0

ایک نظر دور جدید کے مسلمان پر /تحریر/حرا نواز

ایک نظر دور جدید کے مسلمان پر/تحریر/حرا نواز

اگر ہم ایک نظر دور جدید کے مسلمان پر دوڑائیں تو وہ ہمیں سویا ہوا دکھائی دے گا ۔ آج ہمارے ہی بچے ، ہماری نئی نسل سو فیصد میں سے کم از کم ستر فیصد ٹک ٹاکر ، اداکار بننے کے خواہش مند نظر آتے ہیں اور اس سب کے زمہ دار بھی ہم خود ہیں ۔ بطورِ مسلمان ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنی نئی نسل کو اچھائی کا درس دیں ، خوف بھی تاریخ کو جانیں اور اس نئی نسل کو بھی آگاہ کریں ، مگر انٹرنیٹ کے اس جدید دور میں ہماری قوم فحاشی پھیلا رہی ہے ۔ ڈرامے ، گانے اور فلموں میں ایسے مشغول ہیں ( کہ ہمیں اس بات کی بھی فرصت نہیں کہ ہم یہ جان سکیں کہ ہم کون ہیں ؟ ہماری اصلیت کیا ہے اور ہمارا مقصد کیا ہے ؟ ) ان ڈراموں میں ساس بہو کہ آپسی جھگڑے ، دیور اور بھابھی کے تعلقات ، گرل فرینڈ بوائے فرینڈ وغیرہ دکھانا ایک رواج بن گیا ہے اور وہیں دوسری جانب مسلمانوں کا انڈین ڈراموں اور فلموں کی طرف مسلمانوں کے پیش کردہ ڈراموں کی نسبت زیادہ رجحان ہے شائد اس کی بڑی وجہ جھوٹ سے منع ، چوری جیسے فعل کو برا قرار دینا آور اختتام پہ سب کی جیت دکھانا ہے بظاہر تو کیا حقیقتاً یہ چیزیں درست ہیں اور ایک مسلمان کے اندر فطرتاً موجود ہیں ، یہاں ہر کوئی اچھائی کا مسیحا بننا چاہتا ہے اور یہ مواد مسلمان نسل کو متاثر کرتا ہے اور اسی کو ہندو مسلمانوں کے خلاف فلم انڈسٹریز کے ذریعے ہتھیار بنا رہے ہیں ۔ آج بچہ بچہ ان فلموں کے ہیروز کو جانتا ہے اور اس سے اس قدر متاثر دکھائی دیتا ہے کہ وہی بننے کا خواہشمند ہے مگر افسوس تو اس بات کا ہے کہ دور جدید کا مسلمان اپنی تاریخ کو بھلائے بیٹھا ہے آج محمد بن قاسم کو شائد چند ہی لوگ جانتے ہوں گے ۔ مسلمان قوم یہ بھلا بیٹھی ہے کہ کس طرح ہمارے آباؤ اجداد نے اس ملک کی آبیاری اپنے خون سے کی تھی ۔ کیا ہمارے آخری نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے زیادہ کوئی شخصیت متاثر کن ہو سکتی ہے ؟ ہر گز نہیں ۔ ہماری قوم کے بچوں کی لاعلمی کی سب سے بڑی وجہ تاریخ سے دوری ہے اور یہ ہمارا زوال ہے اور اس زوال کا سبب مسلمان خود ہیں ۔
میں یہاں کسی کو تنقید کا نشانہ نہیں بنا رہی وہ مسلمان سب سے پہلے میں خود ہوں پھر آپ ہیں بلکہ ہم سب اس کے زمہ دار ہیں ۔ چند برس قبل ہی دیکھا جائے تو بچے کہ رونے پہ اسے قرآن مجید کی کوئی سورت سنائی جاتی تھی اور وہیں دور جدید کو دیکھا جائے تو مائیں اپنے بچوں کو بہلانے کے لیے گانے اور کارٹون لگا کر موبائل تھما دیتی ہیں ۔
شائد اس کی ایک بڑی وجہ مغربی تعلیم کے زیرِ اثر ہونا ، مغربی تہذیب اپنانا بھی ہے ۔ *سر سید احمد خان* چاہتے تھے کہ مسلمان مغربی تعلیم حاصل کریں ان کا اپنا ایک نظریہ تھا اور وہ اس سوچ کے مطابق درست تھے مگر مسلمانوں کو خدشہ تھا کہ ہماری آئندہ نسلیں اپنے مذہب اسلام سے دور ہو جائیں گیں ۔ کیا ان کا خدشہ بجا نہ تھا؟ آج کے مسلمان نے تو اسلامی تعلیمات کو پس پشت ڈال دیا ہے اسی لیے بہت سی ناکامیاں مقدر بن گئیں ہیں ۔ اسلام نے بہت سی سے منع کیا۔ ایک مسلمان کو بطورِ مسلمان خود کو برائی سے روکنے کا حکم تھا مگر وہی مسلمان دھوکہ دہی ، جھوٹ ، فریب ، تشدد، قتل ، زنا غرض ہر قسم کی برائی لئے پھرتا ہے ۔ اسلام تو کسی بیٹے کو نہیں کہتا کہ ماں کی باتوں میں آ کر بیوی سے مار پیٹ کرے ، نہ ہی یہ حکم دیتا کہ بیوی کے کہنے پر ماں سے بد سلوکی کرے ۔ ہمارے مذہب نے تو دونوں کے حقوق متعین کئے ہوئے ہیں اور یہ کئ سو سال پہلے مقرر ہو چکا تھا ۔ بیوی کی جگہ ماں نہیں لے سکتی اور نہ ہی ماں کی جگہ بیوی تو پھر کیا ہو گیا ہے آج کے بیٹوں کو ؟ آج جہیز جیسی لعنت اتنے زوروں پہ ہے کہ غریب بیٹی کے پیدا ہونے سے ڈرتا ہے ۔ دور جدید اور قدیم دور میں فرق صرف اتنا ہے کہ دور جہالت میں بیٹیوں کو زندہ درگور کیا جاتا تھا مگر آج بیٹی کی پیدائش کا غم باپ کو کھا جاتا ہے ۔ کیا ہمارا ضمیر سو گیا ہے ؟
ہمیں جاگنا ہو گا اگر آج نہ جاگ سکے تو کبھی نہیں اٹھ سکیں گے ۔
آئیے اپنے اپنے حصے کا کام کریں یہاں ہر کوئی ہیرو ہے بس اپنے مقصد کو بھول بیٹھا ہے ۔ اپنا مقصد یاد کرو اور اٹھو کبھی نہ بیٹھنے کے لیے ۔۔۔۔۔

معزز قارئین آپ میں سے کسی کو بھی میری تحریر سے اختلاف ہو سکتا ہے کیونکہ ہر انسان اپنی الگ سوچ رکھتا ہے ۔
پڑھئیے اور سوچیئے ۔۔۔۔۔ کیا آپ کو بھی یہ سب ہمارے معاشرے میں نظر آ رہا ہے ؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں