
ٹانگوں سے معذور مگر زندگی سے بھرپور انسان کی داستان/انتخاب/حنظلہ حفیظ
میرا نام طاہر ایوب ہے. میرا تعلق کوٹ نجیب اللہ سے ہے. 1996 میں سولہ سال کی عمر میں میٹرک کے پیپر سے صرف آٹھ دن پہلے ٹانگوں سے لڑکھڑا کے چلنے لگا. مختلف ڈاکٹر سے چیک اپ کے بعد پتہ چلا کہ مجھے سپائنل کارڈ میں ٹیومر ہو گیا ہے. ڈاکٹر نے جلد آپریشن کا مشورہ دیا. آپریشن کے بعد لڑکھڑا کر چلنا بھی ختم ہو گیا. ڈاکٹر نے بتایا کے ایک ماہ بعد ریڈی ایشن لگوانے کے بعد چلنا شروع کر دیں گے. ریڈی ایشن کے ٹھیک تیرہ روز بعد میں چلنے لگا.
پانچ ماہ تک ٹھیک ٹھاک چلنے کے بعد میں ایک دو دفعہ اچانک سے گر گیا. جس کے بعد میں دوبارہ اپنے قدموں پر آج تک نہ چل سکا. ٹیومر تو ختم ہو گیا مگر میرا سپائنل کارڈ ڈسٹرب ہو گیا. ڈاکٹر نے کہا کہ اب اس کو مزید چھیڑنے سے مزید پیچیدگیاں بڑھ سکتی ہیں. لہذا اب کچھ نہیں ہو سکتا.
1996 سے 1999 تک میں علاج کے چکروں میں لگا رہا. مالی حالات اچھے نہ تھے. دوستوں نے، اساتذہ نے بہت مدد کی. بغیر میرے کہے میرے اخراجات پورے ہوتے رہے. والدین نے ہمیشہ محنت کی. بھائی بہنوں نے جانی مالی تعاون جاری رکھا.
میں ہر روز یہی امید لے کر سوتا تھا کہ میں اگلے روز اٹھ کر چلنے لگوں گا. آہستہ آہستہ میرے مالی حالات بہت پیچھے جانے لگے. مجھے احساس تھا کہ ہمیشہ کوئی میری ذمہ داری نہیں اٹھا سکتا مگر علاج کی دھن ٹھیک ہونے کی امید پر سر پر سوار تھی. کراچی سے ایک دوست نے کہا کہ میں آپ کا سفر کا اور چیک اپ کا سارا خرچہ کروں گا. آپ کراچی آئیں. میں کراچی چلا گیا. 1999 میں انکل سریا ہسپتال میں نیرو سرجن ڈاکٹر ایس اے صدیقی صاحب نے میرا چیک اپ کیا اور بہت شفقت سے مجھے سمجھانے لگے. میری اس وقت چھوٹی چھوٹی داڑھی تھی. وہ بولے چھوٹے سے قاری صاحب! دیکھیں آپ اس حالت میں بھی ہری پور سے کراچی آ گئے ہیں، یہ بہت بڑی بات ہے. میں آپ کا آپریشن کر دوں گا اور فیس بھی لوں گا. پینتیس ہزار روپے مگر گارنٹی نہیں کے آپ ٹھیک ہو جاؤ گے. میرا مشورہ ہے خود کو اسی حالت میں سیٹ کریں. اس وقت مجھے ان کے الفاظ کی سمجھ نہ آئی. مگر بات دل کو اچھی لگی میں واپس آ گیا.
میں نے ٹیلرنگ کا کام سیکھا ہوا تھا. ایک دن بیٹھے بیٹھے خیال آیا کہ کیوں نہ کام شروع کر دوں. وقت بھی اچھا گزرے گا اور جیب خرچ بھی نکلے گا. میں نے محلے میں رینٹ پر دکان لے لی. وہیل چیئر نہ تھی تو والد صاحب کاندھوں پر اٹھا کر لے جاتے اور واپس لاتے.
والد صاحب نے ایم پی اے صاحب کو کہہ کر ٹرائی سائیکل لے دی. میں 2000 سے 2001 تک ٹیلرنگ کی مگر کام کا مزہ نہ تھا. اسی اثنا میں اللہ نے ایک بزنس مین سے ملاقات کروا دی جو کے کینڈی بسکٹ کا بزنس کر رہا تھا. مجھے اس نے مشورہ دیا کہ کینڈیز بسکٹ ٹرائی سائیکل پر ڈسٹیبوٹ کیا کرو. مال بیچ کر مجھے پیسے دے دیا کرو. اپنا پرافٹ رکھ لیا کرو. میں یہ کاروبار 2003 تک بیچ بیچ میں کرتا رہا.
2003 میں والد صاحب اس دارفانی کو چھوڑ گئے تو زندگی یکسر بدل گئی. اب ہر روز مجھے محنت کرنی تھی. اللہ نے کرم کیا کے محنت کی لگن میرے دل میں ڈبل ہو گئی. اب میں اپنے گاؤں سے باہر نکل کر قرب و جوار کے گاؤں میں بھی جاتا. روزانہ ٹرائی سائیکل پر کئی کئی کلومیٹر سفر آنے جانے کا بن جاتا مگر جب ماں کو لا کر محنت کے سو یا اس سے کم پیسے دیتا تو ماں دعائیں دیتی. جب تک والد صاحب زندہ تھے جھولی اٹھا اٹھا کر دعائیں دیتے. اس طرح مجھے الحمدللہ تھکاوٹ نہ ہوتی.
اب دل چاہنے لگا کہ کام کو مزید بڑھاؤں تاکہ زیادہ پیسے کما سکوں. میں نے کینڈیز بسکٹ کے ساتھ چائے کی پتی اور کپڑوں کے چند جوڑے ساتھ رکھنا شروع کر دیے. کام بہت اچھے سے چلنے لگا. جیب خالی نہ رہتا محتاجگی نہ تھی. معاشرے میں عزت و احترام ملنے لگا. اب میں نے ساتھ سوچا کہ کوئی اور بھی کاروبار ہو. میں نے ڈیکوریٹیڈ بیڈ شیٹ کا سوچا مگر بیچنے کا مسئلہ تھا. اس کا حل میرے ذہن میں یہ آیا کہ ملک میں جہاں ممکن ہو، جدھر دوست ہیں، ان کے گھروں میں جا کر قیام کروں اور وہاں ان سے درخواست کرو کہ ارد گرد کی خواتین کو میری بیڈ شیٹ گھر بلا کر دکھاؤں. اس طرح میں نے رابطے کیے، اللہ رب العزت نے مدد کی اور میری بیڈ شیٹ فروخت ہونے لگیں جو میں راولپنڈی لاہور کراچی تک فروخت کیں.
میں عام پبلک ٹرانسپورٹ سے سفر کرتا. اکیلا بس میں اور میری وہیل چیئر ساتھ ہوتی اور جہاں دھکا لگانے یا اٹھانے بٹھانے کی ضرورت ہوتی تو عوام میں سے کسی سے بھی کہہ دیتا. بھلا ہو لوگ شوق سے خدمت کرتے. بس معذوری اور اپنے پاس پیسہ نہ ہونے کی وجہ سے مستقل مزاجی نہ ہو سکی.
ساتھ اب یہ دل میں خیال آیا کہ اگر سپیشل بائیک ہو تو آسانی ہو گی. دو ہزار سات میں اللہ نے مخیر حضرات کے تعاون سے مجھے بائیک بھی دے دیا. دو ہزار سات سے لے دو ہزار نو تک میں بائیک کو شوق میں فضول چلاتا رہا کہ ایک عرصہ کے بعد زمین پر دوڑنے کا موقع ملا تھا. مگر 2009 کے سٹارٹ میں ایک دن بائیک کے میٹر پر نظر پڑی تو سولہ ہزار کلومیٹر شوق میں چلا چکا تھا اور پاس جو جمع پونجی تھی وہ بھی کام نہ کرنے کی وجہ سے ختم ہونے کے قریب تھی.
مجھے انتہائی شرمندگی محسوس ہوئی کہ یہ میں نے یہ کیا کر دیا. بس دوسرے دن پھر دکان سے کپڑا اٹھایا اور بائیک پر گلی گلی آواز لگا کے بیچنا شروع کیا. مگر ایک دفعہ انسان لائن سے ہٹ جائے تو پھر مشکل ہوتی ہے کینڈیز بسکٹ کے گاہک بھی ختم اور کپڑا بیڈ شیٹ سب کے گاہک ختم.
میں سوچ میں پڑ گیا کہ اب کیا کروں. پھر ہم نے بائیک کا موبل آئل سیل کرنا شروع کیا. آہستہ آہستہ گاہک بنا لیے. طریقہ وہی تھا کہ جس سے مال لیتا تو بیچ کر اسے پیسے دے دیتا. ایک دن دل میں خیال آیا کوئی جاب مل جائے تو بہتر ہو گا. میں نے کوریئر کمپنی میں درخواست دی مجھے 2009 میں ہی ملازمت مل گئی. لیپرڈ کوریئر کمپنی میں. اب میں کورئیر کمپنی میں جاب بھی کرتا ساتھ موبل آئل بھی سیل کرتا. کئی معذور افراد کو دیکھتا جو اچھے دنوں کی امید کی راہ دیکھتے مگر کئی کو موقع ملتا نہیں، کئی کو موقع دیا ہی نہیں جاتا اور کئی کے پاس کوئی سہولت نہ ہوتی.
2011 میں ایک شام محلے سے ایک بزرگ آئے. کہنے لگے طاہر میرا بڑا بھائی چل نہیں سکتا، اگر وہیل چیئر ہو تو دیں. وہ گھر میں تنگ ہیں. میں نے کہا میرے پاس تو ایک ہی ہے جو کسی نے لے کر دی. میں کوشش کروں گا کہیں سے ملی تو دے دوں گا. اگلی صبح مسجد میں اعلان کی آواز سے میری آنکھ کھلی. وہی بزرگ فوت ہو گئے تھے.
مجھے شدید دکھ ہوا. میں نے اسی دن ارادہ کر لیا کہ چاہے جیسے بھی ممکن ہو تو میں معذور افراد کے لیئے وہیل چیئر ان کے گھروں تک باعزت طریقے سے پہنچاؤں گا. اللہ نے ایک معذور انسان سے اسلام آباد تبلیغی اجتماع میں ملاقات کروا دی. معذور افراد کے مسائل پر بات ہوئی بیچ میں میں نے اپنی خواہش کا اظہار کیا ماشاءاللہ وہ یہ کام پہلے ہی کر رہے تھے. مالی طور پر وہ مستحکم تھے. انہوں نے کہا آپ معذور افراد تلاش کرو، میں وہیل چیئر دوں گا. میں نے واپس آ کر ہری پور اور گرد و نواح سے معذور افراد تلاش کیے اور وہیل چیئرز ان کے گھروں تک پہنچائیں. لوگ جھولیاں اٹھا اٹھا کر دعائیں دیتے. اسی طرح ہری پور سے تعاون کرنے والے مل گئے اور میں اپنے علاقے میں کام کرتا رہا.
میں 2012 تک کوریئر کمپنی میں ملازمت کرتا رہا. کوریئر کی جاب بہت مشکل جاب ہے. نارمل انسان بھی تھک جاتا ہے جبکہ میں معذور تھا. روزانہ اتنا طویل سفر کرنا آسان نہ تھا. میں بہت تھک جاتا.
ایک دن خیال آیا اور خود سے ہی ہم کلام ہوا کہ طاہر چھوڑ دو، تھک گئے ہو. مگر ساتھ ہی ایک اندر سے آواز آئی کہ نہیں، اللہ اسی میں سے بہتری لائے گا اور اللہ نے اسی کوریئر کی جاب سے آسانی کی کے مجھے بغیر سفارش و رشوت کے گورنمنٹ جاب مل گئی اور میری زندگی بدل گئی.
پنڈی والے دوست 2015 میں دار فانی سے رخصت ہو گئے اور ساتھ ہی میری ماں جی بھی اسی برس رخصت ہو گئیں. تب میں بہت اکیلا ہو گیا. 2015 غم کا سال تھا.
2015 کی ہی بات ہے کہ ایک بندے نے خدمت خلق کے لیے مسجد میں پانی کا بور کروایا اور اس مسجد کے امام صاحب کی لاپرواہی سے بور ناکام ہو گیا. ڈیڑھ لاکھ روپے ضائع ہوا. میرا وہیل چیئر کا کام بھی رک گیا. میں بہت اکیلا تھا.
2017 میں میرا دوست اور محسن، میرا کلاس فیلو ڈاکٹر ندیم فوت ہو گیا. جس کا مجھے اللہ نے دنیا بہت بڑا سہارا دیا ہوا تھا. اب میں بہت اکیلا تھا. جاب اچھی تھی. سیلری بھی مناسب تھی. بہت اچھا گزارا تھا مگر زندگی میں تنہائی تھی. بہن بھائیوں کی شادی ہو گئی. والدین بھی رخصت ہو چکے تھے. ہر طرف تنہائی تھی بس.
دل میں خیال آیا کہ شادی کر لوں. مگر معذور انسان سے کون شادی کرے گا تو میں نے سوچ کر اپنے جیسے ہی جیون ساتھی کی تلاش شروع کی. اللہ نے جون 2018 میں بالکل میرے جیسے مسائل سے دوچار لڑکی سے ملاقات کروا دی. میں نے ان سے شادی کے لئے بات کی. انہوں نے کہا کہ گھر تو ہم بھی بسانا چاہتے ہیں مگر فیملی میں بات کر کے دیکھتے ہیں. میں خود اپنے گھر والوں کو لے کر ان کے گھر شادی کا پیغام لے کر چلا گیا. مہمان نوازی تو ہوئی مگر ان کے اپنے گھر میں ہی لڑائی شروع ہو گئی. بھائی نہ مانتے تھے جبکہ ماں باپ لڑکی کے مانتے. آخر ہماری دوسری ملاقات میں میں نے ان سے کہا ہمیں زندگی گزارنے کا موقع تو دیں. بہت مسائل اور کوشش سے منوا لیا. ہمارا نکاح بائیس ستمبر 2018 کو ہو گیا. لوگ یہی سوچ رہے تھے کہ بس یہ چند دن کا کھیل ہے. پھر یہ تنگ ہو جائیں گے. لیکن الحمدللہ ایسا کچھ نہیں ہوا بلکہ اس کے برعکس ہوا اور سات سال سے دکھ سکھ کے ساتھی بن کر محبت و اتفاق سے یک جان دو قالب ہو کر رہ رہے ہیں.
میری زوجہ انہی دنوں پاکستان سویٹ ہوم میں ملازمت پر لگی تھیں. اٹک سے ان کا تعلق تھا. میں نے جاب چھڑوا دی. الحمدللہ مجھے گورنمنٹ نے فلیٹ دیا ہوا ہے جس میں دونوں میاں بیوی رہ رہے ہیں. اپنا چھوٹا سا پلاٹ تھا جس کا کام شروع کروایا لیکن وسائل کی کمی کی وجہ سے ابھی تک مکمل نہیں ہو سکا.
2017 میں سوشل میڈیا پر سوشل ورک شروع کیا جس کی بدولت الحمدللہ رب العالمین پورے پاکستان آزاد کشمیر گلگت چلاس وزیرستان تک معذور افراد تک جتنا ممکن ہو سکا وہیل چیئر تقسم کی جو سلسلہ اب تک جاری ہے.
یہ جتنا لکھا، اتنا طویل ہو کر بھی بہت مختصر اور نامکمل ہے کیونکہ معذور افراد کی زندگی ہر لمحہ ہر دن ایک امتحان اور جہد مسلسل ہے. بہت سے دریا عبور کرنے پڑتے ہیں. بہت سے درد جھیلنے پڑتے ہیں بہت سی باتیں بیان نہیں کی جا سکتیں.
طاہر ایوب سوشل ورکر ہری پور کوٹ نجیب اللہ