکھوں کروڑوں کی گفٹنگ آخر حقیقیت میں ہے کیا اور یہ گفٹرکون سی مخلوق ہے؟
ابھی کئی دیگر ایپس کا نام نہیں لکھا پہلے ہی بات بہت لمبی ہو چکی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق دنیا کی آدھی آبادی ان معروف ایپس کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ پیسے شہرت اور سیلبرٹی بننے کا پوائنٹ تو ایک طرف، ان ایپس نے اس دنیا نے انسانوں کے وقت کا بہت زیادہ ضیاع کیا ہے۔ پیشہ شہرت ہر کوئی نہیں کما رہا۔ آڈئینس اپنا وقت اور جذبات دے رہی ہے۔ اور بدلے میں اسے وہی سوچ مل رہی ہے کہ تم بھی ایسے بنو۔ تم سے زیادہ عقل تو نہیں فلاں میں، کوئی لڑکی یہ سوچتی ہے وہ تو مجھ سے کئی درجے بد صورت ہے میں کیوں نہ سامنے آؤں۔ ہر تیسرا چوتھا بندہ ڈیجیٹل کریٹر بننا چاہتا ہے۔ اور نظر آکر بول کر پیسہ بنانے کی دوڑ یا کم از کم سوچ میں ہے۔
میں سوچتا ہوں۔ کیا یہ سب نارمل ہے؟ ہم کیا بنتے جا رہے ہیں؟ کل رات اپنی فیس بک پروفائل پر موجود بلیو ٹک میں نے خود ختم کر دیا۔ میں کوئی سیلبرٹی نہیں ہوں۔ نہ مجھے اس جال میں خود کو پھنسانا ہے۔ پروفائل بھی کوئی ہیک کرتا ہے تو کر لے ۔ یہ زندگی موت کا مسئلہ نہیں ہے۔ میں اپنی ریچ ہمیشہ خراب کرتا ہوں۔ اسے بڑھاتا نہیں ہوں نہ کبھی کہا ریچ نہیں رہی وغیرہ۔ مجھے ریچ کی کوئی ضرورت ہی نہیں ہے یار۔ میرا لکھا ہوا جس تک جانا ہے وہ چلا جائے گا۔ اگر وڈیو بنانا کبھی شروع کروں گا تو اس کا مقصد اپنا کتھارسس ہی ہوگا۔ نہ کہ اسے بطور پروفیشن جائن کرنا کہ اس سے ملنے والی رقم سے میری ضروریات پوری ہوں۔ میں اس فیلڈ کو برا ہر گز نہیں سمجھتا، بس یہ کہتا ہوں کہ ہم سب وہ نہ سوچیں وہ نہ بنیں جو ہمیں ہولی ہولی بنایا جا رہا ہے۔ دکھاوا ، نمائش، لچر پن، بھانڈ بننا، یہ سب کیا ہے یار؟ ابھی ایپس ہفتہ وار چیلنج دینے لگی ہیں کہ یہ پورا کرو۔ سوچئیے اس کے بعد کیا ہوگا؟ کیا ہم اس سب کے غلام بن کر رہ جائیں گے؟ ہمیں اور اس دنیا کو ویسا ہی بنایا جائے گا؟ جیسا کوئی ہمیں بنانا چاہ رہا ہے؟ آپ کو گمان نہیں ہوتا کہ یہ سب نارمل نہیں ہے؟ یہ میری سوچ و سمجھ سے بہت آگے جاکر ابنارمل ہے۔