حناول تبصرہ/زینو/تبصرہ نگار/ اقصیٰ گیلانیآپ نے کبھی نہ کبھی یہ ضرور سوچا، سنا یا پڑھا ہو گا کہ اگر سو سال پہلے کا آدمی قبر سے اٹھ جائے تو ٹیکنالوجی کی اس برق رفتار ترقی کو دیکھ کر چکرا جائے گا۔ تانگے کی جگہ ہوائی جہاز اور خط و کبوتر کی جگہ ویڈیو کال کچھ ہی سالوں میں دنیا بہت تیزی سے بدل گئی ہے مگر وحید احمد صاحب کا ناول “زینو” ایک قدم اور آگے بڑھتا ہے… یہ فرض کرتا ہے کہ اگر آج سے دو تین ہزار سال پہلے کا آدمی، اور وہ بھی ذہین ترین یونانی فلسفی، زندہ ہو جائے تو وہ دنیا کو کیسے دیکھے گا؟ اس فلسفی کی آنکھوں سے موجودہ دور کی کامیابیوں اور ناکامیوں کو دکھانا ہی اس ناول کی سب سے اہم خاصیت ہے۔
یہ ناول ڈاکٹر وحید احمد کے تخلیقی شعور کا عکاس ایک غیر معمولی اور دانشورانہ شاہکار ہے۔ یہ صرف فکشن نہیں، بلکہ تاریخ، فلسفہ، جدید معاشیات، اور ماحولیاتی شعور کا وہ گہرا امتزاج ہے جو قاری کو ڈھائی ہزار سال کے سحر انگیز سفر پر لے جاتا ہے۔ اردو میں ضخیم ناولوں کی روایت کے برعکس اس ناول کا اختصار اور تیز رفتار بیانیہ اسے کسی ہالی وڈ فلم جیسی دلچسپی اور روانی عطا کرتا ہے۔
ڈیڑھ سو صفحات کا یہ ناول مجلس ترقی ادب لاہور نے شائع کیا ہے جس کی قیمت صرف 250 روپے درج ہے۔ پرنٹنگ بھی معیاری ہے، البتہ کہیں کہیں پروف ریڈنگ کی غلطیاں نظر آئیں۔
بات کی جائے ناول کے پلاٹ اور کہانی اور اہم خصوصیات کی تو ابتدا یہ ہمیں قدیم علم و دانش کے مرکز یونان میں لے جاتا ہے۔ یہاں ہماری ملاقات ناول کے مرکزی کردار زینو سے ہوتی ہے جو ارسطو کی ٹکر کا فلسفی ہے۔ زینو امن پسند ہے، ماحول دوست ہے، درخت اس سے باتیں کرتے ہیں، اور جانور اس سے مانوس ہیں۔ زینو کے والد کا سونا تلاش کرنے کا جنون اور لالچ ان کی اور زینو کی ماں کی جان لے لیتا ہے۔
زینو کی ارسطو سے ملاقاتیں اور فلسفیانہ مکالمے کافی دلچسپ ہیں اور وحید صاحب نے قدیم یونان کی تہذیب کی منظر کشی اچھے انداز سے کی ہے۔ جب ارسطو سکندر کو ہومر پڑھا رہا ہوتا ہے، تو زینو بھانپ جاتا ہے کہ ارسطو آگ سے کھیل رہا ہے اور یہ نوجوان دنیا کے امن کو تباہ کر دے گا۔
زینو کو ایک جزیرے پر بہت سارا سونا ملتا ہے۔ وہ اس سونے کو ایک بہت بڑی کشتی میں بھر کر اپنی محبوبہ کو ساتھ لیے سمندر میں نکل جاتا ہے۔ جب سکندر جنگ شروع کرتا ہے تو سکندر زینو کی قدر کرتا ہے کیونکہ ارسطو بھی اس کی قدر کرتا تھا۔ وہ سکندر اور پھر دارا کو سونے سے بھرے بیڑے کی پیشکش کرتا ہے تاکہ وہ جنگ روک دیں مگر جنگی جنون میں مبتلا دونوں حکمران یہ پیشکش ٹھکرا دیتے ہیں۔ سکندر جب مصر پر حملے اور پھر ہندوستان پر چڑھائی سے پہلے بھی زینو کی پیشکش نہیں مانتا تو زینو بالآخر سونے سے بھری کشتی سمندر میں ڈبو دیتا ہے اور ہندوستان چلا جاتا ہے۔ جہاں ہندوستانی فلسفیوں سے ملنے کے بعد وہ اپنی محبوبہ سمیت ہمالیہ کی چوٹی پر چڑھنے لگتا ہے۔
جدید دور میں زینو کی واپسی ہوتی ہے اور ناول ہمیں موجودہ دور سے بھی تھوڑا آگے لے جاتا ہے۔ سائنس بہت ترقی کر چکی ہے مگر ماحولیاتی آلودگی عروج پر ہے۔ یہاں ایک بہت ذہین سائنسدان ہے جسے اقوام متحدہ نے دنیا میں کہیں بھی جانے کی اجازت دے رکھی ہے۔ پاکستان میں اس کا ایک مصور دوست ہے۔ یہ سائنسدان، اس کی محبوبہ اور دوست ہمالیہ کی چوٹی پر پارٹی کرنے جاتے ہیں، جب ایک ڈیوائس بتاتی ہے کہ برف میں ایک زندہ انسان دبا ہوا ہے۔
زینو کو صدیوں بعد نکال کر دوبارہ زندہ کیا جاتا ہے۔ یہ عمل اتنی باریکی اور جزئیات کے ساتھ دکھایا گیا ہے کہ یوں لگتا ہے قاری بھی اس عمل میں شریک ہے۔
کئی زبانیں جاننے والا زینو جب دوبارہ زندہ ہوتا ہے تو ماحولیاتی آلودگی پر کھل کر بات کرتا ہے۔ وہ “داس کیپٹل” اور جدید علم و دانش کا مطالعہ کرتا ہے۔ وہ ماہرینِ معیشت، دنیا کے حکمرانوں اور کمیونسٹوں سے ملتا ہے اور انہیں دنیا کو درپیش جدید مسائل سے خبردار کرتا ہے اور ان کے حل کی تجاویز بھی پیش کرتا ہے۔ یہ ناول محض کہانی نہیں، بلکہ قدیم دانش کی روشنی میں جدید دنیا کے بحرانوں کا تجزیہ ہے۔
یہ ناول مجھے میرے دوست عمر فاروق نے تحفتاً بھیجا ہے اور کتاب کے ساتھ تین خوبصورت بُک مارکس بھی تھے جو کتاب پڑھنے تک انوشے نے اغواہ کر لاپتہ کر دیے ہیں۔