0

رشتہ داری کا خیال کیجیے / تحریر / احمد شہباز

رشتہ داری کا خیال کیجیے / تحریر / احمد شہباز

🎯 *رشتہ داری کا خیال کیجیے…!!*
‍‍‌
رشتہ ناطہ کو جو اہمیت اسلام نے دی ہے، کسی اور مذہب نے نہیں دی۔ قرآن و حدیث میں رشتہ داری کے متعلق بہت تاکید آئی ہے، کہ تعلق جوڑنے کا حکم دیا گیا ہے اور توڑنے پر لعنت کی گئی ہے۔ لہذا سورۃ رعد/۲۱ میں نیک لوگوں کی صفت بیان کرتے ہوئے اللَّہ جَلّ شأنُہ فرماتے ہیں: *”* اور *جن رشتوں کو اللہ نے جوڑے رکھنے کا حکم دیا ہے، یہ لوگ انہیں جوڑے رکھتے ہیں،* اور اپنے پر ورگار سے ڈرتے ہیں، اور برے حساب سے خوف کھاتے ہیں۔ *“* اور اس کے بر خلاف رشتہ ناطہ توڑنے والوں سے متعلق سورۂ بقرۃ/۲۷ میں ارشاد باری ہے: *”* وہ جو اللہ سے کئے ہوئے عہد کو پختہ کرنے کے بعد بھی توڑ دیتے ہیں اور *جن رشتوں کو اللہ نے جوڑنے کا حکم دیا ہے انہیں کاٹ ڈالتے ہیں* اور زمین میں فساد مچاتے ہیں ایسے ہی لوگ بڑا نقصان اٹھانے والے ہیں۔ *“* اس آیت کے ذیل میں مفتی شفیع صاحب ؒ معارف القرآن میں لکھتے ہیں کہ: *”* جن تعلقات کو قائم رکھنے کا شریعت اسلام نے حکم دیا ہے ان کا قائم رکھنا ضروری ہے، اور قطع کرنا حرام ہے۔ *“* سورۂ رعد/۲۵ میں بھی یہی مضمون آیا ہے اور اس میں ہے: *”* ایسے لوگوں کے حصہ میں لعنت آتی ہے اور (آخرت میں) بُرا گھر۔ *“* نیز احادیث مبارکہ میں بھی رشتہ ناطہ جوڑے رکھنے کی تاکید آئی ہے اور اس پر انعام کا وعدہ کیا گیا ہے، اور رشتہ ناطہ توڑنے پر تنبیہ کی گئی ہے اور اس پر عذاب کی نوید سنائی گئی ہے، چناچہ ایک حدیث میں ہے کہ: *”* جو شخص اپنی روزی میں کشادگی چاہتا ہو یا عمر کی درازی چاہتا ہو تو اسے چاہیے کہ صلہ رحمی کرے۔ *“* (صحیح بخاری/۲۰۶۷) ایک حدیث میں ہے کہ: *”* قطع تعلق کرنے والا جنت میں داخل نہیں ہوگا۔ *“* (صحیح بخاری/۵۹۸۴)

قرآن و حدیث میں وارد ہونے والے یہ ارشادات اتنے واضح اور صاف ہیں کہ ان کی تشریح کی ضرورت نہیں، صاف صاف کہہ دیا گیا ہے کہ *قطع تعلق کرنے والا جنت میں نہیں جائے گا،* لیکن ہمارے معاشرہ میں ان ارشادات کو کتنی اہمیت دی جاتی ہے؟ وہ بالکل واضح ہے، معمولی باتوں پر سالہا سال کی قطع تعلقی عام ہے، کتنے برس بیت گئے؟ بھائی بھائی سے خفا ہے! بیٹا باپ سے ناراض ہے! بیٹی ماں سے روٹھی ہوئی ہے! شوہر بیوی سے، بیوی شوہر سے! اپنے سگوں کی خوشی و غمی پرائی ہو چکی ہے! خاندان کے خاندان آزُردہ ہیں! ہم کس طرف جا رہے ہیں؟ کیوں ہم مسلمان ہو کر بھی اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا نہیں؟ یا ہم نے یہ سمجھ لیا ہے کہ قرآن و سنت میں وارد ہونے والے ان ارشادات کو پس پشت ڈال کر ہم بخش دیے جائیں گے؟ تو یہ خیال دل و دماغ سے نکال دینا چاہیے؛ اس لیے کہ یہ معاملہ حقوق العباد کا ہے، حقوق اللہ کے سلسلے میں تو امید رکھنی چاہیے کہ شاید بخشش ہو جائے، لیکن حقوق العباد تو اللَّہ جَلّ شأنُہ تب ہی معاف کریں گے جب صاحبِ حق خود اپنا حق معاف کرے، اور رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی کرنا رشتہ داروں کے حقوق میں شامل ہے، ارشاد باری ہے: *”اور رشتہ دار کو اس کا حق دو۔ “* (سورۃ الإسراء/۲۶) اس آیت کے ذیل میں مفتی شفیع صاحب ؒ معارف القرآن میں لکھتے ہیں کہ: *”* اس آیت میں عام رشتہ داروں کے حقوق کا بیان ہے کہ ہر رشتہ کا حق ادا کیا جائے، جو کم سے کم ان کے ساتھ حسن معاشرت اور عمدہ سلوک ہے، اور اگر وہ حاجت مند ہوں تو ان کی مالی امداد بھی اپنی وسعت کے مطابق اس میں داخل ہے۔ *“* فضائل صدقات میں حضرت شیخ الحدیث ؒ نے ایک عجیب قصہ فقیہ ابواللیث ؒ سے نقل کیا ہے، وہ فرماتے ہیں کہ: *”* مکہ مکرمہ میں ایک امانت دار شخص خراسان کا رہنے والا تھا، ایک شخص اس کے پاس دس ہزار اشرفیاں امانت رکھوا کر کہیں سفر پر چلا گیا، جب سفر سے واپس ہوا تو اس خراسانی کا انتقال ہو چکا تھا، اس کے اہل و عیال سے اپنی امانت کا تذکرہ کیا تو انہوں نے لاعلمی کا اظہار کیا، اس کو بہت فکر ہوا کہ بہت بڑی رقم تھی۔ اس نے مکہ مکرمہ کے علماء سے پوچھا، تو انہوں نے کہا کہ: وہ آدمی تو بڑا نیک تھا، ہمارے خیال میں جنتی آدمی تھا۔ تو آدھی رات کو زمزم کے کنویں پر جا کر اس کو پکارنا اور اپنی امانت کا پوچھنا، اس نے تین دن تک ایسا کیا لیکن وہاں سے کوئی جواب نہ ملا۔ اس نے پھر جا کر ان علماء سے اس کا تذکرہ کیا، انہوں نے ”اِنّا لِلَّه“ پڑھی، اور کہا کہ: ہمیں تو یہ ڈر ہو گیا ہے کہ شاید وہ جنتی نہ ہو۔ تو فلاں جگہ جا، وہاں ایک وادی ہے جس میں ”برہوت“ نامی کنواں ہے، اس کنویں پر جاکر اس کو پکارو، اس نے ایسا ہی کیا، وہاں سے پہلی ہی آواز میں جواب آگیا کہ تیرا مال فلاں جگہ محفوظ رکھا ہوا ہے، چناچہ اس کو مال مل گیا۔ لیکن اس نے وہاں اس سے یہ پوچھا کہ تو تو اتنا نیک آدمی تھا (لہذا تیری آواز تو زمزم کے کنویں سے آنی چاہیے تھی؟) تو یہاں کیسے پہنچ گیا؟ کنویں سے آواز آئی کہ *خراسان میں میرے کچھ رشتہ دار تھے جن سے میں نے قطع تعلق کر رکھا تھا، اسی حالت میں میری موت آگئی، اس کی گرفت میں یہاں پکڑا ہوا ہوں* ۔ *“* کتنا خطرناک معاملہ ہے؟ جس شخص کے نیک ہونے کی گواہی علماء مکہ مکرمہ دیں، وہ کس درجہ نیک ہوگا؟ لیکن *قطع تعلقی لے ڈوبی!!*

(۱)…اگر کسی کا یہ عذر ہے کہ فلاں نے میرا حق کھایا ہے، یا زمین پر قبضہ جما لیا ہے، یا جائیداد کی تقسیم میں فریب سے کام لیا ہے، یا اس نوع کا کوئی اور مسئلہ پیش آیا ہے؛ اس لیے فلاں سے میرا قطع تعلق ہے، آنا جانا بند ہے۔ دیکھیے! اگر آپ ناحق ہیں تو پیچھے ہٹ جائیے اور حقدار کو اس کا حق دیجیے۔ ایک حدیث شریف میں آتا ہے کہ:’’جس شخص نے *ناحق بالشت برابر زمین پر قبضہ کیا* تو اللَّہ جَلّ شأنُہ اسے حکم دیں گے کہ ساتوں زمینوں تک اسے کھودے، پھر روزِ قیامت تک، حتی کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ ہو جانے تک، اسے اس کا طوق پہنا دیا جائے گا۔‘‘ (مشکوٰۃ المصابیح/۲۹۶۰) ایک اور حدیث میں ہے کہ: *”اللہ کی لعنت ہے اس پر جو ناحق والی بنتا ہے، جو زمین پر قبضہ کرتا ہے۔۔۔۔الخ۔ “* (سنن کبریٰ للبیہقی/۱۷۰۱۷) اور اگر آپ حق پر ہیں تو ایسی صورت میں سب سے اچھا، پاکیزہ اور نیک عمل تو یہ ہے کہ آپ اللَّہ جَلّ شأنُہ کی رضا کے لیے اس کو معاف کردیں؛ تاکہ اس بے چارہ کی آخرت خراب نہ ہو۔ اپنا حق چھوڑ دیجیے! یقین جانیے اگر آپ شیطان کی گردن پرقدم رکھ کر یہ کڑوا گھونٹ پی گئے تو آپ خدا کا قرب حاصل کر جائیں گے، اور خدا تعالی کے ہاں ان انعامات سے نوازے جائیں گے جنہیں نہ کسی آنکھ نے دیکھا ہے، نہ کسی کان نے سنا ہے، نہ ہی ان کا خیال کسی کے دل میں آسکتا ہے۔ اور جو تھوڑا بہت آپ کو بچ جائے گا اللَّہ جَلّ شأنُہ اس میں برکت عطا فرمائیں گے، وہ تھوڑی زمین آپ کی ساری ضروریات کے لیے کافی ہوجائے گی۔ لیکن اگر آپ نے اپنا حق پورا پورا وصول کرنے کے لیے کچھ ایسے اقدامات کیے جس سے آپ کو حق تو مل گیا، اور آپ کو پورا حق ہے کہ آپ یہ اقدامات کریں، لیکن اگر اس کے نتیجہ میں اپنے خونی رشتوں سے قطع تعلقی ہوگئی تو اس زمین میں کیسے برکت ہو گی؟ اس لیے کہ *قطع تعلقی تو بہت ہی ناپاک چیز ہے* ، اس کے ہوتے ہوئے برکت نہیں آسکتی۔ ہمیں تو اللَّہ جَلّ شأنُہ نے دنیا میں مال، ملک، جائیداد بنانے کے لیے نہیں بھیجا، بلکہ ہم نے تو اس دنیا سے اپنی آخرت بنانی ہے، وہاں کی کامیابی ہمیشہ کی کامیابی ہے، اور وہاں کی ناکامی ہمیشہ کی ناکامی ہے۔ اس لیے ہر فریق میں یہ جذبہ ہو کہ وہ دوسرے فریق کے لیے زمین چھوڑ دے، اور پیچھے ہٹ جائے۔ اگر آخرت سامنے ہو تو پھر ہر انسان کی وہی کیفیت ہوگی جو ان دو شخصوں کی تھی جن میں ایک خریدار تھا اور ایک بیچنے والا۔ قصہ کچھ یوں ہوا کہ ایک شخص نے دوسرے کو گھر بیچا، کچھ عرصہ بعد گھر میں کوئی کھدائی کی گئی تو زیر زمیں خزانہ نکل آیا، خریدار وہ خزانہ سابقہ مالک کے پاس لے گیا کہ میں نے آپ سے گھر خریدا تھا، یہ خزانہ نہیں، لہذا یہ آپ کا ہے۔ وہ کہنے لگا: گھر اور گھر میں جو کچھ ہے وہ سب میں نے آپ کو فروخت کردیا تھا، لہذا یہ آپ کا ہے۔ *ہر ایک دوسرے سے کہہ رہا ہے کہ: یہ آپ کا ہے* ، اور لینے کے لیے دونوں میں سے کوئی تیار نہیں، اللہ کا کرنا یہ ہوا کہ ایک کے پاس لڑکا تھا اور دوسرے کے پاس لڑکی تھی، علماء نے مشورہ دیا کہ دونوں کا بیاہ کردیا جائے اور یہ خزانہ مہر میں رکھ دیا جائے۔ فیا سبحان اللہ!! کیا ہمارے اندر بھی یہ جذبہ ہے کہ دوسرے کے لیے اپنا حق چھوڑ دیں؟ تاکہ کچھ آخرت کے لیے بھی تو سرمایہ ہو!

(۲)…اگر کوئی یہ عذر کرے کہ سامنے والا جوڑ رکھنا ہی نہیں چاہتا تو میں کیوں جوڑ رکھوں، لہذا اگر وہ قطع تعلقی چاہتا ہے تو بس میری طرف سے بھی قطع تعلقی ہے۔ یاد رکھیں! یہ عذر شریعت نے قبول نہیں کیا، ایک حدیث شریف میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”صلہ رحمی کرنے والا وہ نہیں ہے جو بدلہ چکائے، بلکہ *حقیقی صلہ رحمی کرنے والا وہ ہے جو رشتہ ناطہ توڑنے پر، بھی صلہ رحمی کرے* ۔ *“* اس حدیث کی شرح میں حضرت شیخ الحدیث ؒ لکھتے ہیں: *”* بالکل ظاہر اور بدیہی بات ہے، جب آپ ہر بات میں یہ دیکھ رہے ہیں کہ جیسا برتاؤ دوسرا کرے گا ویسا ہی میں بھی کروں گا تو آپ نے کیا صلہ رحمی کی؟ یہ بات تو ہر اجنبی کے ساتھ بھی ہوتی ہے کہ جب دوسرا شخص آپ پر احسان کرے گا تو آپ خود اس پر احسان کرنے پر مجبور ہیں۔ صلہ رحمی تو درحقیقت یہی ہے کہ اگر دوسرے کی طرف سے بے التفاتی، بے نیازی، قطع تعلق ہو تو تم اس کے جوڑنے کی فکر میں رہو، اس کو مت دیکھو کہ وہ کیا برتاؤ کرتا ہے؟ اس کو ہر وقت سوچو کہ میرے ذمہ کیا حق ہے، مجھے کیا کرنا چاہیے؟ دوسرے کے حقوق ادا کرتے رہو، ایسا نہ ہو کہ اس کا کوئی حق اپنے ذمہ رہ جائے اور جس کا قیامت میں اپنے سے مطالبہ ہو جائے۔ *“*

(۳)…اگر کسی کا یہ عذر ہے کہ فلاں رشتہ دار کے فلاں موقع پر فلاں عمل سے مجھے تکلیف پہنچی تھی، جس سے میری بے عزتی ہو گئی تھی، اس لیے میں اس سے ناراض ہوں، اس لیے ان کی خوشی و غمی میں آنا جانا بند ہے۔ تو ایسے شخص سے کہا جائے گا کہ: بھائی! ذرا غور کریں! جن کے ہم نام لیوا ہیں، کیا ان کا بھی یہ عمل رہا ہے؟ کتنا سخت واقعہ ہے کہ حضورﷺ کی زوجہ، حضرت ابوبکر ؓ کی صاحبزادی، سارے مسلمانوں کی ماں، امی عائشہ ؓ پر منافقوں نے کتنی سخت تہمت لگائی کہ اس سے بڑی کوئی تہمت ہو نہیں سکتی، حضرت ابوبکر ؓ کے بعض قریبی رشتہ دار بھی اس پروپیگنڈے کا شکار ہوگئے، جس کی وجہ سے حضرت نے ان رشتہ داروں کے ساتھ تعاون کرنا بند کردیا اور اس پر قسم بھی کھائی، لیکن قرآن کی یہ آیتیں نازل ہوئیں اور اس میں معافی اور درگزر کرنے کی ترغیب آئی کہ: *”* تم میں سے جو لوگ اہل خیر ہیں اور مالی وسعت رکھتے ہیں، وہ ایسی قسم نہ کھائیں کہ *وہ رشتہ داروں،* مسکینوں اور اللہ کے راستے میں ہجرت کرنے والوں کو کچھ نہیں دیں گے، اور *انہیں چاہیے کہ معافی اور درگزر سے کام لیں*۔ کیا تمہیں یہ پسند نہیں ہے کہ اللہ تمہاری خطائیں بخش دے؟ اور اللہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔”(سورۃ النور/۲۲) حضرت ابوبکر ؓ نے ان آیات کے نازل ہونے کے بعد نہ صرف اپنی بیٹی پر تہمت لگانے والوں کو معاف کردیا، بلکہ پہلے ان رشتہ داروں پر جتنا خرچ کرتے تھے اب اس میں اضافہ فرمادیا۔ اگر ہم ان اسلاف کے نام لیوا ہیں، تو کیا وجہ ہے کہ ان کے نقش قدم پر نہیں چل رہے؟ ہمارے ساتھ اگر ایسا واقعہ پیش آ جائے، اور کوئی ہم پر الزام لگائے، ہمارے گھر والوں پر اس طرح سخت تہمت لگائے جیسی منافقین نے امی عائشہ ؓ پر لگائی، اور پھر ہم قرآن پاک کی یہ آیات تلاوت کریں، اور اس رشتہ دار کو معاف کردیں، حاشا وکلا! عمر بھر ایسا نہیں ہوگا، بلکہ اس کی اولاد سے بھی دشمنی بندھ جائے گی، بلکہ جو دوسرے رشتہ دار اس سے تعلق رکھیں گے، ان کا بھی بائیکاٹ کردیں گے، اور جس کسی تقریب میں وہ شریک ہوں گے، مجال ہے کہ ہم اس میں شرکت کرلیں، کیوں؟ صرف اس لیے کہ یہ لوگ ایسے شخص کی تقریب میں یا دعوت میں شریک ہوگئے جس نے ہمیں گالی دے دی، ہماری آبرو گرادی، ہماری بہو بیٹی پر تہمت لگادی، بس اب اِن سے بھی ہمارا قطع تعلق ہے اور اُن سے بھی۔ تو اس سلسلے میں قرآن کی ترغیب یہ ہے کہ معاف کردینا چاہیے، اور حضرت ابوبکر ؓ کا عمل یہ ہے صرف معاف نہیں کرنا چاہیے بلکہ احسان بھی کرنا چاہیے۔

حضرت یوسف علی نبینا و علیہ السلام کے ساتھ ان کے بھائیوں نے کتنا بدتر سلوک کیا، اور انہیں کنویں میں ڈال آئے، جس کے بعد حضرت ؑ کو برسوں غلامی کاٹنی پڑی، حتی کہ جب حضرت عزیز مصر بنائے گئے، اور وہی بھائی جنہوں نے حضرت کو کنویں میں جھونکا تھا، قحط کی وجہ سے غلہ لینے کے لیے حضرت یوسف ؑ کے دربار میں آتے ہیں، تو حضرت سب کو معاف کردیتے ہیں، کیوں؟ *اس لیے کہ وہ اپنے تھے!!* خود حضرت اقدس ﷺ کے ساتھ مکہ والوں نے کیا کچھ نہیں کیا، آپ کی بیٹیوں کو طلاق انہوں نے دی، آپ کو طرح طرح کے طعنے دیے، حتی کے قتل تک کرنے کے منصوبے بنائے، کیا اتنا کچھ کرنے کے بعد مکہ والے کسی معافی کے مستحق تھے؟ لیکن فتح مکہ کے موقع پر حضرت اقدس نے عام معافی کا اعلان کردیا، *اس لیے کہ وہ آپ کے اپنے تھے* ! لہذا، اپنوں کی قدر کیجیے! اپنوں کو اپنا سمجھیے! رشتہ داری کاخیال کیجیے! مشرقی و مغربی اقدار میں فرق جانیے! مغرب میں رشتے ناطے کا تصور نہیں ہے، *اپنا پن، سگا پن، قربت، نبھاؤ، سلوک، تعلق داری* ، یہ سب مشرقی روایات ہیں، مغرب ان روایات سے محروم ہے، خوشی میں بھی اکیلا، اور غم میں بھی اکیلا، یہ اکیلا پن ہی ہے جس کی وجہ سے وہاں خود کشی کی شرح بڑھتی جا رہی ہے، ظاہر ہے جب کوئی تسلی دینے والا، دلاسہ دینے ولا، ہاتھ بٹانے والا نہ ہو تو یہ چیزیں عام ہوں گی۔ لہذا مشرقی روایات کی قدر کی جیے! اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے میں اپنا فائدہ جانیے!

ارے ہم تو اتنے گر چکے ہیں کہ ہماری قطع تعلقی کی بنیاد نہ قتل ہے، نہ ایذا رسانی ہے، نہ تہمت ہے، نہ اور کوئی بڑی وجہ، بلکہ ہم نے تو اس بات پر برسوں سے قطع تعلق کر رکھا ہے کہ شادی کی دعوت دینے کے لیے خود چل کر ہمارے گھر کیوں نہیں آئے؟ شادی کارڈ پر میرا نام کیوں مرقوم نہیں؟ فون پر دعوت کیوں دی؟ یہ مجھے کیوں نہیں بتایا کہ تم بیٹے یا بیٹی کی نسبت طے کر چکے ہو؟ فلاں کو تو برات اور ولیمہ دونوں پر بلایا اور مجھے صرف ولیمہ پر؟ خود سوچیے!! کیا ان باتوں کی وجہ سے قطع تعلقی ہونی چاہیے؟ ایک موقع پر آپ ﷺ نے حضرت عبدالرحمن بن عوف ؓ کے کپڑوں پر رنگ لگا دیکھا، آپ ﷺ نے فرمایا: کیا تم نے شادی کی ہے؟ تو کہنے لگے: جی، آپ ﷺ نے فرمایا: *”* ہو سکے تو ولیمہ میں بکری وغیرہ ذبح کر لو۔ *“*(صحیح بخاری/۲۰۴۸) لیکن یہ نہیں فرمایا کہ: ”جاؤ، آج سے قطع تعلقی ہے، تم نے نکاح کر لیا اور مجھے بتایا تک نہیں۔ *“* دیکھیے! یہ ہر گھر کا،ہر شخص کا انفرادی معاملہ ہے، اس میں کسی سے ناراض ہونے والی کوئی بات نہیں ہے۔ نوبت یہاں تک درآئی ہے کہ اب ہم ٹوہ میں رہنے لگے ہیں کہ بس قطع تعلقی کا کوئی موقع مل جائے۔ خدارا، قطع تعلقی سے بچیے! ایک حدیث شریف میں ہے کہ: *”* آپس میں بغض نہ رکھو، حسد نہ کرو، قطع تعلقی نہ کرو، بلکہ اللہ کے بندے آپس میں بھائی بھائی بن کر رہو اور کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ ایک بھائی کسی بھائی سے تین دن سے زیادہ سلام کلام چھوڑ دے۔ “(صحیح بخاری/۶۰۶۵)حضرت شیخ الحدیث ؒ نے فضائل صدقات میں اس نوع کا ایک اور واقعہ نقل کیا ہے، کہ حضرت عبد اللہ بن ابی اوفی ؓ فرماتے ہیں کہ: *”* ہم عرفہ کی شام حضور اقدسﷺ کی خدمت میں حلقہ کے طور پر چاروں طرف بیٹھے تھے۔ حضورﷺ نے فرمایا کہ: مجمع میں کوئی شخص قطع رحمی کرنے والا ہو تو وہ اُٹھ جائے، ہمارے پاس نہ بیٹھے۔ سارے مجمع میں سے صرف ایک صاحب اٹھے، جو دور بیٹھے ہوئے تھے، اور پھر تھوڑی دیر بعد واپس آکر بیٹھ گئے۔ حضورﷺ نے ان سے دریافت فرمایا کہ: میرے کہنے پر مجمع میں سے صرف تم اٹھے تھے اور پھر آکر بیٹھ گئے، یہ کیا بات ہے؟ انہوں نے عرض کیا کہ: حضور کا ارشاد سن کر میں اپنی خالی کے پاس گیا تھا، *اس نے مجھ سے قطع تعلق کر رکھا تھا،* میرے جانے پر اس نے کہا: کہ تو خلاف عادت کیسے آگیا؟ میں نے آپ کا ارشاد مبارک سنایا، *اس نے میرے لیے دعائے مغفرت کی، میں نے اس کے لیے دعائے مغفرت کی (اور آپس میں صلح کر کے واپس حاضر ہوگیا)*، حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا: تم نے بہت اچھا کیا، بیٹھ جاؤ۔ *اس قوم پر اللہ کی رحمت نازل نہیں ہوتی جس میں کوئی قطع رحمی کرنے والا ہو۔“* لہذا معاف کیجیے! درگزر کیجیے! صلح صفائی کر لیجیے! خوشگوار زندگی گزاریے! اگر آپ حق پر ہیں تب بھی معاف کیجیے! اپنا حق چھوڑ دیجیے، یقین کی جیے دنیا بھی اچھی گزرے گی اور آخرت میں تو مزے اسی کے ہیں جو اپنا حق چھوڑ دے اور دوسروں کے حقوق ادا کردے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں