ٹانگوں، گھٹنوں اور پاؤں کا میل جول/تحریر/محمد کوکب جمیل ہاشمی
جب کمر کی تکلیف کا کوئی مریض کرسی پر ذیادۃ دیر بیٹھ کر تھک جاتا ہے تو وہ کھڑا ہو کر انگڑائی لیتا ہے اور تیز تیز قدموں سے ٹہلنا شروع کردیتا ہے۔ ویسے کرسی ایسی چیز ہے۔ اس پر جو بیٹھ جاۓ، اٹھتا نہیں۔ نیچے اتر جاۓ تو دوبارہ اس پر بیٹھنے کی تگ و دو کرتا رہتا ہے چاہے اس کے لئے بھاگ دوڑ کرتے کرتے ٹانگیں شل ہو کر ٹوٹ نہ جائیں۔ اپنے معمولات کے دوران انسان جسمانی طور پرجلد کمزور ہوجاتا ہے۔ کوئی چلتے چلتے تھک جاتا ہے تو وہ رک رک کر ٹھہر ٹھہر کر چلنا شروع کر دیتا ہے۔ اگر سر راہ چلتے چلتے یونہی کوئی مل جأۓ اور مزاج پوچھ بیٹھے تو بلا تکان اپنی تھکن کا حال سنانے لگ جاتا ہے۔ انسان کو کوئی ایک ہمدرد دوست یا دوچار یاران دیرینہ مل جائیں تو ان سے اپنی نا طاقتی کا حال زار بیان کرنے سے اسے تھوڑا سا سکون مل جاتا ہے۔ پھر وہ گھر پہنچنے کی خاطر اپنے منوا کو آہستہ اہستہ چلنے پر آمادہ کرتا ہے۔ سفر طویل ہو جأۓ تو وہ تھک ہآر کر یوں محسوس کرنے لگتا ہے گویا وہ برہنہ پا تھر پارکر سے گزر رہا ہو۔ تھکن ذرا زیادہ ہو جاۓ تو دو گام چل کے اس کی ٹانگیں کانپنا شروع ہو جاتی ہیں ۔ وہ اگر آدم بیزار ہو تو ” چل چلیۓ دنیا دے اس نکر ے جتھے بندہ نہ بندے دی ذات ہووے” کا نغمہ سناتے ہوۓ کسی درخت کے نیچے آرام سے لیٹ کر آرام کرنے لگتا ہے۔ اس کا جی چاہتا ہے کہ کوئی آۓ اور اس کی ٹانگیں دبآۓ۔ پھر بھی آرام نہ آۓ تو درد کش دوا کے سہارے خود کو آرام پہنچاۓ۔ عام انسان اس کیفیت سے نہیں گزرتا ، البتہ سٹھیاۓ یعنی ساٹھ یا اس سے اوپر والے لوگوں کا حال یہی ہوتا ہے۔ ہمیں اپنے بوڑھے پن پر ترس آتا ہے لیکن ہمت اور حوصلہ ہو تو ہم ایسے ضعیف لوگوں کی لاتوں کے بھوت باتوں سے ڈھیر ہو جاتے ہیں۔ ٹانگیں کا ایک فعل یہ ہے کہ زبان کی طرح چلنے کے کام آتی ہیں۔ زبان، زبانی جمع خرچ سے جیتتی ہے اور ٹانگیں چال چلنے سے فتح یاب ہوتی ہیں۔ اللہ سب کی ٹانگوں کو سلامت رکھے، مگر کسی مجرم کا جرم ثابت ہو جائے تو عدالت حکلم دے دیتی ہے کہ اسے ٹانگ دو۔ جن لڑکوں کے رشتے کی بات چل رہی ہوتی ہے تو ٹانگیں ان کے چال چلن کو جانچنے کے کام آتی ہیں۔ اور جب پتا چل جاۓ کہ امیدوار کی چال اچھی ہے تو آۓ ہوۓ مہمان مارے خوشی کے بغیر مونہہ میٹھا کئے کہنے لگتے ہیں کہ ہمارا کام ہو گیا ہے، “اچھا تو ہم چلتے ہیں”۔
تیز تیز چلنے یا بھاگ دوڑ کرنے کا انحصار اس بات پہ ہوتا ہے اس کی ٹانگوں میں کتنا دم خم ہے۔ انسان اپنی مضبوط ٹانگوں سے اپنے کام کرے یا نہ کرے، اس کی مرضی ہے۔ مگر اسے چاہئیے کہ وہ دوسروں کے کام دوڑ دوڑ کر ضرور کرے۔ اس طرح ٹانگوں کی اچھی خاصی ورزش ہو جاتی ہے، اور اسے ٹانگوں (تانگوں) میں سفر کرنے سے نجات مل جاتی ہے۔ مضبوط ٹانگیں رکھنے والے شکر گزار لوگ بھی اس کے پاس دوڑے چلے آتے ہیں۔ اللہ سب کی ٹانگوں کو سلامت رکھے، یہ دو ہاتھوں کی طرح بڑے کام کی چیز ہوتی ہیں۔ یہ بد ن کی عمارت میں دو ستون کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ہمیں ان کی قدر کرنی چاہئیے۔ لہذا ہمیں بلا وجہ کسی کے معاملے میں ٹانگ نہیں اڑانی چاہئیے۔ ٹانگیں ہمارے جسم میں اجزأۓ لا ینفک کی حیثیت رکھتی ہیں اگر یہ جسم سے جدا ہو جا نے کی صلاحیت رکھا کرتیں تو لوگ آرام دینے کے لئے ہم رات کو سوتے وقت ٹانگوں کو کھونٹی پہ ٹانگ دیا کرتے مگر اس بات کا دھڑکا لگا رہتا کہ کہیں کوئی انہیں چرا کر نہ لے جاۓ۔ چلئے اچھا ہوا ہم انہیں ٹانگنے کو بھول گئے۔
اکثر لوگ بالخصوص وہ نوجوان، جن کے پاس ڈرائیونگ لائسنس نہیں ہوتے، ان کے ٹریفک کےحادثات میں ٹانگیں ٹوٹنے کے واقعات ذیادہ ہوتے ہیں ۔ حادثات کے شکار ہونے والے بچوں اوربڑوں کے گھٹنوں کو شدید زخم آتے ہیں اور بعض لوگ ہمیشہ کے لئے معذور بھی ہو جاتے ہیں۔ چکوئی چھوٹا ہو یا بڑا مونہہ توڑ دینے کی بات کرتا ہے۔ کسی دشمن سے واسطہ پڑ جائے تو اس کو مونہہ توڑ جواب دیا جاتا ہے۔ جو شرارتی بچے ہمسایوں کے گھر کی گھنٹی بجا کر بھاگ جاتے ہیں، ان کو ڈانٹنے کے لئے متاثرہ محلے دار کہہ اٹھتا ہے کہ آئندہ کوئی گھنٹی بجا کر بھاگتا نظر آیا تو اس کی ٹانگیں توڑ دونگا۔
ٹانگوں میں کلیدی کردار گھٹنوں اور پیروں کا ہوتا ہے۔ عمومآ عمر رسیدہ لوگوں کی کمر خمیدہ اور گھٹنے بوسیدہ ہو کر کسی کام کے نہیں ریتے۔ ایسے میں چلنا پھرنا دو بھر ہو جاتا ہے۔ تب کسی کو اپنے گھٹنوں پہ آ ختیار نہیں رہتا۔ اس لئے وار آنکھوں پہ ہوں پر یہ بار بار پھوٹتے رہتے ہیں اور جب گھٹنے پھوٹنے ہیں تو مضروب کو پھوٹ پھوٹ کر رونا آتا ہے۔ تب جری سے جری مردان آہن بھی تکلیف کے آگے جلد گھٹنے ٹیک دیتے ہیں۔ جہاں تک ٹانگوں سے متصل پاؤں کا تعلق ہے تو ان سے بڑے کام لئۓ جاتے ہیں۔ ضرورت پڑ جاۓ تودوسروں کے پآؤں پڑ کے اپنا مطلب نکالا جا سکتا ہے۔ لیکن ہمارے نزدیک پاؤں کا سب سے افضل کام یہ ہوتا ہے کہ سب بچے اپنے ماں باپ کے پاؤں دھو دھو کر پئیں اور آخرت میں ماجور ہوں ۔ خاص طور پر سب کو چاہئے کہ اپنی ماں کے پاؤں ضرور دبائیں کیونکہ ان کے پاؤں تلے جنت ہوتی ہے۔ صفائی پسند لوگ بچوں کو ننگے پاؤں پھرنے سے منع کرتے ہیں۔ بچے نہ بات نہ سنیں تو مجبورآ انہیں جوتوں سے مار پڑتی ہے، اور پھر مار کھانے والا بچہ وہی جوتا پہن کر فرماں بردار بچہ بن جاتا ہے۔ لیکن یہاں ایک مسئلہ ہے اور وہ یہ کہ اگر بچوں کی آپس میں لڑائی ہو جاۓ تو جوتے اتار کر لڑیں وگرنہ جوتم پیزار لاحق ہو سکتی ہے۔
پاؤں اور پیروں کا سر اور دماغ سے گھرا تعلق ہوتا پے۔ اگر گہرے پانی میں اترنا ہو تو دمغ حفاظتی اقدام ضرور کرتا ہے ورنہ ڈوبنے کا خطرہ ہوتا ہے۔ پھر ڈوبتے کو تنکے کا سہارا بھی نہیں ملتا اور نہ یہ کہنے کی مہلت ملتی ہے کہ بول میری مچھلی کتنا پانی۔ اس لئے ہمارا مشورہ ہے کہ پانی میں پاؤں رکھنے سے پہلے دس بار سوچ لینا چاہئے۔ ویسے گہرے پانی میں بڑے مگر مچھ بھی ہوتے ہیں۔ کہیں وہ نظر آ جائیں تو سر پر پاؤں رکھ کر بھاگ جائیں۔ ورنہ زندگی کے بھاگ پھوٹ جائیں گے۔ خوبصورتی کے دل دادہ لوگ مورنی کو ناچتے دیکھ کر بہت خوش ہوتے ہیں لیکن ان کے پاؤں دیکھ کر ان کا دل مرجھا جاتا ہے کیونکہ مورنی بھی انہیں دیکھ کر رو رہی ہوتی ہے۔ کہتے ہیں کہ جب کوئی جنگ ہو رہی ہوتی ہے تو چھوٹی بڑی طاقت کا سوال نہیں ہوتا ہے بلکہ جسکی بہتر حکمت عملی ہو اس کے دشمن کے پاؤں اکھڑ جاتے ہیں۔۔ آخری بات یہ ہے کہ ہمیں لکھتے لکھاتے پچاس سال سے زائد ہو چکے ہیں، اکثر احباب علم و ادب ہم سے پوچھتے ہیں کہ ابھی تک آپکی کوئی کتاب منظر عام پر کیوں نہیں آ سکی؟ تو ہمارا جواب یہ ہوتا ہے کہ ابھی تک تو کسی کو اس پوت کے پاؤں پالنے میں نظر نہیں آۓ۔ شائد ہم نے ابھی تک میدان ادب میں پاؤں پاؤں چلنا نہیں سیکھا۔ ہم تو فقط دبستان کے طفل مکتب ہیں بڑے کب ہونگے؟
ٹانگوں، گھٹنوں اور پاؤں کا میل جول/تحریر/محمد کوکب جمیل ہاشمی
ڈاکٹر زری اشرف اور مزاح نگاری/تحریر/ابوذر علی