ہوٹل اور گیسٹ ہاؤس بنے زناکاروں کی محفوظ پناہ گاہ کالم نگار:
محمد شہزاد بھٹی
آج ہم گفتگو کریں گے انتہائی اہم موضوع پر، صوبہ پنجاب میں اکثر ہوٹلز اور ریسٹوران کچھ ایسی سرگرمیوں میں ملوث ہیں جو فحش اور غیر اخلاقی ہیں بلکہ ہماری اسلامی اقدار اور معاشرتی روایات کے بھی سراسر خلاف ہیں۔ ہمارے ملک کا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے جہاں اسلامی اصولوں کی پاسداری ہر شہری کی ذمہ داری ہے مگر یہاں سب کچھ پس پشت ڈال کر ہم بے راہ روی کا شکار ہو رہے ہیں۔ آج بارہ سے تیرہ سال میں بچے بچیاں بالغ ہو رہے ہیں اور مگر پچیس سے تیس سال تک ان کا نکاح نہیں ہو رہا ہے تو یہ جنسی مریض بھی بنیں گے اور گناہ بھی کریں گے کیونکہ بھوک پیاس اور لباس کے بعد بالغ انسان کی اہم ضرورت جنسی تسکین ہے۔ اگر آپ لاہور، فیصل آباد، اسلام آباد، کراچی، ملتان اور بہاولپور جیسے بڑے بڑے شہروں کے ریسٹورنٹ، گیسٹ ہاوس اور ہوٹلوں کا اگر رات کے کسی پہر وزٹ کریں تو معلوم ہو گا کہ یہاں پر موجود نوجوان جوڑوں میں سے اسی فیصد سے بھی زیادہ کا تعلق شہر کے مختلف کالجوں، یونیورسٹیوں سے ہے۔ اگر اسی طرح آپ مختلف پیزا شاپس، جوس کارنرز کا وزٹ کریں تو آپ کو یہاں بھی کالجوں، یونیورسٹیوں کے نوجوان جوڑوں کا ایک جم غفیر ملے گا، یہاں اندر کرسیوں کی جگہ صوفے لگے ہوتے ہیں یعنی کے پورا ماحول بنا ہوتا ہے, آپ جو مرضی چاہیں کر سکتے ہیں، اگر آپ کسی ریسٹوران میں اپنے مزموم مقصد کے لئے کمرہ لینا چاہتے ہیں اور آپ اسی شہر سے ہیں تو بھی پریشانی کی کوئی بات نہیں حالانکہ کسی کو بھی کمرہ رینٹ پر دینے سے پہلے اس کا شناختی کارڈ چیک کیا جانا چاہیے، اسی شہر کا ہونے کی صورت میں ہوٹل یا ریسٹوران میں کمرہ بالکل نہیں دیا جانا چاہیے مگر آپ کو اپنے شہر میں ایسے بہت سارے ہوٹلز اور ریسٹوران ملیں گے جو صبح آٹھ بجے سے ایک گھنٹہ یا دو گھنٹے کیلئے نوجوان جوڑوں کو کمرے کرایہ پر دیتے ہیں، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ سارے ہوٹلز اور ریسٹوران بنے ہی اسی کام کے لئے ہیں، ایسے میں کلاؤڈ بریسٹ، زلزلے اور سیلاب جیسے عذاب تو آئیں گے۔ اگر ہم بات کریں بہاولنگر کی تو یہ بھی کسی دوسرے شہر سے پیچھے نہیں یہاں موجود ہوٹلز اور ریسٹوران زنا کے اڈے بن گئے اور نوجوان نسل کی تباہی کا سبب بننے لگے ہیں، بہاولنگر میں ان زنا کے اڈوں کی روز بروز بڑھتی ہوئی تعداد علاقے کے لیے شدید معاشرتی اور اخلاقی بحران کا باعث بن رہی ہے۔ ان اڈوں کی موجودگی نہ صرف نوجوان نسل کو گمراہی کی راہ پر ڈال رہی ہے بلکہ ذرائع کے مطابق، ان ہوٹلز اور ریسٹوران میں اپنی ہوس کو مٹانے اور جنسی تسکین کے لئے آنے جانے والے افراد میں بڑی تعداد سٹوڈنٹس اور دیگر نوجوانوں کی ہے جو نہ صرف اخلاقی زوال کا شکار ہو رہے ہیں بلکہ معاشرتی حدود کو بھی پامال کر رہے ہیں۔ ان مجرمانہ سرگرمیوں سے ملوث عناصر ان ہوٹلز اور ریسٹوران کو محفوظ پناہ گاہوں کے طور پر استعمال کر رہے ہیں، اہم اور قابلِ افسوس بات یہ ہے کہ پولیس ان ہوٹلز اور ریسٹوران کے خلاف کسی بھی قسم کی مؤثر کارروائی کرتی نظر نہیں آ رہی۔ عوامی تاثر یہ ہے کہ متعلقہ حکام ان جرائم پر خاموشی اختیار کئیے ہوئے ہیں، گویا ان کے حصے کی نظراندازی کی قیمت، انہیں وقت پر فراہم کی جا رہی ہے اور سی سی ڈی بھی کسی قسم کی کاروائی سے گریزاں ہے، آخر کیوں؟ اگر بروقت اور سخت کارروائی نہ کی گئی تو یہ سماجی ناسور پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے، جس کے نتائج نئی نسل کی مکمل بربادی کی صورت میں سامنے آ سکتے ہیں۔ میری حکومتِ پنجاب سے اپیل ہے کہ ہوٹلز اور ریسٹوران میں بڑھتی ہوئی بے اس بے راہ روی کا سختی سے نوٹس لے اور ایسے گھناؤنے فعل کو روکنے کے لیے پنجاب بھر کے تمام ہوٹلز اور گیسٹ ہاؤسز کے داخلی اور خارجی راستوں پر سی سی ٹی وی کیمرے لگوائے جائیں اور دیگر مؤثر قوانین اور اقدامات کئیے جائیں اور ان کا اطلاق فوری یقینی بنایا جائے خلاف ورزی کرنے والوں کو جرمانے سزائیں دینے کے علاوہ ان کے ہوٹلز اور ریسٹوران کو سیل کیا جائے تاکہ ہماری نوجوان نسل محفوظ رہ سکے اور اسلامی معاشرتی اقدار کو فروغ دیا جا سکے۔ اللّه کریم سب کا حامی و ناصر ہو۔ آمین