0

میرے محسن ومربی حضرت مولانا ڈاکٹر محمد الیاس فیصل دامت برکاتہم العالیہ / تحریر / افضل

میرے محسن ومربی حضرت مولانا ڈاکٹر محمد الیاس فیصل دامت برکاتہم العالیہ
سدرہ افضل

**استاد دستِ معصوم کو لوح و قلم دیتے ہیں،
نونہالوں کو قندیلِ حرم دیتے ہیں۔
روشنی بانٹتے پھرتے ہیں سورج کی طرح،
ڈوبتے ہیں تو ستاروں کو جنم دیتے ہیں۔**

یہ 2021 کی ایک عام سی شام تھی،
جب میری شاگردہ *بنتِ سرور* کا پیغام آیا:
“باجی! مرکز الفیصل اسلامک انسٹیٹیوٹ میں *تخصص فی الفقہ* کا آن لائن آغاز ہو رہا ہے،
آپ بھی شامل ہو جائیں۔”

*اندھے کیا چاہیے؟ دو آنکھیں!*
ہم تو پہلے ہی اس انتظار میں تھے کہ
جب موبائل لے ہی لیا ہے تو
اسے محض دنیا کے لیے نہیں،
بلکہ دین سیکھنے کے لیے بھی استعمال کیا جائے۔

چنانچہ میں نے بھی تخصص فی الفقہ میں داخلہ لے لیا۔
یہ میری زندگی کا پہلا باقاعدہ آن لائن کورس تھا۔

مرکز الفیصل میں مجھے جس شخصیت سے سب سے زیادہ موٹیویشن اور روحانی تحریک ملی،
وہ مرکز کے روح رواں، مخلص راہبر، بین الاقوامی شخصیت *حضرت مولانا ڈاکٹر محمد الیاس فیصل دامت برکاتہم العالیہ ہیں

حضرت جی دامت برکاتہم العالیہ جامعہ اشرفیہ لاہور کے فاضل،
اور حضرت مولانا شیخ عبد الحفیظ مکی رحمہ اللہ کے خلیفہ مجاز ہیں۔

فرقہ غامدیت کے خلاف آپ کی علمی محنت،
جاوید احمد غامدی اور الحاد کے رد میں آپ کی کاوشیں بے مثال اور لائقِ تحسین ہیں
آپ کئی اہم علمی و فقہی کتب کے مصنف ہیں۔
آپ کی پہلی تصنیف *”نمازِ پیمبر ﷺ”* ہے،
جو آپ نے صرف *23 سال کی عمر میں* تحریر کی۔
*الحمد للّٰہ!*
آپ کی دیگر تصنیفات میں سے:

1۔ *تاریخ مکہ مکرمہ*
2۔ *تاریخ مدینہ منورہ*
3۔ *تاریخ مسجد نبوی شریف*
4۔ *مسجد نبوی کے ارد گرد صحابہ کرامؓ کے مکانات*
5۔ *مسجد نبوی کے ارد گرد صحابیاتؓ کے مکانات*
6۔ *مدینہ منورہ کی تاریخی مساجد*
7۔ *فضائل مدینہ منورہ*

یہ تمام کتب آپ نے عربی زبان میں تحریر فرمائیں، جن کا بعد ازاں ترجمہ درج ذیل زبانوں میں ہوا:
*اردو، انگریزی، انڈونیشی، ترکی، فرانسیسی* وغیرہ۔

حضرت جی کا طرزِ عمل ہم نے ہمیشہ یہ دیکھا کہ آپ طالبات کو آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کرتے ہیں۔
کمزور سے کمزور طالبہ کو بھی شفقت و محبت کے ساتھ شاباش دیتے ہیں، اور ہر قسم کی علمی و تربیتی سرگرمی پر بھرپور حوصلہ افزائی فرماتے ہیں۔

تخصص فی الفقہ کی طالبات کو آپ نہ صرف نمازِ پیغمبر ﷺ کے اسباق سکھاتے ہیں بلکہ *خطابت کے سنہرے اصول* بھی عطا کرتے ہیں۔
آپ کا طرزِ عمل نہایت مثالی ہے۔

حضرت جی ایک خوبصورت شخصیت کے حامل ہونے کے ساتھ ساتھ، میرے *محسن* اور *مربی* بھی ہیں۔
۔
*عالمی یومِ اساتذہ* کے موقع پر،
جب دنیا بھر میں اساتذہ کی عظمت کو خراجِ عقیدت پیش کیا جا رہا ہے،
تو میں بھی چند الفاظ اپنے *محسن، استاد، اور حضرت جی* کے لیے پیش کرنا چاہتی ہوں۔

اللہ تعالیٰ نے حضرت جی کو بے شمار خوبیوں اور صفات سے نوازا ہے۔
آج بھی مجھے وہ دن یاد ہے جب میں نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر تین سے چار اشعار لکھ کر حضرت جی کی خدمت میں پیش کیے۔

ہمیں جاں و دل سے ہیں پیارے صحابہؓ*
ہمارے ہمارے ہمارے صحابہؓ

شہادت، شرافت منارے صحابہؓ
نبیؐ پر فدا ہیں یہ سارے صحابہؓ

جو کعبہ سے بُت کو اُتارے صحابہؓ
نبوت کے سمجھے اشارے صحابہؓ

بدر میں شجاعت دکھاتے صحابہؓ
اُحد میں شہادت بھی پاتے صحابہؓ

نبیؐ سے جو وعدہ کیا تھا وفا کا
وہ دیکھو، وہ وعدہ نبھاتے صحابہؓ

حضرت جی نے نہ صرف خوشی کا اظہار فرمایا، بلکہ بہت سی دعاؤں سے بھی نوازا۔

اور پھر چند دن بعد، جب ابھی صرف ایک آدھا کلام ہی مکمل موزون ہوا تھا،
حضرت جی نے مجھے “مرکز کی شاعرہ”کا لقب ملا
یہ لفظ میرے لیے صرف تعارف نہ تھے، بلکہ *اعتماد، عزت، اور حوصلہ افزائی کا سرمایہ* تھے۔

*الحمدللہ!*
حضرت جی سے جڑنا، مرکز الفیصل سے وابستگی، اور اس ادارے کی فاضلہ ہونا —
میں اسے اپنی خوش قسمتی، سمجھتی ہوں۔

اللہ تعالیٰ حضرت جی کا سایہ امتِ مسلمہ پر قائم و دائم رکھے۔
*حضرت جی کی شان میں*

*مربی و استاد، الیاس فیصل*
ہیں مرکز کی بنیاد، الیاس فیصل۔
زمانے کے اسلوب، جدت کے آگے
کھڑا بن کے فولاد، الیاس فیصل۔

محبت سے ہم کو پڑھایا جو تُو نے
رہے گا سبق یاد، الیاس فیصل۔

مِشن تیرا دنیا میں پھیلائے گی اب
یہ رُوحانی اولاد، الیاس فیصل۔

ترے اہل والے سلامت رہیں سب
رہے تُو بھی آباد، الیاس فیصل۔

تری ہی بدولت ہمیں یہ ملی ہے
حدیثوں کی اسناد، الیاس فیصل۔

تری محنتوں کے صلے میں ہی اک دن
مٹے گا یہ الحاد، الیاس فیصل۔

الٰہی! تُو مرکز کو رکھنا سلامت
یہ کرتی ہوں فریاد، الیاس فیصل۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں