0

امید کے جہاز/تحریر/نجیب اللہ مہترزئی

عنوان
امید کے جہاز
تحریر
نجیب اللّٰہ مہترزئی

کچھ کشتیاں سمندر کی گہرائیوں میں ڈوب جاتی ہیں،
کچھ طوفانوں کے باوجود کنارے لگ ہی جاتی ہیں۔

جہاں زندگی ہے، وہاں امید بھی ہے۔
ہر اندھیرے کے بعد اجالا ضرور ہوتا ہے۔

دنیا کی سب سے مظلوم اور ستم رسیدہ قوم اہلِ فلسطین پر نہ ختم ہونے والے مظالم کا سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ روز بروز نئے جنگی ہتھیار اس قوم پر آزمائے جا رہے ہیں۔ زمین شکن بموں سے لے کر ڈرون طیاروں تک، سب کچھ ارضِ مقدس کو برباد کرنے کے لیے استعمال ہورہا ہے۔ تاریخ نے شاید ہی اس سے پہلے ایسے وحشت ناک، دردناک اور کربناک مظالم دیکھے ہوں جن میں نہ بچے محفوظ ہیں نہ عورتیں، نہ بوڑھے بچ سکے ہیں نہ زخمی۔ مساجد، مدارس، عبادت گاہیں، اسپتال اور اسکول سب ملبے کا ڈھیر بنائے جا چکے ہیں۔
عرصہ دراز سے جاری اس ظلم پر اقوام متحدہ اور عالمی اسٹیبلشمنٹ خواب غفلت میں پڑی ہیں۔ اسلامی ممالک کے حکمران اور برائے نام اتحاد و تنظیمیں—جیسے او آئی سی، ڈی-8، عرب لیگ، جی سی سی، اور اسلامی فوجی اتحاد—عملی اقدامات کے بجائے محض گفتار کے غازی بنے ہوئے ہیں۔ حالانکہ ان کے پاس تمام تر فوجی وسائل موجود ہیں لیکن نظریاتی جنگ میں شکست خوردہ دکھائی دیتے ہیں۔
ایسے نامساعد حالات میں جب دنیا کے بڑے بڑے حکمران ظلم کے سامنے خاموش ہیں، کچھ مٹھی بھر انسان اپنی جانوں کو داؤ پر لگا کر انسانیت کا علم بلند کرنے کے لیے غزہ کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ یہ محض جہاز نہیں، بلکہ امید کے چراغ ہیں جو محصور عوام تک روشنی پہنچانے نکلے ہیں۔
گلوبل صمود فلوٹیلا نہ صرف امدادی سامان لے کر جا رہا ہے بلکہ امید کی ایسی شمع روشن کر رہا ہے جو دنیا کے ہر مظلوم کے لیے مشعلِ راہ بن سکتی ہے۔ یہ فلوٹیلا چند کشتیوں کا قافلہ نہیں بلکہ انسانیت کی بقا کی تحریک ہے۔
اس قافلے میں 44 ممالک کے مختلف پس منظر رکھنے والے افراد شامل ہیں، جن میں سیاسی رہنما، سماجی کارکن، صحافی، ڈاکٹر، انجینئر اور مختلف مکاتبِ فکر کے علما شریک ہیں۔ پاکستان کی جانب سے سینیٹر مشتاق احمد خان اور پیر مظہر سعید شاہ سمیت چھ افراد قافلے کا حصہ ہیں۔
یہ قافلہ مشکلات اور رکاوٹوں کو عبور کرتے ہوئے اپنی منزل کی طرف بڑھ رہا ہے۔ حال ہی میں فلوٹیلا کے فیملی بوٹ پر اسرائیلی ڈرون حملہ بھی ہوا، تاہم اللہ کے فضل سے کارکن محفوظ رہے، اگرچہ کچھ جانی نقصان ضرور ہوا۔ شاعر نے کیا خوب کہا ہے:

دشت تو دشت ہیں، دریا بھی نہ چھوڑے ہم نے
بحرِ ظلمات میں دوڑا دیے گھوڑے ہم نے

اس عالمی قافلے کے بنیادی مقاصد میں غزہ کی ناکہ بندی توڑنا، انسانی امداد کی راہداری کھلوانا، اور نسل کشی کا سلسلہ رکوانا شامل ہے۔ امدادی قافلے کے پاس اگرچہ خوراک اور ادویات اہلِ غزہ کی ضروریات کے لیے ناکافی ہیں، لیکن اس کا اصل پیغام یہ ہے کہ اہلِ غزہ تنہا نہیں ہیں۔
یہ قافلہ دنیا کو یہ باور کرا رہا ہے کہ ظالم کا محاصرہ ٹوٹ سکتا ہے اور مظلوم کے لیے امید کا چراغ جلایا جا سکتا ہے۔ ایسے وقت میں جب بڑی طاقتیں اسرائیل کے جرائم پر پردہ ڈال رہی ہیں اور مسلم دنیا کی قیادت بے حسی و غلامی کا شکار ہے، یہ چند لوگ نکلے ہیں تاکہ عالمی ضمیر کو جھنجھوڑ سکیں۔
درد دل
نجیب اللّٰہ مہترزئی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں