پارٹنر شپ بزنس کا انجام/تحریر/اعجاز اللہ خان
بزنس کی دنیا میں قدم رکھنے والے زیادہ تر فریشرز جب پارٹنرشپ کرتے ہیں تو شروعات میں ہر چیز بڑی آسان اور خوشنما لگتی ہے۔
ہم بھائی ہیں
ہم مرتے دم تک ساتھ رہیں گے
ہم کیوں علیحدگی کی بات کریں؟
یہ وہ جملے ہیں جو شروعات میں اکثر سننے کو ملتے ہیں، اور انہی ایموشنز میں بہہ کر ایک بہت بڑی غلطی کر دی جاتی ہے:
پارٹنرشپ کے اختتام کے اصول طے ہی نہیں کیے جاتے۔
پھر چند سال بعد وہی دو “بھائی” ایک دوسرے پر بندوق تان کر کھڑے ہوتے ہیں اور کہانی وہی پرانی ہو جاتی ہے جو ہزاروں بزنسز کی بربادی کی وجہ بنتی ہے۔
سچ یہ ہے
ایموشنز اور بزنس دو الگ الگ چیزیں ہیں۔
محبت اپنی جگہ، لیکن بزنس اپنی جگہ۔
کوئی بھی بزنس شروع کرنا مشکل نہیں ہوتا، مشکل ہوتا ہے اسے سنبھالنا، اور اگر ابتدا میں ہی “اختتام اور علیحدگی کی صورتیں اور اصول لکھ دیے جائیں تو بہت سی تلخیاں پیدا ہونے سے پہلے ہی ختم ہو جاتی ہیں۔
متحد ہونا اچھی چیز ہے ، کئی صلاحیتوں کا مل کر کام کرنا کام کی اسپیڈ کو بڑھا دیتا ہے اور ہم نے سُنا ہے کہ اتفاق میں برکت بھی ہے لیکن جہاں اتفاق ہوتا ہے تو وہاں شیطان کا زور بھی زیادہ ہوتا ہے وساوس پیدا ہوتے ہیں ، شک کی صورت جنم لیتی ہے اور آہستہ آہستہ اچھا بھلا کاروبار یا تو دو ٹکڑے ہوجاتا ہے یا بلکل ختم ہوجاتا ہے…
پارٹنرشپ کا معاہدہ صرف ساتھ چلنے کے اصولوں پر نہیں بلکہ علیحدگی کے اصولوں پر بھی ہونا چاہیے۔
یہ مایوسی نہیں بلکہ پروفیشنل اپروچ ہے۔
اگر آغاز میں سب کچھ واضح ہوگا تو اختتام کبھی جنگ اور لڑائی کی صورت اختیار نہیں کرے گا۔
پارٹنر شپ بزنس کا انجام/تحریر/اعجاز اللہ خان