ستون کے بغیر ایک عمارت کھڑی نہیں ہوتی بھلا معاشرے کیسے کھڑے ہو سکتے ہیں؟
ستون کی مانند ہمارے معاشرے کی کچھ اقدار و روایات ہوا کرتی تھیں۔ہمارے بڑے صرف اولاد کے پیٹ کو روٹی سے بھر دینے ہی کو اپنا فرض نہیں سمجھتے تھے، بلکہ وہ اولاد کے دل اور نگاہ کو پاک رکھنے کی بھی بھرپور کوشش کرتے تھے۔۔ کہا کرتے تھے تماشا بنو نہ تماش بین۔۔۔ بچے بچیاں جب گھر سے نکلتے تھے تو باوقار لباس کے ساتھ٫ قلب و نگاہ کی حیا کے ساتھ ۔۔۔ وہ مضبوط کردار کے ساتھ معاشرے کی تعمیر اور اقدار کی منتقلی کے لیے اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لایا کرتے تھے۔ یوں کوئی انہیں اپنے غلط مقاصد کے لیے استعمال نہیں کر سکتا تھا۔۔
لیکن آہ ۔۔۔۔
سرمایہ دارانہ نظام نے جب پر پرزے نکالے تو پھر اسے ہر ملک میں ہر معاشرے میں اپنے پنجے گاڑنے تھے۔ اس نظام نے۔اربابِ اختیار کو اپنا ہم نوا بنایا۔سرمائے کی ہڈی کو اتنا بڑا کر کے انہیں دکھایا کہ وہ لالچی کتے کی طرح اس کے پیچھے پیچھے ہو لیے۔ ہماری خوبصورت روایات و اقدار اس سب کچھ کے آگے بہت بڑی رکاوٹ تھیں۔لہذا ان کا گلا گھونٹنے کے لیے اسی معاشرے میں سے باصلاحیت افراد کو خریدا گیا۔ وہ احمق اپنے ہی معاشرے کے ستونوں کو ڈھانے پہ آمادہ ہو گئے۔سب سے پہلے حیا کا جنازہ نکالنے کی ٹھانی گئی۔۔۔
وہ جو پاک دل و پاک نگاہ تھی سرمایہ دار نے اس کے گھر کو چن لیا۔۔۔۔۔۔۔ ایک دن اس کے قدم فلم اسٹوڈیو کی طرف اٹھ گئے۔آرٹ کی خدمت اس کا مقصدِ زندگی ٹھہرا۔۔ وہ اب آرٹسٹ تھی۔۔۔ دراصل تماشا تھی اور قوم تماش بین۔دن کی روشنی میں قوم کے لیے رقص کرتی تھی ،رات کے اندھیرے میں سرمایہ دار کے اشاروں پہ ناچتی تھی ۔منشیات فروشی اور حرام خوری کے سارے منصوبے بھی تو سرمایہ دار ہمیشہ رات کے وقت ہی ترتیب دیا کرتے ہیں۔۔۔۔
پھر یہ ہوا کہ وہ آرٹسٹ مر گئی۔اربابِ اختیار نے کہا آرٹسٹ مرتے نہیں زندہ رہتے ہیں۔
سو وہ آرٹسٹ آج زندہ ہے۔۔ کہیں تو ٹک ٹاکر کی شکل میں جو اپنے قیمتی وقت کو اوٹ پٹانگ حرکتوں میں گنوا رہے ہیں، محض فالورز کے چکر میں۔۔ کہیں اس بوڑھی رقاصہ کی شکل میں جو عورت نما مرد کو ساتھ لے کر نکاح جیسے مقدس رشتے کو متنازعہ بنانے چلی ہے ۔۔۔۔
آرٹسٹ کا فن جب عشقیہ گانوں، فلموں، ڈراموں کے ذریعے ہر خاص و عام کے کانوں میں رس گھولنے لگا تو ‘محبت’ کا ایسا نشہ روح میں سرایت کر گیا کہ مائیں اپنی ‘محبت’ کی خاطر اپنے ہی بچوں کو ذبح کرنے لگ گئیں ۔۔۔۔
اور ۔۔۔ یہ محترمہ بڑے اعتماد کے ساتھ پولیس والوں کے ہمراہ چلی آرہی ہیں۔ ۔وقار، تہذیب اور حیا کو وہ اپنی ذات سے دور کہیں دفن کر آئی ہیں ۔۔۔۔
یہ گیٹ اپ محترمہ کا اس لیے ہے کہ وہ آزاد ہیں بہت سارے ‘حقوق’ ان کو مل چکے ہیں اور زندگی کا وہ نظریہ کہ جیو جیسے چاہو ۔۔۔. ہر انسان کو جو پسند ہے وہ کرنے کا وہ حق رکھتا ہے٫۔۔۔۔ یہی تو اپنایا محترمہ نے۔۔۔
تو یہاں ایک سوال ہے۔۔
ڈرگ ڈیلر کے طور پہ کام کرنا کیا اس کا انسانی حق نہیں تھا؟بھئی اس کا دل چاہا تو اس نے اس کام میں ہاتھ ڈالا ۔ آج کیوں اسے حراست میں لیا گیا؟؟
منشیات فروشی کے دھندے کو اس نے پسند کیا تو آپ کون ہوتے ہیں اسے قانون کے کٹہرے میں لانے والے۔۔۔۔؟؟
ردائے حیا کو پرے پھینک کر بے باکی اور آزادی کے جس سفر پہ اس نے پہلا قدم رکھا، اسی سفر میں وہ اس دھندے میں ملوث ہوئی تو پھر اب اسے کیوں گرفتار کیا جا رہا ہے؟
ہم جانتے ہیں لبرل دوستوں کے پاس ہمارے سوالوں کا کوئی جواب نہیں ہے۔۔۔
اب ہر روز نئے انکشافات ہو رہے ہیں، جو کہ بڑے خوفناک ہیں اس کا نیٹ ورک بہت بڑا نیٹ ورک ہے ، کئی قومی اور بین الاقوامی شخصیات اس کے ساتھ ہیں۔یہ ڈرگ کوئین لاکھوں دلوں کی کوئین ہے۔۔۔۔
اعتراف کیجیے ناں کہ پنکی عرف انمول نے با اختیار ہونے کا حق ادا کر دیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہمارا روئے سخن اب سنجیدہ فکر عاقبت اندیش لوگوں کی جانب ہے۔۔۔
فیمینزم۔۔۔۔۔
آزادی نسواں ۔۔۔۔
صنفی مساوات۔۔۔۔
ایل جی بی ٹی کیو پلس۔۔۔۔
حالات بتا رہے ہیں ان نعروں کی کوکھ سے بے حیائی ہی جنم لیتی ہے۔۔۔۔
دنیا کے سب سے سچے انسان نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا “جب تمہارے اندر حیا نہ رہے تو جو چاہے کرو ۔۔۔”
سو بے حیائی کی کوکھ سے ظلم، سنگدلی بغاوت اور انسانیت دشمنی ہی جنم لیتی ہے۔۔یہ ناسور معاشرے کے ستونوں کو کھا جاتے ہیں گھن کی طرح۔۔۔
تو پھر آپ ہمت کیجئے۔ہمارے بڑے اولاد کی تربیت کو فرض اولین سمجھتے تھے ائیے ہم بھی ایک کام کریں روزانہ کی اپنی مصروفیات میں سے کچھ وقت نکالیے اور اپنے خاندان کے ساتھ قرآن اور تاریخ کا مطالعہ کیجئے۔۔۔۔
۔۔۔۔کم از کم سورۃ البقرہ اور سورۃ الاحزاب اور سورہ الحجرات سورہ النساء سورۃ النور پہ تحقیقی مطالعہ کیجئے۔
۔۔۔۔۔قرآن کا جتنا مطالعہ کیا ہے اس سے اخذ کردہ نکات کی بنیاد پر اپنے خاندان اور اپنے گھر کے نظام کو ترتیب دیجئے۔
۔۔۔۔۔۔، درج ذیل کتب کو اپنے گھر والوں کے ساتھ مل کر اجتماعی مطالعہ کیجئے۔
کتب یہ ہیں۔۔
1۔۔۔محسنِ انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم۔ از نعیم صدیقی
2… پردہ۔ از سید مودودی رحمت اللہ علیہ
3…. تنقیحات حضرت سید مودودی رحمت اللہ علیہ
4…. آدابِ زندگی از مولانا محمد یوسف اصلاحی
یاد رکھیے! صرف کڑھنا یا نفرت کرنا یا حقارت سے دیکھنا ٫ ناپسند کرنا ناگواری کا اظہار کرنا کافی نہیں ہے ۔
پکا ارادہ باندھ لیجئے اور کمر بستہ ہو جائیے معاشرے کی تعمیر نو کے لیے۔
بچا لیجیے معاشرے کو تباہی سےخدارا۔۔۔۔
فکر کیجیے ان ستونوں کی٫ خدانخواستہ یہ زمیں بوس ہوگئے تو ہمارے پاس خوفناک پچھتاوے کے سوا کچھ نہ ہوگا.
۔۔۔اگر ہے جذبہء تعمیر زندہ
تو پھر کس چیز کی ہم میں کمی ہے۔۔