Raheela Khan, Advocate 0

پوں پاں کی چیخوں و پکار/تحریر/راحیلہ خان ایڈووکیٹ

سارا دن “پوں پاں” کی چیخوں و پکار سننے کے بعد میں الگ صوبوں کی حمایت کرتی ہوں۔

کسی اور کے لیے صوبہ بنے یا نہ بنے مگر ان “پوں پاں” والوں کے لیے ضرور بننا چاہیے۔

دوسروں کو کیا نصیحت کروں جب اپنا ہی سپوت اس واردات میں ملوث ہو۔ جب اسے کہا کہ یہ اچھی بات نہیں ہے تو بولا: “بس مما! میں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ اب میں الگ رہوں گا۔” میرا آپ کے ساتھ اس کمرے کی چھت تلے گزارا نہیں ہوسکتا۔

اس بات پر میری پھٹی ہوئی آنکھیں دیکھ کر معصومانہ شکل بنا کر بولا: “میں تو آپ کی وجہ سے ہی بول رہا ہوں۔ سب ڈسٹرب نہ ہوں۔ دوسرا مشترکہ کمرہ اب چھوٹا ہے۔ میری الماری اور میرا بستر اب اس کمرے میں نہیں آ سکتے، تو مجھے الگ کمرہ الاٹ کیا جائے۔”

ابھی میں یہ ارشادات سن کر سنبھلی بھی نہیں تھی کہ مزید گویا ہوا: “کمرے کے ساتھ ساتھ میرا جیب خرچ مجھے ہی دیا کریں۔ میں خود اپنی شاپنگ کروں گا۔ اب آپ شاپنگ نہ کریں۔”

یعنی بیٹا صرف صوبہ ہی نہیں مانگ رہا بلکہ بجٹ میں حصہ بھی مانگ رہا ہے۔

ہائے! اس کی باتیں سن کر جی چاہا کہ اپنا دل چیر کر دکھاؤں کہ دیکھو کتنی مشکل سے گھر بنوایا تھا اور کتنی مشکل سے اس گھر کو مینج کرتی ہوں۔

مگر آج محتشم کی “پوں پاں” نے مجھے مجبور کر دیا ہے کہ اس کو مرغی کا ایک ڈربہ دے کر الگ کر دوں۔ خرچ کے نام پر ٹافی کے پیسے دوں اور جان چھڑاؤں۔

باقی خود کما کر “پوں پاں” کرو تاکہ تمہیں لگ پتا جائے۔ پھر دیکھتی ہوں کیسے “پوں پاں” کرنے کی طاقت آتی ہے۔

باقی بھائیو تے بہنو! ہم تو صبح سے “پوں پاں” کے درمیان پھنسے ہوئے ہیں۔ آپ کی طرف کیا حال ہے؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں