طنز و مزاحہمارے مسائل اور ٹوٹکوں کی بھرمار
تحریر: حمیرا حیدر بحرین
شاید ہی کوئی ایسا فرد ہو جس کو کوئی مسئلہ لاحق ہو اور اس کو اس پاس دائیں بائیں یا سوشل میڈیا سے ٹوٹکے نہ ملے ہوں۔ بچپن سے ٹوٹکے پڑھنے کا بہت شوق تھا لگتا اس کا علم میرے سوشل میڈیا کو ہو گیا ہے کہ اب بس ٹوٹکے ہی دکھائے چلے جاتا ہے۔ پہلے ٹوٹکوں کا موضوع و مضمون اور ہوتا تھا اب اور ہو چکا ہے۔ کافی تحقیق کے بعد علم ہوا کہ یہ صرف میرے ساتھ ہی نہیں سب ہی کے ساتھ ہو رہا ہے۔ بھلے دنوں کی بات ہے اخبار جہاں یا خواتین میں ایک آدھ صفحے پر کچھ ٹوٹکے ہوتے تھے۔ کچھ خوبصورتی کو چار چاند کے اور کچھ گھریلو استعمال کی اشیاء کو دیرپا رکھنے کے۔ ٹی وی پر زیادہ معروف زبیدہ آپا کے ٹوٹکے تھے۔ اب تو آدھی سے زیادہ فیڈ آپ کو ٹوٹکے ہی دکھا رہی ہے۔ بلکہ ہر نیا اینکر یا مارننگ ایوننگ شو کا اینکر نیا ٹوٹکا کے کر آیا ہے یہاں تک کہ وہ اداکارائیں جو صرف گلیمر اور سٹائل کی دنیا کا حصہ ہیں وہ بھی اپنے آزمودہ ٹوٹکے بتا رہی ہوتی ہیں۔ ۔ زبیدہ آپا مرحومہ کے ٹوٹکے تو کسی قدر مفید تھے بھی مگر آج جن ٹوٹکوں سے واسطہ پڑ رہا ہے کسی کا واسطہ نہ پڑے خدا کرے۔رنگ گورا کیسے کریں، رنگ کو ٹین کیسے کریں؟ قد لمبا کرنے کا ٹوٹکا تو کہیں قد چھوٹا کرنے کا، وزن کم کرنے کا ٹوٹکا تو کہیں وزن بڑھانے کا ٹوٹکا ، بیماری سے بچنے کا ٹوٹکا تو کہیں بیماری رفع کرنے کا ٹوٹکا، کھانا بنانے کا ٹوٹکا تو بنائے گئے کھانے کو جلانے کے بعد دیگچے مانجھنے کا ٹوٹکا۔ عرض ٹوٹکوں کی بہار ، خزاں ، جھاڑا اور برسات ہے کہ جس کا لامتناہی سلسلہ ہے کہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔ یاد رہے کہ یہ ٹوٹکے ہمارے جیسے کم قوت ارادہ والے افراد پر زیادہ ثاوی ہوتے ہیں جس کی رو میں ہم بہہ کر اتنے انواع کے تیل ، معجون اور پھکیاں بنا چکے ہیں کہ اب تو ان کے اجزاء یاد بھی نہیں کہ کون سی پھکی میں کیا تھا اور کونسا تیل کا کرامت کے لئے ہے۔
یہاں کچھ اہم اور ضروری نوعیت کے ٹوٹکوں کا ذکر کرنا بےحد ضروری ہے۔
بال گرنے کے ٹوٹکے: یہ مسئلہ اب اتنا عام ہو چکا ہے کہ ہر چوتھا مرد سر پر چندیا اور ہر دوسری عورت چوہیا سی دم لئے گھوم رہی ہے(محاورتاً)۔ بالوں کے گرنے کی کئی وجوہات ہوتی ہیں جن میں خوراک میں کسی خاص جز کی کمی یا زیادتی، پانی کا بھاری یا ہلکا ہونا، موسمی حالات کے ساتھ ساتھ ذہنی حالات مطلب پریشانیاں یا بیماری وغیرہ ہو سکتی ہیں۔ مگر نہیں جناب ہمارے ٹوٹکاداں سب کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکتے ہیں ۔ تیل اور شیمپو بنانے والی کمپنیاں اس بات کا دائرہ اٹھاتے نظر آتے ہیں۔ گنجے حضرات کو بالوں کی امید ویسے ہی تھمائی جاتی ہے جیسے اندھے کو کھیر کی ہیئت سمجھائی جاتی ہے پھر اس میں ٹیرھ آنا تو لازمی ہے۔ بہرحال ہر روز ایک نیا ٹوٹکا سننے کو ملتا ہے۔ ویسے تو ٹوٹکا سیدھا ہو گا مگر اس میں ایک جز( ingredient) ایسا ضرور ہو گا جو گھر میں کیا آپ کے شہر میں بھی دستیاب نہیں ہو گا۔ یہ وہ کامیاب ترین پالیسی ہے جو ٹوٹکاداں اختیار کئے ہوئے ہیں تاکہ آپ ان پر اعتراض نہ کر سکیں ۔ اور آپ سوچیں کہ اس خاص جز کی وجہ سے یہ تیل/ شیمپو نہ بن سکا اس لئے بال گرنے کی رفتار میں اضافہ ہوا ہے۔ اسی سوچ کے ساتھ آپ ایک نئے ٹوٹکے کے لئے رواں دواں ہو جاتے ہیں۔ آپ کے اردگرد کے لوگ بھی آپ کو دل کھول کر ٹوٹکے بتاتے ہیں۔خدا جھوٹ نہ بلوائے تو میں نے اکثر گنجے لوگوں کو بال گرنے کے ٹوٹکے اور موٹے لوگوں کو وزن کم کرنے کے ٹوٹکے شوگر اور بلڈ پریشر کے مریضوں کو انہی امراض کے خاتمے کے ٹوٹکے دیتے سنا ہے۔
وزن کم کرنے کے ٹوٹکے: وزن اس وقت کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ اس حوالے سے آپ کو رنگ برنگے ٹوٹکے اور سلاد نظر آئیں گے۔ جو پھکیاں، قہوے یا سلاد ٹوٹکے داں بتاتے ہیں شاید وہ خود کبھی استعمال بھی نہیں کرتے۔سلاد کے حوالے سے تو میرا ذاتی ماننا ہے کہ اگر گھاس پھوس سے وزن کم ہوتا تو بھینس ہرنی جیسی تو ضرور ہوتی۔ ان پھکیوں کے کھانے کے بعد جو حالت ہوتی ہے وہ ان انفکوئنسر کے چہرے سے کہیں ظاہر نہیں ہوتی جو اس کو آزمودہ ہونے کا دعویٰ کرتی ہیں۔ ۔ میرا ذاتی تجربہ اور سالوں کی تحقیق کے اس نتیجے پر پہنچی ہوں کہ وزن ہی آپ کا سچا ساتھی ہے وہ آپ کو چھوڑ کر کہیں جانے کا سوچتا بھی نہیں۔ ویسے یہ بات آپ سب کے گوش گزار ضرور کرنا چاہوں گی کہ اگر آپ کا خیال ہے کہ موٹے انسان کو فکر نہیں یااسے معلوم نہیں کہ وہ موٹا ہے اور اگر آپ کو لگتا ہے کہ اسے اپنے موٹاپے کا احساس نہیں تو یہ آپ کی خام خیالی ہے آپ سے زیادہ اس کو اس بات کا احساس بھی ہے اور آپ سے کہیں زیادہ اس کو وزن کم کرنے کے ٹوٹکے معلوم ہیں ۔ اگر وزن کم کرنے کے ٹوٹکے واقعی کام کرتے ہر انسان ہی ماہ نور بلوچ ہوتا ۔ اس لئے باڈی شیمنگ نہ کیا کریں ۔ اور ویسے بھی وزن کا زیادہ ہونا کئی وجوہات ہو سکتی ہیں مثلاً بیماری، ذہنی پریشانیاں، حالات و واقعات،بچوں کی پیدائش، خاندانی جینز اور ادویات وغیرہ ۔
مختلف بیماریوں کے علاج سے زیادہ ان کو رفع کرنے کے ٹوٹکے آپ کو ہر دوسری ویڈیو / پوسٹ یا پڑوس سے مل جائیں گے۔ بلڈ پریشر کے لئے ایک ٹوٹکے سے واسطہ پڑا دعویٰ تھا کہ ایک ہی پھکی کم بلڈ پریشر زیادہ اور زیادہ بلڈ پریشر کم کر دے گی۔ یہی پھکی دائمی قبض، بواسیر اور بےاولادی کے لئے بھی اکسیر ہے۔ اس عظیم ٹوٹکے پر تو میڈیکل سائنس بھی انگشت بدنداں ہے۔
جب سے ہمیں جوڑوں کا درد ہوا ہے تو ہر دیوار ہر ویڈیو اور مارننگ ایوننگ شو میں جوڑوں کے درد کے ٹوٹکے ہی دکھائی دیتے ہیں۔ اس میں کافی کردار سوشل میڈیائی الگورتھم کا بھی ہے۔ کہا تو گیا ہے کہ جوڑوں کا درد جوڑے ہی جانیں مگر اس کے لئے ٹوٹکے تو ہر خاص و عام جانے۔ اس وقت مارکیٹ میں جوڑوں کے درد کے ٹوٹکے نمبر ون پر ہیں۔ اس ضمن میں ایسے ایسے معجون ، تیل اور کچی پکی پھکیاں رائج ہیں کہ الامان الحفیظ۔
رنگ گورا کرنے کے ٹوٹکے: یہ تو صدا بہار ہیں۔ کئی قسم کے پھل، سبزیاں، انڈے ، دہی دودھ وغیرہ کو چہرے پر لگانا حالانکہ وہی اجناس اگر خوراک کا حصہ ہوں تو کافی مفید ثابت ہو سکتے ہیں۔اس سلسلے میں مٹی کے ماسک کے ساتھ ساتھ کوئلے سونے چاندی اور ہیروں کے ماسک بھی وضع کئے جاتے ہیں۔ اگرچہ ان میں اصلی کچھ بھی نہیں مگر قیمتیں ان کی ایسی ہوتی کہ شاید واقعی ہی ان میں سونا چاندی ہیرے موجود ہوں۔ عرصہ ہوا ایک حکیم صاحب نے چہرے کے داغ دھبے دور کرنے کے لئے حسن یوسف نامی ایک بوٹی کا کہا تھا کافی تلاش کے بعد وہ بوٹی ملی تو سخت مایوسی ہوئی۔ بہرحال چہرے کی رنگت کو نکھارنے کی کوشش خواتین میں تو تھی ہے اب تو حضرات بھی اس کے رسیا نظر آتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ مختلف کمپنیوں نے بھی آدمیوں اور عورتوں کے لئے الگ الگ کریمیں وضع کر رکھی ہیں۔ دلچسپ بات یہ کہ یہ کریمیں،لوشن ، واش وغیرہ خوب بک بھی رہے ہیں۔
نومولود اور بچوں پر ٹوٹکے: ماؤں کے سب سے پسندیدہ ٹوٹکے میں بچوں کا سر بٹھانے اور ناک کو تلوار کی طرح تیکھی کرنے کے ٹوٹکہ ہیں۔ کہیں کوئی بچہ پیدا ہو جائے تو رشتہ دار خواتین اور اب تو حضرات بھی رنگ برنگے ٹوٹکے دیتے نظر آتے ہیں۔ ویسے تو رشتہ دار صرف ٹوٹکے ہی نہیں ٹونے میں بھی کافی ماسٹر ہوتے ہیں۔ نومولود پر جس قدر ٹوٹکے آزمائے جاتے ہیں ان کا کوئی حساب ہی نہیں ہے۔
والد صاحب اکثر ایک قصہ سنایا کرتے تھے کہ ایک شخص بیمار پڑ گیا جو بھی اس کی تیمار داری کو آتا کوئی کڑوا کسیلا ٹوٹکا بتانا اپنا عیادت کا فرض سمجھتا۔ ایسے میں کمرے کے باہر ایک صاحب آہستہ سے کہنے لگے اگر ان کو دیسی گھی میں پکا سوجھی کا گرم گرم حلوہ کھایا جائے تو یہ بالکل بھلے چنگے ہو جائیں گے۔ مریض صاحب ایسے ہی کسی ٹوٹکے کی خواہش مند تھے اہل خانہ کو آواز دی کہ ذرا ان صاحب کا بھی ٹوٹکہ سنیں امید ہے کہ میں اس سے بہتر ہو جاؤں۔
ٹوٹکے تو ابھی بھی بہت ہیں مگر آپ سب سے عرض ہے کہ کوئی بھی ٹوٹکہ اپنانے سے پہلے اپنی صحت اور حالات کا ضرور دھیان رکھیں۔ جیسے ہر چمکتی چیز سونا نہیں ہوتی اسی طرح ہر ٹوٹکہ آپ کے لئے موزوں نہیں ہوتا۔