چیٹ جی پی ٹی کا فتنہ/تحریر/شاعرہ و مصنفہ/صغریٰ یامین سحراصل لکھاری وہ ہے جس کے دل کی تختی پر الہام کی رم جھم ہوتی رہتی ہے ۔وہی الفاظ شاہ کار ہوتے ہیں، جو دلوں میں اترنے کا ہنر جانتے ہیں اور انہیں بدلنے کا فن بھی رکھتے ہیں۔ اگر ہم اپنے سے پہلے مصنفین کی تحریریں دیکھیں جب دور دور تک چیٹ جی پی ٹی کا فتنہ نہیں تھا۔ ان کی تحریروں میں کوئی نا کوئی اصلاحی پہلو اور راہنمائی پوشیدہ ہوتی تھی، تو قاری اپنی استعداد کے مطابق ان الفاظ کے باطن میں چھپے رمزو اسرار نکال کر اپنی اخلاقی و باطنی تربیت میں جت جاتا تھا۔اس کے برعکس جیسے جیسے ہم کتابوں سے دور ہوتے جارہے ہیں، ہماری تحقیقی استعداد نہ ہونے کے برابر ہے۔ہم سنی سنائی باتوں پر یقین کرلیتے ہیں تحقیق کرنے کی زحمت گوارا نہیں کرتے۔ جس کی وجہ سے ہم اپنی بربادی کے خود زمہ دار ہیں ۔اس دور میں جہاں سانئس نے بہت ترقی کی ، تو اب مصنف اور شاعر بننا مشکل نہیں رہا صرف ایک کلک کی دوری پر، چیٹ جی پی ٹی کا استعمال کریں تھکے ہوئے شاعر اور مصنف بن جائیں ہے ناکتنا آسان ؟ جو بھی نئی ایجاد ہمارے ہتھے چڑھتی ہے اس کی ایسی کی تیسی پھیرنا ہمارے بائیں ہاتھ کا کام ہے۔بڑے افسوس کے ساتھ یہ کہنے کی جسارت کر رہی ہوں، کہ ہم اس کا اندھا دھند استعمال کر رہے ہیں اور بہت مطمئن بھی ہیں، کہ ہم نے لوگوں کو بے وقوف بنادیا۔ مجھے حیرت کا جھٹکا تو اس وقت لگاجب وہ لوگ بھی جو خود کو وڈے وڈے شاعر اور مصنف کہلواتے ہیں وہ بھی!! اس مرض میں مبتلا ہیں اس کی مدد سے نت نئے شاہ کارِ بے کار تخلیق کرکے خود کو پھنے خاں سمجھتے ہیں، لوگوں کی واہ! واہ! کے لیے فوراً فیس بک پہ آپ لوڈ کر دیتے ہیں. سوچنے کی بات ہے؟ بھلا ایک مشین ایک تحریر میں کیسے احساسات جذبات کیفیات اورروحانیت ڈال سکتی ہے؟ باجی چیٹ جی ٹی پی سے لکھوائی گئیں تحریریں غیر مصدقہ معلومات تو ہوسکتی ہیں مگر دل پر اثر ڈالنے سے قاصر ہیں.
ہمیں فکرمند ہونا چاہیے کہ ہمیں کس طرح سفاکی کے ساتھ کتابوں سے دور کیا جارہاہے۔ہمیں چیت جی ٹی پی جو بھی الٹی سیدھی معلومات دیتی ہے، ہم اس پہ یقین کرلیتے ہیں۔ یقین تو بنتا جب ہم خود اس قابل نہیں ہیں کہ تحقیق کریں، محنت کریں ہماری سہل پسندی نے ہمیں بے کار بنادیا۔
ہم یہ بھی سوچنے کی زحمت بھی گوارا نہیں کرتے کہ ہمیں کون سے بہت بڑے فتنے میں مبتلا کیا جارہا ہے؟حیرت ہے کہ ایلون مسک اور مارک زگربرگ کے پاس اپنا موبائل تک نہیں ہے اور ہم ان کے بنائے موبائل دن رات دل سے چپکائے بیٹھے ہیں۔
جہاں تک میری رائے ہے یہ محض ایک ٹول ہے جسے ہم صرف معلومات کے حصول میں اپنے کسی کاروبار کی تشہیر کے لیے تو استعمال کرسکتے ہیں ، مگر اس کے زریعے اصلاحِ باطن ناممکنات میں سے ہے۔ علم کی چاشنی ہمیں کتابوں اور اپنے بزرگوں کی صحبت سے ملے گی..