کرامت اور ہمارے رویے
حسن معاویہ جٹ
اللہ پاک اپنے نیک بندوں کے ہاتھ پر خاص چیز ظاہر فرماتا ہے جسے کرامت کہتے ہیں۔ کرامت ایسی چیز ہے جسے ولی اپنی چاہ سے حاصل نہیں کر پاتا یہ اللہ کی طرف سے خاص انعام ہوتا ہے۔ یہ عام انسان کی سوچ سے اوپر کی باتیں ہیں، کچھ لوگ کرامات کو بہت اوپر لے جاتے ہیں اور کچھ لوگ سرے سے مانتے ہی نہیں، دونوں ہی غلطی پر ہیں۔ کرامات کا ظہور ایک حقیقت ہے۔
اگر ہم بات کریں تو اہلسنت سے تعلق رکھنے والے دو مسالک کے لوگ تصوف کے ماننے والے ہیں۔ دونوں ہی اپنے پسندیدہ اکابر کی کرامات بیان کرکے مریدین کو گرماتے ہیں۔
پہلا اپنے پیروں فقیروں کی کرامات بیان کریں تو وہ دوسرے بھائیوں کو من گھڑت لگتی ہیں۔ دوسرے اپنے پِیروں فقیروں کی کرامات بتائیں تو پہلے والوں کو وہ قصے جھوٹ لگتے ہیں۔ جیسے انسان بدبو اور ترقی صرف اپنی برداشت کر سکتا ہے ایسے ہی قصے کہانیاں بھی فقط اپنے فرقے کی اچھی لگتی ہیں۔
یہاں ایک بات اہم ہے کہ سچی کرامات اور من گھڑت کرامات کا بخوبی علم ہو جاتا ہے۔ سننے والے میں اگر شخصیت پرستی نہ ہو تو اسے بھی حقیقت معلوم ہو جاتی ہے۔ جعلی اور دو نمبر پیروں کا تو دھندہ ہی خود ساختہ کرامات بیان کرنے سے عروج پر پہنچ جاتا ہے۔
جھوٹی اور من گھڑت کرامات سن سن کر باشعور انسان کا ہاضمہ بگڑ سکتا ہے اور عین ممکن ہے کہ وہ ایسی باتیں کرنے والوں سے الجھ بھی پڑے۔ جھوٹی کہانیاں سنانے والے حقیقی صوفیاء سے بھی لوگوں کو بیزار کر دیتے ہیں۔
بچپن میں ہمیں کسی بزرگ کا قصہ سنایا جاتا تھا:
“انہوں نے دائیں جانب سلام پھیرا تو دائیں طرف والے حافظ قرآن ہو گئے، بائیں جانب سلام پھیرا تو بائیں جانب والوں کو دیکھ کر قرآن اچھے سے پڑھنا آ گیا۔”
ہم سن کر واہ واہ کیا کرتے تھے۔
شعور کو پہنچ کر علماء سے تحقیق کی تو سمجھ میں آیا کہ ایسا ہونا ناممکن ہے۔ جس سے بھی اس بابت بات کی اس نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی نمازیں ادا فرمائی ہیں مگر کہیں ذکر نہیں ملتا کہ سلام پھیرنے سے دائیں جانب کے صحابہ حفاظ بن گئے یا بائیں جانب والے قرآن کو اچھے سے سمجھنے والے بن گئے۔
حضرت حسن بصری رحمہ اللّٰہ کا قول ہے: “اگر ایک بندہ ہوا میں اڑتا ہوا آئے مگر اس کا عمل شریعت کے مطابق نہ ہو تو میں اس کو کرامت نہیں مانتا۔”
ہمارے ہاں کبھی کبھار خلاف عادت کوئی بات کسی بےدین سے بھی ظاہر ہو جاتی ہے لیکن اسے ہم کرامت نہیں کہیں گے، ہو سکتا ہے یہ کسی اور عمل سے کیا جا رہا ہو۔ خلاف عادت بات کسی غیر مسلم سے بھی ظاہر ہو جاتی ہے لیکن عین ممکن ہے وہ جادو یا استدراج کے ذریعے کر رہا ہو۔
تین چیزیں ہمیں شریعت نے بتائی ہیں:
معجزہ:
یہ پیغمبر کے ہاتھوں ظاہر ہوتا ہے۔
کرامت:
ولی اللہ کے ہاتھوں ظاہر ہوتی ہے۔
استدراج:
کافر کے ہاتھوں ظاہر ہوتا ہے، شیطانی قوتیں ساتھ دیتی ہیں۔
اگر پیغمبر کو ابھی نبوت نہ ملی ہو اور ایسی چیز ظاہر ہو تو وہ ارہاص کہلاتی ہے۔ جیسے عیسی علیہ السلام کا ماں کی گود میں بولنا، اسماعیل علیہ السلام کے پاؤں کی ضرب لگنے سے زمزم کا چشمہ پھوٹ پڑنا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش پر کسری کے محل کا گرنا اور آتش کدہ کا بجھ جانا۔
پیروں فقیروں کی کرامات سنا کر سادہ لوح یا شخصیت پرستوں کو تو قابو میں کیا جا سکتا ہے لیکن باشعور و علم والے افراد ایسی باتوں سے مرعوب نہیں ہوا کرتے۔
کچھ جعلی پِیروں کی دکانداری صرف کرامتوں اور قصے کہانیوں کے سر پر سلامت ہے۔ کرامتیں ختم ہونے کی دیر ہے دھندے کو فل سٹاپ لگ جائے گا لیکن وہ بھی بڑے سیانے ہیں کہ نت نئی کرامتیں مارکیٹ میں لانچ کرتے رہتے ہیں۔ ان فراڈیوں کی بدولت حقیقی معنوں میں موجود صوفیاء پر بھی لوگ انگلیاں اٹھا دیتے ہیں۔
اپنا عقیدہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ و اہلبیت والا دین ہی اصل دین اسلام ہے۔ اس کے علاوہ اگر کچھ ہے تو صرف کھانے پینے اور نئے طرز کی دنیاداری کے مختلف طریقے ہیں۔
آخر میں بس اتنا ہی کہ
ولی ہونے کے لیے کرامت نہیں شریعت پر چلنا ضروری ہے.
رہے نام اللہ کا