
سیلاب/خیمہ بستی/غیث ویلفیئر/محمد اکرام ارشاد
نماز فجر کے فوراً بعد لوڈر والے کو بلایا ، خود کندھوں پر اٹھا کر خیمے ⛺ بمع دیگر سامان لوڈ کروائے ، گلشن زینب نزد دعا چوک جلال پور پیر والا پہنچ کر ، فوراً مزدوروں کو لایا گیا ، خیمے لگوانے شروع کر دئیے ، پانی کا کولر بھرا ، برف ڈالی اور خیمہ بستی میں پہنچا دی ۔
ٹوکن جن لوگوں کو ملے تھے وہ آنا شروع ہوئے ، مختلف لوگ تھے ، نمبر وار خیموں میں جاتے رہے مگر یہ 👇 دو فیملیز جب پہنچیں تو دل کانپ گیا ، روح تڑپ اٹھی ، جذبات ٹوٹ گئے اور ہمت جواب دے گئی ، آنکھوں سے اشکوں کا سیل رواں بہنا شروع ہوا ، میں گاڑی میں چھپ کر بیٹھ گیا اور بہت رویا ، مجھے لگا میری فیملی بچوں سمیت یہاں آ گئی ، اور ماں جی بیٹیوں کی عزت سنبھالنے ، بچوں کی بھوک سے مجبور ، بتکلف باہمت اور بہادر بن کر آگے چل رہی تھیں ، ان کے برقعے ، پردہ اور شاید گھروں کی سفید پوشی اور خیمے میں رہنے پر شرمندگی کا احساس ان کے قدموں کو آگے چلنے سے روک رہا تھا کہ یا رب ! ” اب ہم جھونپڑی میں رہیں گے ”
مگر چوک میں کھانا تقسیم کرنے والے امدادی ٹرک کے پیچھے بھاگ کر کھانا وصول کرنے کی تکلیف انہیں باعزت کھانا مل جانے پر
خوشی کا احساس دلا رہی تھی ، اب انہیں قضائے حاجت کے لیے جگہ کی تلاش اور گھنٹوں انتظار کی زحمت نہیں اٹھانی پڑنی تھی ، انہیں یہ باور کرا دیا گیا تھا کہ آپ سب کی خدمت اور پہرے کے لیے آپ کے بھائی (غیث فاؤنڈیشن) ہمہ وقت یہاں موجود رہیں گے ،
ام رومان چھوٹی معصوم سی گڑیا بھاگی ہوئی آئی بتانے لگی ” انکل ہمارا خیمہ گر گیا ہے ” کافی دیر خیمے سے الجھتے رہے ، تادم آخر ہماری انتھک محنت سے بھی وہ خیمہ سلجھنے کو نہ آیا ، شام ڈھل گئی تھی ، وضو اور نماز کی تیاری میں مصروف ہو گئے ، خدمت والے احباب کو وہاں چھوڑ کر ہماری تبلیغی مرکز میں واپسی ہوئی ۔