
دنیا کے خدا — آپریشن کی میز پر زندگی کا فیصلہ /تحریر / ڈاکٹر زلیخا طفیل (گائنا کالوجسٹ)
دنیا کے خدا — آپریشن کی میز پر زندگی کا فیصلہ
تحریر: ڈاکٹر زلیخا طفیل (گائنا کالوجسٹ)
ہسپتال کی سفید روشنی اور آپریشن تھیٹر کا سناٹا ایک عجیب کیفیت پیدا کرتا ہے۔ مریضہ کے دل کی دھڑکن کے ساتھ مشینوں کی “بیپ بیپ” مل کر ماحول کو مزید بوجھل بنا دیتی ہے۔ وہ لمحہ جب ایک عورت کو آپریشن کی میز پر لٹایا جاتا ہے تو اس کے جسم کے ساتھ ساتھ اس کے خواب بھی بے اختیار ہو جاتے ہیں۔ یہاں چند سیکنڈ کے فیصلے اس کی زندگی کا رخ بدل دیتے ہیں۔ یہ فیصلے اکثر ڈاکٹر اور ہسپتال کی سہولت کے لیے لیے جاتے ہیں نہ کہ مریضہ کی حقیقی ضرورت کے مطابق۔ سی سیکشن یعنی آپریشن کے ذریعے بچے کی پیدائش کا رجحان آج کے دور میں تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ اصل مقصد تو یہ ہوتا ہے کہ ماں اور بچے کی جان بچائی جا سکے مگر حقیقت میں اکثر اوقات یہ عمل محض “خطرہ ہے” کہہ کر جلدی میں کر دیا جاتا ہے۔ میری اپنی آنکھوں کے سامنے ایک مریضہ کو، جو پہلی بار ماں بننے جا رہی تھی، صرف چند گھنٹوں میں آپریشن کے لیے مجبور کیا گیا جبکہ طبی اصول کے مطابق اسے مزید وقت دیا جا سکتا تھا۔
میں خود بطور گائنا کالوجسٹ اس بات کو بخوبی جانتی ہوں کہ ہر نارمل کیس کو آپریشن میں بدل دینا نہ صرف غیر اخلاقی ہے بلکہ عورت کے جسم اور نفسیات پر گہرا زخم چھوڑ دیتا ہے۔ جب ہم سرجیکل اوزار ہاتھ میں لیتے ہیں تو ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ یہ اوزار صرف ایک جسم پر استعمال نہیں ہو رہے بلکہ ایک پوری زندگی اور خاندان کو متاثر کر رہے ہیں۔ اگر یہ فیصلہ مریضہ کو پوری معلومات دیے بغیر کیا جائے تو یہ علاج نہیں بلکہ جبر ہے۔ مریضہ اکثر ڈری ہوئی حالت میں صرف اتنا سنتی ہے کہ “خطرہ ہے، ابھی فیصلہ کرنا ہوگا” اور دستخط کرنے پر مجبور ہو جاتی ہے۔ یہ رضامندی حقیقت میں ادھوری اور بے بنیاد ہوتی ہے۔
طبی اصول ہمیں دو بنیادی راستے دکھاتے ہیں: فائدہ پہنچانا اور نقصان سے بچانا۔ مگر جب آپریشن محض وقت بچانے یا ہسپتال کے دباؤ کی وجہ سے کیا جائے تو یہ دونوں اصول ٹوٹ جاتے ہیں۔ ایک نارمل ڈلیوری جو قدرتی اور جسم کے لیے کم نقصان دہ ہے، اسے محض انتظامی آسانی کے لیے سرجیکل اوزاروں کی جھلک میں قربان کر دینا کہاں کی دانائی ہے؟ غیر ضروری آپریشن کے نتیجے میں عورت نہ صرف فوری جسمانی تکالیف کا سامنا کرتی ہے بلکہ آنے والے برسوں میں بھی اس کے اثرات جھیلتی رہتی ہے۔ بار بار کے آپریشن سے اگلی حمل کی پیچیدگیاں بڑھ جاتی ہیں، جسم کمزور ہوتا ہے اور نفسیاتی دباؤ بھی بڑھتا ہے۔
یہی وہ لمحہ ہے جہاں معاشرتی پہلو بھی سامنے آتا ہے۔ ہمارے ہاں اکثر عورتیں صرف ایک اسپتال یا ایک ڈاکٹر پر انحصار کرتی ہیں۔ مریضہ یا اس کا خاندان یہ سمجھتا ہے کہ ایک بار ڈاکٹر منتخب کرنے کے بعد اب اور کوئی راستہ باقی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ رویہ مریضہ کو مزید کمزور کر دیتا ہے۔ میں اپنے مریضوں کو ہمیشہ یہ نصیحت کرتی ہوں کہ اسپتال جانے سے پہلے کسی تجربہ کار مڈوائف یا کسی دوسرے گائنا کالوجسٹ/اکسپیریئنڈ ڈاکٹر سے چیک اپ کروالیں تاکہ مختلف رائے معلوم ہو اور انتخاب کے امکانات واضح رہیں۔ یہ مشورہ اس لیے اہم ہے کہ جب آپ کے پاس ایک سے زائد پیشہ ورانہ رائے موجود ہوں تو آپ زیادہ پُر اعتماد انداز میں فیصلہ کر سکتی ہیں۔ تجربہ کار پروفیشنلز، چاہے وہ مڈوائف ہوں یا گائنا کالوجسٹ، نارمل ڈلیوری کے مرحلوں، ممکنہ پیچیدگیوں اور متبادل راستوں کے بارے میں قیمتی رہنمائی دے سکتے ہیں۔
بہت سی خواتین کو یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ سرکاری اسپتال جیسے جناح اسپتال یا سول اسپتال میں نارمل ڈلیوری کی سہولت بھی موجود ہے اور وہاں کا عملہ بھی اس حوالے سے خاصا تجربہ رکھتا ہے۔ میں نے اپنی پریکٹس میں کئی بار مریضوں کو یہ بتایا کہ اگر آپ کے منتخب کردہ اسپتال میں آپ کو زبردستی آپریشن پر مجبور کیا جا رہا ہے تو آپ کے پاس یہ حق موجود ہے کہ آپ کسی اور جگہ رجوع کریں۔ اگر ضرورت ہو تو دوسرے اسپتال کا انتخاب کر لیں۔ مثال کے طور پر، اگر آپ نے ایک پرائیویٹ اسپتال میں نام لکھوا رکھا ہے تو ساتھ ساتھ کسی سرکاری اسپتال میں بھی رجسٹریشن کروا لیں تاکہ آپ کے پاس متبادل راستہ موجود ہو۔ یہ بات اکثر عورتوں کو حوصلہ دیتی ہے کیونکہ وہ جان پاتی ہیں کہ ان کے فیصلے پر ان کا بھی اختیار ہے نہ کہ صرف ڈاکٹر یا اسپتال کا۔
یہ بات بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ نارمل ڈلیوری ایک قدرتی عمل ہے جسے جلدی یا مصنوعی طریقے سے بدلنے کی کوشش اکثر نقصان دہ ہوتی ہے۔ بعض اوقات لیبر طویل ہو جاتی ہے مگر یہ ہرگز غیر معمولی نہیں۔ ایسے موقع پر مریضہ کو وقت دینا، اس کی ہمت بڑھانا اور اسے صحیح ماحول فراہم کرنا سب سے زیادہ اہم ہے۔ یہی وہ پہلو ہے جو ایک اچھی مڈوائف یا ایک بااعتماد گائنا کالوجسٹ فراہم کر سکتی ہے، مگر اس کے لیے ضروری ہے کہ مریضہ نے پہلے سے مختلف ماہرین سے مشورہ کرکے اپنی ترجیحات طے کر رکھی ہوں تاکہ جب اسپتال میں فیصلہ درکار ہو تو وہ اپنی مرضی اور معلومات کی بنیاد پر انتخاب کرسکے۔
میری ذاتی رائے یہ ہے کہ مریضہ کو مکمل باخبر رضامندی دیے بغیر آپریشن کرنا ایک طرح کا استحصال ہے۔ جب تک مریضہ کو یہ نہ بتایا جائے کہ اس کے جسم پر استعمال ہونے والے سرجیکل اوزار کے کیا نقصانات ہیں، یہ آپریشن صرف ایک جبر کہلائے گا۔ ہم ڈاکٹرز پر لازم ہے کہ مریضہ کو ہر پہلو سے آگاہ کریں، ہر فائدہ اور نقصان بیان کریں، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ متبادل راستے بھی واضح کریں۔ اگر مریضہ کو بتایا جائے کہ “آپ کے کیس میں ابھی نارمل ڈلیوری ممکن ہے لیکن وقت زیادہ لگے گا” تو وہ زیادہ اعتماد کے ساتھ فیصلہ کر سکتی ہے۔ مگر جب صرف یہ کہا جائے کہ “ابھی خطرہ ہے، فوری آپریشن کرنا ہوگا” تو مریضہ خوفزدہ ہو کر دستخط کر دیتی ہے۔
میں نے اپنی پریکٹس میں یہ بھی دیکھا ہے کہ بہت سی خواتین محض اس لیے آپریشن کروا بیٹھتی ہیں کیونکہ ان کے خاندان والے یا شوہر جلدی میں ہوتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ آپریشن آسان راستہ ہے، مگر یہ سوچ لمحاتی ہے، اس کے اثرات لمبے عرصے تک قائم رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمیں سماجی سطح پر بھی بیداری پیدا کرنے کی ضرورت ہے تاکہ خاندان بھی سمجھ سکے کہ نارمل ڈلیوری کا انتظار کرنا اور اس پر اعتماد رکھنا زیادہ بہتر ہے۔
آخر میں یہ سوال ہمارے معاشرے کے ہر فرد کے لیے ہے کہ کیا ہم واقعی زندگی کو اس کے حقیقی رنگ میں جینے دیتے ہیں یا اسے مشینوں اور سرجیکل اوزاروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتے ہیں؟ غیر ضروری آپریشن کے نتیجے میں نہ صرف عورت بلکہ پورا خاندان متاثر ہوتا ہے۔ خوشی کا وہ لمحہ جو ایک نئے سفر کا آغاز ہونا چاہیے، وہ خوف اور درد کی یادوں میں بدل جاتا ہے۔ اس لیے یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ہم سوال اٹھائیں، خواتین کو ان کے حقوق بتائیں، ہسپتالوں کو جواب دہ بنائیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ خواتین کو یہ سکھائیں کہ وہ اپنی صحت کے فیصلے خود اعتماد کے ساتھ کریں۔
میرے نزدیک حل یہ ہے کہ خواتین کو پہلے دن سے یہ تعلیم دی جائے کہ نارمل ڈلیوری ہی پہلی ترجیح ہے۔ سی سیکشن صرف اس وقت ہونا چاہیے جب یہ واقعی ناگزیر ہو۔ مریضہ کو متبادل راستے بتائے جائیں، ہسپتالوں پر لازم ہو کہ وہ اپنے سی سیکشن ریٹس شفاف انداز میں ظاہر کریں اور مریضہ کو مکمل معلومات دی جائیں۔ اگر عورت کو انتخاب کا حق نہ دیا جائے تو یہ علاج نہیں بلکہ ظلم ہے۔
پیدائش کا لمحہ مقدس ہے، یہ صرف ایک بچہ پیدا ہونے کا نہیں بلکہ ایک عورت کے نئے سفر کی شروعات ہے۔ جب ہم اس لمحے کو خوف اور جبر میں بدل دیتے ہیں تو ہم صرف ایک عورت کی زندگی نہیں بدلتے بلکہ معاشرے کے مستقبل کو بھی کمزور کرتے ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم سب مل کر ان “دنیا کے خداؤں” کو جواب دہ بنائیں جو اپنی سہولت کے لیے زندگی اور موت کے فیصلے کرتے ہیں۔