0

پاکستان اور امریکہ کے تعلقات و ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی /تحریر/عرفان ملک

*پاکستان اور امریکہ کے تعلقات و ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی*

عرفان ملک

پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں حالیہ عرصے میں بہتری کے آثار دکھائی دے رہے ہیں۔ عالمی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کی غزہ امن منصوبے میں تعاون پر کھل کر تعریف کی ہے ۔ مثال کے طور پر (Sharm el-Sheikh Peace Summit) میں ٹرمپ نے پاکستانی رہنمائوں کو “میرا پسندیدہ فیلڈ مارشل” اور “ناقابلِ یقین” قرار دیا۔
اسی دوران ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق اُنہوں نے وائٹ ہاؤس میں کہا کہ وزیراعظم اور فیلڈ مارشل پاکستان کے طویل عرصے سے امریکی منصوبے کے حامی ہیں ۔ امریکہ میں ٹرمپ کی انتظامیہ کے دوبارہ آنے (جنوری 2025) کے بعد واشنگٹن نے بھی پاکستان کے ساتھ اہم معاہدے کیے ہیں: امریکی حکام کے بقول پاکستان نے قیمتی معدنیات فراہم کرنے کا معاہدہ کیا ہے اور ایک امریکی کمپنی نے پاکستانی معدنیات میں سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے ۔ تجزیہ کار اس سفارتی گرم جوشی کو عسکری تعاون اور اقتصادی مفادات کے پیش نظر دیکھ رہے ہیں۔ اس پسِ منظر میں سوال اٹھتا ہے کہ کیا پاکستان کے کسی حکمران نے ان تعلقات کے تسلسل میں صدر ٹرمپ سے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کا معاملہ اٹھایا ہے؟

ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا مقدمہ: پسِ منظر اور اہم حقائق

ڈاکٹر عافیہ صدیقی 2 مارچ 1972ء کو کراچی میں پیدا ہوئیں۔ انہوں نے امریکہ کے ماساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی سے بی ایس اور برینڈیس یونیورسٹی سے نیوروسائنس میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی
نوے کی دہائی میں عافیہ کا نام امریکی ایف بی آئی کی “درخواست معلومات برائے دہشت گردی” فہرست میں شامل ہوا۔ وہ پہلی خاتون تھیں جن کا نام اس فہرست میں آیا تھا ۔ مبینہ طور پر 2003ء میں ان کے تین بچوں کے ہمراہ پاکستان میں اغوا کے واقعات پیش آئے، جن کے بعد وہ لاپتہ رہیں ۔ پانچ سال بعد سن 2008 میں وہ افغانستان کے صوبہ غزنی میں سامنے آئیں اور افغان پولیس نے انہیں گرفتار کر لیا ۔

امریکی محکمہ انصاف کے اعلامیے کے مطابق عافیہ صدیقی پر الزام ہے کہ 18 جولائی 2008 کو اُن کے ساتھ افغان پولیس اسٹیشن میں امریکی فوجی اہلکار آئے تو عافیہ نے ان کے حوالے کیے جانے کے بعد ہاتھ میں رکھی رائفل سے فائر کیا ۔ اس واقعے میں کوئی امریکی اہلکار زخمی نہ ہوا لیکن عافیہ خود گولی لگنے کے بعد امریکی حراست میں لے لی گئیں ۔ عدالت میں پیش شواہد کے مطابق انہیں “امریکی افسران کو قتل کرنے کی کوشش” اور حملے کے الزامات کا سامنا کرنا پڑا ۔ نیویارک کی وفاقی عدالت نے 3 فروری 2010 کو انہیں سزاوار قرار دیا اور 86 سال قید کی سزا سنائی ۔ عافیہ نے تمام الزامات کی تردید کی ہے، لیکن امریکی عدالت نے انہیں مجرم ٹھہرایا۔

پاکستان میں اس مقدمے کو شدید جذباتی طور پر دیکھا جاتا ہے میڈیا اور عوام کی اکثریت نے اس پر یہ تاثر دیا کہ یہ عافیہ کے مسلمان ہونے یا پاکستانی ہونے کی وجہ سے ایسا ہوا ہے۔
مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف اور اُس وقت کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے بھی اپنے دورِ اقتدار میں اس کیس کی ذاتی دلچسپی ظاہر کرتے ہوئے ان کی رہائی کی یقین دہانی کرائی تھی ۔ مزید برآں، داعش نے ماضی میں عافیہ کی رہائی کے بدلے قیدیوں کی تبادلے کی پیشکش بھی دو مرتبہ کی ، لیکن امریکی حکومت نے ایسے کسی بھی معاہدے کو تسلیم نہیں کیا۔

عافیہ صدیقی کے مقدمے میں پاکستان کی جمہوری حکومتوں نے قانونی و سفارتی محاذ پر متعدد اقدامات کیے ہیں۔ سابق دورِ حکومت میں اپوزیشن اور وزارتِ داخلہ نے اس کیس کو اٹھایا، اور کرمنل عدالتوں کے فیصلوں کو چیلنج کیا۔ حالیہ برسوں میں وزیرِ اعظم شہباز شریف نے بھی اس معاملے پر توجہ دی۔ ان کی حکومت نے مارچ 2023 میں عافیہ کی بہن ڈاکٹر فوزیہ سے ملاقات کر کے معاملے کو ’قانونی و سفارتی تعاون‘ سے حل کرنے کی یقین دہانی کرائی ۔

تاہم امریکی محکمہ خارجہ نے اس معاملے پر براہِ راست تبصرہ کرنے سے انکار کیا اور کہا کہ یہ نجی سفارتی معاملہ ہے جس پر وہ تفصیل میں نہیں جائیں گے۔ پاکستانی عدلیہ میں بھی تفتیش پائی جاتی البتہ عدالتیں اپنی بگڑی صحت کے حوالے سے زیادہ مصروف دکھائی دیتی ہیں۔
ڈاکٹر عافیہ کی بہن فوزیہ صدیقی کے دائر کردہ درخواستوں پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے کئی سماعتیں کی ہیں۔ جنوری 2025 میں عدالت کو بتایا گیا کہ امریکی حکومت نے صدر جوبائیڈن سے عافیہ کے لیے معافی کی درخواست دی تاہم انہوں نے منظور نہیں کی ۔ عدالت کو یہ بھی بتایا گیا کہ امریکہ نے پاکستان کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کا معاہدہ کرنے سے انکار کر دیا ہے ۔ یعنی دو اہم راستے (امریکی صدارتی معافی اور قیدی تبادلہ) دونوں ناکام ہو چکے ہیں۔ اب فوزیہ کے وکیل کا کہنا ہے کہ اگلا قدم امریکہ کی عدالتوں میں نئے شواہد کی بنیاد پر سماعت کروانا ہوگا۔ مزید برآں، شہباز شریف نے معاملات کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے خصوصی کمیٹی بھی قائم کی ہے۔ اس طرح حکومت کوشش کر رہی ہے کہ ہر ممکن سفارتی راستہ استعمال کرے۔ مگر تا حال عافیہ کو واپس لانے میں خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔
نئے سرے سے تعلقات اور عالمی پسِ منظر :

ٹرمپ کی صدارت کے نئے دور میں پاکستان کے ساتھ تعلقات بہت ہی دلچسپ نظر آتے ہیں۔ پاکستان کے ہمسائے ملک بھارت کے معروف جریدے ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ نے اپنی پہلی مدتِ صدارت میں پاکستان کو “دہشت گردوں کا محفوظ ٹھکانہ” قرار دیا تھا، مگر جنوری 2025 میں دوبارہ اقتدار سنبھالنے کے بعد واشنگٹن نے اسلام آباد کے ساتھ تعلقات میں نرمی دکھائی ہے۔ امریکی عہدیداروں کا اصرار ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ تجارت و سرمایہ کاری بڑھانا چاہتے ہیں ۔
دوسری جانب، ڈاکٹر عافیہ کا معاملہ عالمی سطح پر بھی موضوعِ بحث رہا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں اور امریکہ کے اتحادی ممالک عموماً اس معاملے پر خاموش رہتے آئے ہیں۔
نتائج و پیش نظر : بین الاقوامی روابط میں معمولی بہتری کے باوجود ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے حوالے سے کوئی عملی پیشرفت سامنے نہیں آئی۔ شہباز شریف کی حکومت نے صدر بائیڈن کو خط لکھا اور قانونی کمیٹی قائم کی، لیکن ٹرمپ کے ساتھ اس حوالے سے براہِ راست رابطے کی کوئی خبر منظر عام پر نہیں آئی ۔ میڈیا رپورٹس اور حکومتی بیانات میں ٹرمپ کا نام اس معاملے میں نہیں آیا۔ اس کا سبب یہ بھی ہے کہ امریکہ میں یہ کیس اب عدالتی مراحل میں ہے اور ڈونلڈ ٹرمپ کی خارجہ پالیسی عافیہ صدیقی جیسے مقدمات پر ویسی توجہ نہیں دے رہی۔

عافیہ صدیقی کے معاملے کو پاکستان میں حساسیت سے دیکھا جاتا ہے، مگر امریکی نقطہ نظر سے یہ ایک جرم تھا جس کا فیصلہ ہو چکا ہے۔ سفارتی کوششیں اس وقت اس قانونی دائرے میں پھنس کر رہ گئی ہیں۔ موجودہ صدارتی انتظامیہ میں بھی واضح نہیں کہ اس پر کوئی نرم گوشہ رکھا جائے گا یا نہیں۔ اگر مستقبل میں دوطرفہ مفادات کے تحت کوئی بندوبست ہوتا بھی ہے تو وہ شاید تمام معاملات کی بات چیت میں خفیہ طور پر طے ہو گا۔ اب تک دستیاب معلومات سے یہی نظر آتا ہے کہ پاکستان نے اس دور میں صدر ٹرمپ سے ڈائریکٹ رابطہ نہیں کیا، بلکہ کیس کو امریکہ کی قانونی و عدالتی تناظر ہی میں دیکھا جا رہا ہے ۔
یوں موجودہ عالمی صورتِ حال میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے مسئلے کا حل ایک نازک مذاکراتی موضوع ہے جس میں قانونی اور سفارتی دونوں پہلوؤں کا یکساں لحاظ ضروری ہو گا البتہ جہاں تک عافیہ کی رہائی کی بات ہے تو شاید پاکستان عافیہ کی رہائی کےلیے کسی بھی قسم کی قیمت چکانے کے موڈ میں نظر نہیں آتا اور نہ ہی پاکستان کے معاشی و سیاسی حالات ایسے ہیں کہ وہ کسی ایک شخص کےلیے فکرمند ہوتا دکھائی دے
پاکستان جہاں سیاسی کیسز اور سیاسی قتال میں خاطر خواہ اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے وہاں کسی ایک خاتون کی رہائی کو اب پہلے کی طرح سنجیدگی سے نہیں دیکھا جا رہا ، عافیہ کے بچوں اور اہل خانہ کو بہرحال سلام ہے کہ انہوں نے اپنے گھر کی فرد کےلیے وہ سب کیا جو عام طور پر کوئی نہیں کرتا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں