Ameer Hamza 0

آخری عشرہ ، برکتوں کے لمحات کو غنیمت سمجھیں/تحریر/مولانا امیر حمزہ

رمضان المبارک کا آخری عشرہ روحانیت اور اصلاح نفس کے سفر کا نقطہ عروج ہے جہاں بندہ اپنے خالق کی رحمتوں کے حصار میں مکمل طور پر سما جاتا ہے۔ یہ وہ مبارک ایام ہیں جن کے بارے میں اہلِ علم کا اتفاق ہے کہ ان کی ہر گھڑی کائنات کے تمام زمانوں سے افضل ہے، کیونکہ یہی وہ وقت ہے جب زمین پر آسمانی برکتوں کا نزول اپنی انتہا کو چھوتا ہے۔ جب ماہِ مقدس کے آخری دس دن طلوع ہوتے ہیں تو مومن کے دل میں ایک عجیب سی تڑپ اور بے چینی پیدا ہوتی ہے ، ایک ایسی بے چینی جو اسے غفلت کی نیند سے بیدار کر کے مصلے پر لا کھڑا کرتی ہے۔ یہ عشرہ جہنم کی آگ سے آزادی کا پروانہ ہے اور ان تھک عبادتوں کے ذریعے رب کو منانے کا آخری موقع، جس کی فضیلت کا اعتراف خود قرآن و سنت نے جابجا کیا ہے۔
اس عشرے کی اصل روح نبی کریم ﷺ کے اس اسوہِ حسنہ میں پوشیدہ ہے جہاں آپ ﷺ ان راتوں میں کمر بستہ ہو جاتے، دنیاوی علائق سے قطع تعلق فرما کر اپنی راتوں کو سجدوں سے آباد کرتے اور اپنے گھر والوں کو بھی اس خیرِ کثیر میں شامل فرماتے۔ اسی سنتِ نبوی کی پیروی میں اعتکاف جیسی عظیم عبادت وجود میں آئی، جو درحقیقت دنیا سے کنارہ کشی اختیار کر کے خالق کے حضور سرِ نیاز جھکانے کا نام ہے۔
معتکف مسجد کے گوشے میں بیٹھ کر نہ صرف لیلۃ القدر کی تلاش کرتا ہے بلکہ اپنی روح کو ان تمام آلائشوں سے پاک کرتا ہے جو سال بھر اسے صراطِ مستقیم سے دور رکھتی ہیں۔ اسی خاموشی اور تنہائی میں وہ عظیم رات پوشیدہ ہے جسے لیلۃ القدر کہا گیا ایک ایسی رات جو ہزار مہینوں کی عبادت پر بھاری ہے اور جس میں کائنات کے اگلے ایک سال کے فیصلے لوحِ محفوظ سے فرشتوں کے سپرد کیے جاتے ہیں۔
انہی بابرکت ساعتوں میں صلاۃ التسبيح کا اہتمام گناہوں کے بوجھ سے لدے ہوئے وجود کے لیے ایک اکسیر کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ وہ نماز ہے جو انسان کے ماضی کے تمام گناہوں کو دھو ڈالتی ہے اور اسے ایک نئے روحانی جنم سے روشناس کرواتی ہے۔ جہاں ایک طرف یہ عشرہ انفرادی اصلاح اور گریہ و زاری کا ہے، وہیں یہ سماجی ہم آہنگی اور ایثار کا درس بھی دیتا ہے۔ صدقہ فطر کی ادائیگی دراصل اس بات کا اعلان ہے کہ ہماری عبادات اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتیں جب تک ہم اپنے مال میں اپنے غریب بھائیوں کا حق شامل نہ کر لیں۔ یہ صدقہ روزوں کی کوتاہیوں کا کفارہ بھی ہے اور مساکین کے چہروں پر مسکراہٹ لانے کا ذریعہ بھی، تاکہ عید کی خوشیاں کسی ایک طبقے تک محدود نہ رہیں۔ تلاوتِ قرآن، دعاؤں کے سحر انگیز سجدے اور استغفار کی خوشبو اس عشرے کو ایک ایسے گلستاں میں بدل دیتی ہے جہاں ہر طرف رب کی رضا کی مہک پھیلی ہوتی ہے۔
جہاں ہم اس مبارک مہینے میں اتنی نیکیاں کرتے ہیں وہاں ہمیں یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ نیکی کمانے سے زیادہ اہم اس نیکی کی حفاظت کرنا ہے، کیونکہ اصل محروم وہ نہیں جو کما نہ سکا، بلکہ وہ ہے جس نے محنت سے کمایا اور پھر اسے ضائع کر دیا۔ جس طرح وائرس کمپیوٹر کے ڈیٹا کو ختم کر دیتا ہے، بالکل اسی طرح کچھ مہلک گناہ انسان کے نیک اعمال کو “حبط” (برباد) کر دیتے ہیں
قرآن وحدیث میں بہت سے ایسے اعمال کا ذکر ہے جن سے نیکیاں ختم ہو جاتی ہیں ان برائیاں کی وجہ سے حسنات کو سیئات میں بدل دیا جاتا ہے
پہلی نافرمانی شرک کا عمل ہے یہ سب سے سنگین جرم ہے جو تمام سابقہ نیکیوں کو غارت کر دیتا ہے۔
اسی طرح بارگاہِ رسالت ﷺ میں انجانے میں معمولی سی بے ادبی بھی انسان کے اعمال کو اس کی بے خبری میں ملیا میٹ کر دیتی ہے۔ اللہ کے اتارے ہوئے قوانین کو ناپسند کرنا محنت سے کمائی گئی نیکیوں کو ضائع کرنے کا باعث بنتا ہے کسی کی مدد کر کے اسے جتانا یا اسے دکھ پہنچانا صدقے کے ثواب کو باطل کر دیتا ہے۔
اسی طرح حسد بھی نیکیوں کو ختم کر دیتا ہے یہ وہ باطنی آگ ہے جو نیکیوں کو یوں کھا جاتی ہے جیسے آگ خشک لکڑی کو جلا کر راکھ کر دیتی ہے۔
کامیابی صرف کثرتِ اعمال میں نہیں بلکہ اعمال کی سلامتی میں ہے۔ ہمیں چاہیے کہ نیکیوں کی فکر کے ساتھ ساتھ ان وائرس نما گناہوں سے بھی بچیں تاکہ ہماری زندگی بھر کی پونجی آخرت کے میزان میں کام آ سکے۔
رمضان المبارک کے الوداعی لمحات کی یہ سسکیاں ہمیں پکار پکار کر کہہ رہی ہیں کہ یہ فرصتِ عمل پھر شاید نصیب ہو نہ ہو۔ رمضان کا یہ آخری پڑاؤ ایک مسلمان کے لیے وہ میزان ہے جہاں وہ اپنے پورے سال کے تقویٰ کو تولتا ہے۔ یہ عشرہ ہمیں یہ سبق دے کر رخصت ہوتا ہے کہ بندگی محض ایک ماہ کا نام نہیں بلکہ یہ تو زندگی بھر کا سودا ہے۔ خوش نصیب ہے وہ جس نے ان طاق راتوں میں اپنے مقدر کا ستارہ چمکایا، اعتکاف کی خلوتوں میں رب کو پایا اور صدقہ و خیرات کے ذریعے انسانیت کا بھلا کیا۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ان قیمتی لمحات کو بازاروں کی گہما گہمی اور دنیاوی مشاغل میں ضائع کرنے کے بجائے اللہ کی بارگاہ میں آنسو بہا کر اپنی اور پوری امتِ مسلمہ کی بخشش کا سامان کریں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں ان راتوں کی حقیقی برکات سے مالا مال فرمائے اور ہماری عبادات کو شرفِ قبولیت عطا کرے۔ آمین۔

لکھو کے ساتھ لکھو
رمضان المبارک

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں