روشنی/تحریر /محمد اعظم خان
انسان کی تاریخ روشنی کی تلاش کی کہانی ہے۔
ابتدائے آفرینش سے ہی انسان نے اندھیرے سے بچنے، گرمی حاصل کرنے اور راستہ دیکھنے کے لیے روشنی پیدا کرنے کی کوشش کی۔ کبھی پتھروں سے چنگاری نکالی، کبھی آگ کے شعلے کو اپنا ساتھی بنایا۔ وقت گزرتا گیا تو مشعلیں جلنے لگیں، پھر دیا اور چراغ آئے۔ اس کے بعد لالٹین اور موم بتیوں نے انسانی زندگی کو نئی سہولت دی۔ جب سائنس نے ترقی کی تو بجلی کے بلب نے راتوں کو دن میں بدل دیا۔
یہ تمام ارتقاء دراصل انسان کی فطری جستجو کی علامت ہے — اندھیرے کو مٹانے اور روشنی تک پہنچنے کی خواہش۔ لیکن یہ جستجو صرف مادی روشنی تک محدود نہیں رہی۔ انسان نے آسمانوں میں چمکتے سورج اور ستاروں کو دیکھا، پھر ان کے راز جاننے کی کوشش کی۔ اس سفر نے انسان کو سائنس، فکر اور بصیرت کے نئے دروازے دکھائے۔
سائنس کی دنیا میں روشنی کا سفر حیرت انگیز ہے۔
مسلم سائنس دان ابن الہیثم نے گیارہویں صدی میں تجربات کے ذریعے یہ ثابت کیا کہ روشنی آنکھ سے نہیں بلکہ اشیاء سے منعکس ہو کر آنکھ میں داخل ہوتی ہے۔ ان کی کتاب کتاب المناظر نے علم البصریات کی بنیاد رکھی اور یورپی سائنس دانوں کے لیے صدیوں تک رہنمائی کا ذریعہ بنی۔
بعد میں سر آئزک نیوٹن نے اپنے مشہور تجربے میں سفید روشنی کو شیشے کے پرزم سے گزارا اور یہ ثابت کیا کہ سفید روشنی دراصل مختلف رنگوں کے امتزاج سے بنتی ہے۔
پھر آئن سٹائن نے روشنی کو “فوٹون” یعنی ذرے کی صورت میں سمجھایا اور “فوٹو الیکٹرک ایفیکٹ” دریافت کیا — جس کی بنیاد پر آج کی لیزر ٹیکنالوجی، سولر انرجی، اور فائبر آپٹکس قائم ہیں۔
آج روشنی محض دیکھنے کا ذریعہ نہیں بلکہ زندگی کا نظام بن چکی ہے۔
فائبر آپٹکس کے ذریعے یہی روشنی اطلاعات کو لمحوں میں دنیا کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک پہنچاتی ہے۔ شمسی توانائی نے روشنی کو بجلی میں بدل کر توانائی کے بحران کا حل دیا۔ طب کے میدان میں لیزر روشنی آنکھوں کے علاج سے لے کر نازک آپریشن تک استعمال ہو رہی ہے۔
یوں کہا جا سکتا ہے کہ انسان نے جب روشنی کو سمجھا، تو گویا کائنات کے کئی راز کھل گئے۔
مگر سائنس کے تمام انکشافات کے باوجود، روشنی کا مفہوم صرف فزکس یا انرجی تک محدود نہیں۔ اس کی ایک گہری روحانی جہت بھی ہے — جسے قرآنِ مجید نے صدیوں پہلے واضح کر دیا تھا۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
> “اللّٰہُ نُورُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ”
(اللہ آسمانوں اور زمین کا نور ہے۔) — سورہ النور (24:35)
یہ نور محض سورج یا چاند کی روشنی نہیں، بلکہ وہ الٰہی ہدایت ہے جو دلوں کو منور کرتی ہے۔
اسلام میں روشنی ایمان، علم اور بصیرت کی علامت ہے۔
قرآن ہمیں یہ سمجھاتا ہے کہ اصل روشنی وہ ہے جو دل کے اندھیروں کو مٹا دے، جو انسان کو اس کے خالق، مقصد اور سچائی تک پہنچا دے۔
نبی کریم ﷺ کو “سِرَاجًا مُّنِیرًا” (روشن چراغ) کہا گیا — یعنی آپ ﷺ کی ذات وہ چراغ ہے جو انسانیت کو ہدایت کے نور سے منور کرتی ہے۔ آپ کی تعلیمات نے ظلمت زدہ معاشرے کو اخلاق، عدل اور علم کی روشنی سے جگمگا دیا۔
آپ ﷺ نے فرمایا:
> “بے شک، جسے اللہ نور عطا کرے، وہ کبھی اندھیروں میں نہیں بھٹکتا۔”
اسلامی مفکر امام غزالی نے فرمایا:
> “دل ایک آئینہ ہے، اگر اس پر غفلت اور گناہ کی گرد جم جائے تو نورِ الٰہی اس میں منعکس نہیں ہوتا۔”
یہی وہ فلسفہ ہے جو ہمیں بتاتا ہے کہ روحانی روشنی کے لیے دل کی صفائی ضروری ہے۔ جیسے سورج کی کرنیں صاف پانی میں چمکتی ہیں، ویسے ہی ایمان کا نور پاک دل میں اترتا ہے۔
قرآن میں بار بار روشنی کو ہدایت، ایمان اور نیکی کے مترادف قرار دیا گیا ہے:
> “یُخْرِجُہُمْ مِّنَ الظُّلُمَاتِ اِلَی النُّوْرِ”
(اللہ انہیں اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لاتا ہے۔)
یہ روشنی محض پانے کے لیے نہیں، بانٹنے کے لیے ہے۔
انسان کا حقیقی کمال یہ نہیں کہ وہ خود منور ہو جائے بلکہ یہ ہے کہ دوسروں کے لیے بھی روشنی کا ذریعہ بنے۔ جیسے سورج خود جلتا ہے مگر زمین کو زندگی دیتا ہے، ویسے ہی ایک مومن اپنی ذات کی قربانی سے دوسروں کے دلوں میں امید، خیر اور محبت کی شمع روشن کرتا ہے۔
رالف ایمرسن نے کہا تھا:
> “کبھی کسی کے لیے تمہاری موجودگی ہی روشنی بن جاتی ہے۔”
یہی بات قرآن کے پیغام سے بھی جھلکتی ہے کہ انسان کی سب سے بڑی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ دوسروں کے لیے آسانی، امید، اور خیر کا ذریعہ بنے — نہ کہ ان کے لیے اندھیرا۔ زندگی کا حسن اسی میں ہے کہ انسان خود ایک چراغ بنے۔
اپنے کردار، گفتار، اور عمل سے دوسروں کے دلوں کو منور کرے۔
ہماری مسکراہٹ کسی کے دن کی تاریکی کو کم کرے، ہمارا علم کسی کے لیے رہنمائی بنے، اور ہمارا وجود کسی کے لیے سکون کا سبب ہو۔ اور ہمیں ایسا انسان بنائے جو دوسروں کے لیے نور بنے، اندھیرا نہیں۔
جیسا کہ قرآن کہتا ہے: ترجمہ! اور جس کے لیے اللہ چاہے، اس کے لیے نور بنا دیتا ہے۔
روشنی/تحریر /محمد اعظم خان