0

پچہتر روپے کا نوٹ /تحریر/فیصل آر

سوپچہتر روپے کا نوٹ/تحریر/ فیصل آر

کُچھ دن پہلے کسی دُکان سے خریداری کرتے پچہتر روپے کا نوٹ ہاتھ لگ گیا۔
میری عادت ہے کہ اکثر بقایا جات گنتی کیے بغیر ہی جیب میں رکھ لیتا ہوں تو اُسی دوران یہ نوٹ کسی نے لپیٹ کے نوٹوں کے درمیان رکھ کر مُجھے تھما دیا۔میں نے سُنا ہوا تھا کہ اسے زیادہ تر دُکاندار لینے سے انکا ر کرتے ہیں اس لیے دل اُداس سا ہو گیا۔ حالانکہ یہ سٹیٹ بینک سے ہی چھپ کر آتا ہے۔ بہرحال، دہی لینے گیا تو دہی والے نے لینے سے انکار کیا۔ ٹینشن تھوڑی بڑھنے لگی۔ سوچا ایک دو جگہوں پہ اور کوشش کرتا ہوں۔ مکئی والے کے پاس گیا، کوشش ناکام۔ایک کریانہ سٹور والے نے بھی لینے سے انکار لیا، میں نے کہا میرے پاس یہی ہے اور پیسے نہیں یہ سوچ کر کہ شاید اسی طرح چل جائے، لیکن وہ بولا آپ بعد میں دے دینا۔خیر گھر آ گیا۔ سوچا شام کو نکلوں گا دوبارہ ۔ ساتھ تھوڑی ریسرچ کی اور سٹیٹ بینک کے نوٹس کا پرنٹ نکال لیا۔ ایک بار ذہن میں یہ سوچ بھی آئی کہ کسی فقیر کو پندرہ بیس روپے میں بیچ دیتا ہوں۔ پھر سوچا ایک آخری کوشش سوڈے والے کے ساتھ کرتا ہوں۔چونکہ وہاں رش کافی ہوتا ہے اور سوڈے والے کو سر کھُجانے کی فرصت نہیں ہوتی، پکا یقین تھا یہ نوٹ وہاں نکل جائے گا۔ معمول کے مُطابق کافی رش تھا۔ دل خوش ہوا ، آگے بڑھ کر نوٹ پکڑایا۔ وہ اتنے رش کہ باوجودیکدم رُک گیا، نوٹ کو غور سے دیکھ کر بولا یہ نہیں چلتا۔ میں نے جھٹ سے سٹیٹ بینک کا نوٹس نکال کے دکھایا۔ غور سے جائزہ لینے کے بعد بوتل نکالی اور غصے سے میری طرف دیکھتے ہوئے ہاتھ میں دھکا دینے کے انداز میں پکڑائی گویا کسی فقیر کومُفت دے رہا ہو۔ میں نے فوری سائیڈ پہ ہو کے جلدی سے پی لی کہ کہیں بھائی صاحب کا ذہن نہ بدل جائے۔ یقین مانیں اپنا آپ کسی مُجرم سے کم نہیں لگ رہا تھا۔ لیکن اندر دور کہیں ایک اطمینان بھی تھا کہ چل گیا۔اب جب کبھی بھی سوڈا پینے جاتا ہوں تو وہ بوتل کھولنے سے پہلے پیسے مانگتا ہے اور تسلی کرکے ڈھکن کھولتا ہے۔
سٹیٹ بینک سے گُزارش ہے ایسے نوٹ جو مخصوص مواقع کے لئے چھاپنے ہوں مارکیٹ میں نکالا ہی نہ کریں تاکہ عام آدمی کو تنگی نہ ہو۔یا پھر اُسے مُسلسل چھاپتے رہیں کہ وہ عام ہو جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں