0

عدم برداشت,,, بے سکونی اور انتشار کی جڑ /تحریر /ابوبکر دانش

*عدم برداشت,,, بے سکونی اور انتشار کی جڑ*

*(تحریر؛ ابوبکر دانش میروانی بلوچ، ممبر سوراب پریس کلب رجسٹرڈ)*

عدم برداشت، یعنی دوسروں کے نظریات، عقائد، اور طرزِ زندگی کو قبول نہ کرنا، ہمارے معاشرے میں ایک ایسی بیماری کی شکل اختیار کر چکا ہے جو اندر ہی اندر اسے کھوکھلا کر رہی ہے یہ صرف ایک انفرادی خامی نہیں بلکہ ایک اجتماعی ناسور ہے جو خاندانوں، معاشروں، اور قوموں کے امن و سکون کو ختم کر دیتا ہے۔ درحقیقت، اگر ہم اپنے گرد و پیش کا بغور جائزہ لیں تو یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ عدم برداشت ہی علاقہ میں بے سکونی کی بنیادی وجہ ہے۔
عدم برداشت کی بیماری صرف معاشرتی سطح تک محدود نہیں بلکہ اس نے سیاست کے میدان کو بھی اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ جب سیاسی جماعتیں اور ان کے رہنما اپنے مخالفین کے نظریات کو قبول کرنے کی بجائے انہیں اپنا دشمن سمجھنے لگتے ہیں، تو اس سے ملک میں سیاسی انتشار اور بدامنی پھیلتی ہے۔
جمہوریت کا حسن ہی اختلافِ رائے میں ہے۔ اگر سیاسی قائدین ایک دوسرے کی بات سننے اور اسے سمجھنے کی بجائے صرف اپنی رائے کو درست سمجھیں گے تو جمہوری عمل کمزور ہو جائے گا۔ سیاسی عدم برداشت کی وجہ سے بحث و مباحثہ کی جگہ ذاتی حملے اور الزام تراشی لے لیتے ہیں، جس سے عوام کا سیاست سے اعتماد اٹھ جاتا ہے۔
جب سیاسی مخالفین ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنے سے انکار کر دیتے ہیں تو اس کا اثر علاقہ کے ترقی پسند افراد پر بھی پڑتا ہے۔ اہم قومی معاملات پر اتفاق رائے قائم نہیں ہو پاتا، جس کی وجہ سے علاقہ ترقی کی راہ پر گامزن نہیں ہو پاتا اور سیاسی عدم استحکام کی فضا برقرار رہتی ہے۔
سیاسی عدم برداشت کی انتہا یہ ہے کہ مخالفین کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہ رویہ سیاسی نظام کو تباہ کر دیتا ہے اور معاشرے میں بے چینی اور بغاوت کو جنم دیتا ہے۔
قبائلی معاشروں میں رواداری اور بھائی چارہ ہی وہ بنیادی اصول ہیں جو امن و سکون کو قائم رکھتے ہیں۔ جہاں صدیوں پرانی قبائلی روایات اور اصولوں کا احترام کیا جاتا ہے، وہاں عدم برداشت کی گنجائش نہیں ہوتی۔
قبائلی معاشرے میں عدم برداشت کا ایک بڑا سبب قبائلی عصبیت ہے۔ اگر لوگ اپنے قبیلے یا خاندان کو دوسرے قبائل پر برتر سمجھیں گے تو یہ سوچ آپس میں جھگڑوں اور لڑائیوں کی وجہ بنے گی۔ لیکن جب ہر قبیلہ دوسرے کے وجود اور اس کی روایات کا احترام کرے گا تو بھائی چارے اور محبت کی فضا قائم ہوگی۔
قبائلی تنازعات کو حل کرنے کے لیے اکثر جرگہ یا پنچائت جیسے نظام استعمال کیے جاتے ہیں، جن کی بنیاد برداشت اور رواداری پر ہوتی ہے۔ یہ نظام فریقین کو ایک دوسرے کی بات سننے اور ایک پرامن حل پر پہنچنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ جب یہ رواداری ختم ہو جاتی ہے تو مسائل خون خرابے کی صورت اختیار کر لیتے ہیں قبائلی رواداری صرف جھگڑوں کے خاتمے تک محدود نہیں ہے، بلکہ یہ مشترکہ ترقی اور خوشحالی کی بھی ضمانت ہے۔ جب لوگ ایک دوسرے کے ساتھ مل کر رہتے ہیں تو وہ مل کر کام کرتے ہیں، ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں، اور اپنے علاقے کو آگے بڑھاتے ہیں۔ اس طرح، قبائلی رواداری نہ صرف بے سکونی کو ختم کرتی ہے بلکہ علاقائی ترقی کو بھی یقینی بناتی ہے۔
عدم برداشت کی جڑیں اکثر جہالت اور تنگ نظری میں پیوست ہوتی ہیں۔ جب انسان دوسرے لوگوں کو اور ان کے نقطہ نظر کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتا، تو اس کے اندر نفرت اور تعصب پیدا ہوتا ہے۔ یہ نفرت پھر مختلف صورتوں میں ظاہر ہوتی ہے، جیسے کہ لسانی، مذہبی، یا فرقہ وارانہ جھگڑے، جو بالآخر بڑے پیمانے پر فسادات اور بدامنی کا سبب بنتے ہیں۔ جب لوگ ایک دوسرے کے عقائد کا احترام نہیں کرتے، تو وہ امن کے ساتھ مل کر نہیں رہ سکتے۔ ہر کوئی اپنے آپ کو درست اور دوسروں کو غلط سمجھتا ہے، اور یہی سوچ سماج میں گہری خلیج پیدا کر دیتی ہے۔
اس کے علاوہ، معاشی اور سماجی ناانصافی بھی عدم برداشت کو فروغ دیتی ہے۔ جب ایک طبقہ خود کو دوسرے طبقے سے زیادہ برتر سمجھنے لگتا ہے اور ان کے حقوق کو تسلیم نہیں کرتا، تو یہ احساسِ محرومی ان لوگوں میں بے چینی اور بغاوت پیدا کرتا ہے جن کے حقوق غصب کیے جا رہے ہوتے ہیں۔ اس طرح کی صورتحال میں، معاشرتی ہم آہنگی قائم نہیں رہ سکتی اور ہر جگہ ایک کشیدگی کا ماحول بن جاتا ہے۔
عدم برداشت سے صرف معاشرتی بے سکونی ہی پیدا نہیں ہوتی، بلکہ یہ فرد کی ذہنی اور جذباتی صحت کو بھی نقصان پہنچاتی ہے۔ جو لوگ عدم برداشت کا شکار ہوتے ہیں، ان کے دل و دماغ میں ہمیشہ ایک بے چینی رہتی ہے۔ وہ خود کو دنیا سے الگ تھلگ محسوس کرتے ہیں اور خوشی و سکون سے محروم ہو جاتے ہیں۔ اس طرح، یہ بیماری صرف معاشرے کو ہی نہیں بلکہ ہر اس فرد کو بھی تباہ کرتی ہے جو اس میں مبتلا ہے۔
اس مسئلے کا حل صرف اور صرف برداشت اور رواداری کو فروغ دینے میں ہے۔ ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ہر انسان منفرد ہے اور ہر کسی کو اپنے عقائد اور نظریات رکھنے کا حق ہے۔ تعلیم اور شعور کے ذریعے ہم لوگوں کے ذہنوں سے تعصبات اور غلط فہمیوں کو دور کر سکتے ہیں۔ جب ہم مختلف ثقافتوں، مذاہب، اور لسانی گروہوں کے درمیان مکالمہ اور تفہیم کو فروغ دیں گے تو ہم ایک دوسرے کے قریب آئیں گے۔ ہمیں اپنے بچوں کو بچپن سے ہی ایک دوسرے کا احترام کرنا سکھانا چاہیے تاکہ وہ ایک ایسی نسل بن سکیں جو برداشت اور محبت پر یقین رکھتی ہو۔
آخر میں، یہ کہنا بالکل بجا ہو گا کہ جب تک ہم عدم برداشت کی جڑ کو کاٹ نہیں دیتے، ہم اپنے معاشرے میں حقیقی امن و سکون قائم نہیں کر سکتے۔ امن کا آغاز ہر فرد کے دل سے ہوتا ہے۔ جب ہم اپنے اندر دوسروں کے لیے احترام اور قبولیت پیدا کریں گے، تب ہی ہمارے معاشرے میں بے سکونی کا خاتمہ ہو گا اور خوشحالی اور ہم آہنگی کی فضا قائم ہو سکے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں